راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل: چھوٹے سرمایہ کار اور اپنے گھر کا خواب دیکھنے والے شہری جنھیں ’زندگی بھر کی کمائی‘ لٹنے کا خوف ہے

،تصویر کا ذریعہRawalpindi Development Authority
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ناصرہ بی بی (فرضی نام)، جو ایک بیوہ خاتون ہیں، ایسے سینکڑوں افراد میں شامل ہیں جنھوں نے کچھ عرصہ قبل اپنی جمع پونجی اکھٹی کر کے راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے سے متصل ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں پانچ مرلے کا رہائشی پلاٹ حاصل کیا تھا۔
انھوں نے یہاں پلاٹ لینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر یہ تشہیر کی گئی کہ یہ سوسائٹی مجوزہ راولپنڈی رنگ روڈ سے متصل ہے۔ مگر کچھ عرصہ قبل اس منصوبے کے حوالے سے سامنے آنے والے سکینڈل کے بعد ناصرہ کی راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں کیونکہ انھیں خدشہ لاحق ہے کہ کہیں وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی سے ہاتھ تو نہیں دھو بیٹھیں گی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حال ہی میں محکمہ تعلیم سے ریٹائر ہوئی ہیں۔ دوران ملازمت انھیں راولپنڈی میں سرکاری گھر ملا ہوا تھا لیکن ریٹائرمنٹ کے چھ ماہ بعد انھیں گھر خالی کرنا پڑا اور اب وہ ایک کرائے کے گھر میں رہتی ہیں۔
ناصرہ بی بی کے مطابق انھوں نے پانچ مرلے کے پلاٹ کے عوض ساڑھے چھ لاکھ کی ڈاؤن پیمنٹ جمع کروائی تھی جبکہ باقی 20 لاکھ روپے چار سال کی آسان اقساط میں ادا کرنے ہیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ اِس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد انھوں نے اس سوسائٹی کے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے اور انھوں نے اس امر کی یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی رقم کہیں نہیں جا رہی ہے اور یہ کہ اُن کو پلاٹ ضرور ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب انتظامیہ سے ڈاؤن پیمنٹ کی واپسی کا تقاضا گیا گیا تو انکار کر دیا گیا۔
’میڈیا پر اس سکینڈل کے حوالے سے جو خبریں چلتی ہیں اس کے بعد میرے ذہن میں بے یقینی کی سی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ کس کی بات پر یقین کیا جائے۔۔۔ میرے پاس انتظار کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رِنگ روڈ معاملہ ہے کیا؟

راولپنڈی رنگ روڈ کا مبینہ سکینڈل اُس وقت سامنے آیا جب مقامی میڈیا پر یہ خبریں نشر ہوئیں کہ بااثر افراد کے کہنے پر اس منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کر دی گئی ہے جس کا مبینہ مقصد اس منصوبے کے ارد گرد موجود نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانا تھا۔
اس کیس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اس پر اٹھنے والے اضافی اخراجات کا تخمینہ 25 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
یہ خبریں سامنے آنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان نے تحقیقات کا حکم دیا اور کمشنر راولپنڈی ڈویژن کی سربراہی میں بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اس منصوبے کے چند کرداروں کی نشاندہی کی، جس میں اگرچہ کسی سیاسی شخصیت کا براہ راست ذکر تو نہیں ہے لیکن لینڈ مافیا اور چند ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔
زلفی بخاری پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے اور اُن کا نام کلیئر ہونے تک وہ کوئی سرکاری عہدہ قبول نہیں کریں گے جبکہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کا کسی لینڈ مافیا سے کوئی تعلق ہے۔
راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے کے ڈیزائن میں مبینہ طور پر تبدیلی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد جن علاقوں سے یہ رنگ روڈ گزرنی تھی وہاں پر موجود ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار اور پھر وہاں پر سرمایہ کاری کرنے والے ہزاروں افراد ابھی تک مخمصے کا شکار ہیں کہ ان کی اربوں روپے کی سرمایہ محفوظ بھی ہے یا نہیں۔
پنجاب کے انسداد رشوت ستانی کے محکمے نے اس ضمن میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، اس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے اور نیب نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
پنجاب کے انسداد رشوت ستانی کے محکمے کے ایک اہلکار کے مطابق روالپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے میں تبدیلی کے بعد جب اس میں 19 کلومیٹر کا اضافہ کرکے ضلع اٹک کا بھی کچھ حصہ شامل کیا گیا اور اس کو اٹک لُوپ کا نام دیا گیا تو اس حصے میں اب تک کے حاصل کردہ ریکارڈ کے مطابق 15 سے زائد نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی گئیں جن کی تشہر اس منصوبے کے پس منظر میں کی گئی۔
اہلکار کے مطابق ’صرف ان 15 نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کے پاس 55 ہزار کنال سے زیادہ کی اراضی ہے۔’

ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سرمایہ کاری کرنے والے پریشان
محمد اعظم بھی ایسے سرمایہ کاروں میں سے ہیں جنھوں نے بہتر منافع حاصل کرنے کے لیے ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں دو سو کے قریب پلاٹوں کی فائلیں خریدی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ رنگ روڈ منصوبے کا سکینڈل منظر عام پر آنے سے تین ہفتے قبل انھوں نے ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کمرشل اور رہائشی پلاٹوں کی فائلیں ڈاؤن پیمنٹ پر خریدی تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پانچ مرلہ رہائشی پلاٹ کی فائل ڈاؤن پے منٹ پر تین سے پانچ لاکھ روپے کی مل رہی تھی جبکہ کمرشل پلاٹ 20 سے 25 لاکھ روپے ڈاؤن پیمنٹ پر مل رہا تھا۔
اعظم کے مطابق اس علاقے میں واقع سوسائٹیز میں تین اور پانچ مرلے کمرشل پلاٹ کی قیمیت ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے تک تھی اور کمرشل پلاٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار بھی وہی تھا جو کہ رہائشی پلاٹ حاصل کرنے کا ہے۔
محمد اعظم کے مطابق سکینڈل منظر عام پر آنے سے پہلے فائلوں کی خریدو فروخت میں بڑی تیزی تھی لیکن گذشتہ چند روز سے نہ صرف ان پلاٹوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ اب فائلوں کی خرید و فروحت میں گاہکوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب تو حالت یہ ہے کہ جس قمیت پر انھوں نے فائلیں خریدی تھیں ابھی اتنی قیمت بھی نہیں مل رہی ہے۔
محمد اعظم کا کہنا ہے کہ ان جیسے سینکڑوں سرمایہ کاروں نے ان سوسائٹیز میں سرمایہ کاری کی ہے لیکن چھوٹے سرمایہ کار جن کے پاس سرمایہ زیادہ نہیں ہے وہ اس غیر یقینی صورتحال سے پرشان ہیں اور وہ اب اس کوشش میں ہیں کہ جس قمیت پر انھوں نے فائلیں خریدی تھیں کم از کم وہی رقم ہی ان کو واپس مل جائے۔
انھوں نے کہا کہ ان سوسائٹیز کو کام کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اگرچہ این او سی تو مل چکا ہے لیکن سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد خریداروں کا اعتماد بحال ہونے میں ایک عرصہ درکار ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
موجودہ اراضی سے زیادہ فائلوں کی فروخت
کوآپریٹو سوسائٹیز رجسٹرار آفس کے اہلکار کے مطابق ان کے دفتر کو متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ریکارڈ میں ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے پاس جتنی زمین ہے وہ اس سے کئی گنا زیادہ فائلوں کو فروخت کر چکے ہیں۔
اس بات کی نشاندہی راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے میں مبینہ تبدیلی سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ان ہاؤسنگ سوسائٹیز نے آن لائن نہ صرف اپنی تشہیر کی بلکہ جتنی زمین پر انھوں نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی ہے اس سے کہیں زیادہ زمین کی فائلیں اب تک وہ فروخت کر چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں ایف آئی اے اور ایف بی آر سے کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کریں کہ کیسے انھوں نے مقررہ زمین سے زیادہ زمین فروحت کی ہے۔‘
حکام کے مطابق اب تک کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق رنگ روڈ کے منصوبے میں تبدیلی کر کے اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کو فائدہ پہنچایا گیا اور اس حوالے سے جن اہم سیاسی شخصیات کا نام لیا جا رہا ہے وہ اس وقت حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ حزب مخِالف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔
محکمہ انسداد رشوت ستانی کے اہلکار کے مطابق اس منصوبے میں مبینہ طور پر تبدیلی کے بعد جن پندرہ سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ذکر کیا گیا ہے اس کے علاوہ رنگ روڈ کے قریب دیگر ایک درجن سے زائد ہاؤسنگ سوسائٹیز نے ان کے نام جو زمین ہے اس سے کہیں زیادہ فائلوں کو فروخت کر دیا ہے۔
اہلکار کے مطابق رنگ روڈ منصوبے میں تبدیلی کے بعد ان نجی ہاوسنگ سوسائٹیز نے پانچ انٹرچینج کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات خود اٹھانے کی حامی بھری تھی کیونکہ ان انٹرچینجز کی وجہ سے ان کے کاروبار میں اضافہ متوقع تھا۔
اہلکار کے مطابق ایک اندازے کے مطابق ان انٹرچینجز پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ دس ارب روپے سے زیادہ کا لگایا گیا تھا۔ اگرچہ ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تھوڑی سی سڑکیں بننے کے علاوہ ابھی تک قابل ذکر ترقیاتی کام نہیں ہوئے لیکن ان کی ہونے والے ترقیاتی کام سے کہیں بڑھ چڑھ کر تشہیر کی گئی۔
رنگ روڈ منصوبے کے سکینڈل کے منظر عام آنے کے بعد ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں فائلوں کی خریدو فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور اپنا گھر ہونے کا خواب سجانے والے افراد غیر یقینی کا شکار ہیں۔
رنگ روڈ منصوبے کا پس منظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے کے بارے میں سنہ 1997 میں ہوم ورک شروع کیا گیا تھا لیکن سنہ 2017 میں اس وقت کی حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اس منصوبے کی فزیببلٹی رپورٹ تیار کی تھی جس کے مطابق اس سڑک کی لمبائی 37 کلومیٹر جبکہ لاگت کا تخمینہ 40 ارب روپے کا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آنے کے بعد اس منصوبے کا ڈیزائن تبدیل کرتے ہوئے اس منصوبے میں 29.5 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد اب اس کی لمبائی 66.5 کلومیٹر اور لاگت کا تخمینہ 60 ارب روپے سے زیادہ ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد جب راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کی تیاری کی گئی تو اس سے پہلے جن علاقوں میں اس رنگ روڈ نے گزرنا تھا وہاں پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی پہلے سے ہی بھرمار کر دی گئی، جس میں لینڈ مافیا کے علاوہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی مبینہ طور پر ملوث ہیں۔
راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے ماتحت ادارے کوآپرٹیو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے معاملات کی نگرانی کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق گذشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں ہاؤسنگ سوسائٹیز نے اپنے دفاتر ان جگہوں پر کھول لیے جہاں پر ممکنہ طور پر رنگ روڈ نے گزرنا تھا۔
اہلکار کے مطابق ان ہاؤسنگ سوسائٹیز میں نوا سٹی کے علاوہ بلیو ورلڈ کیپیٹل سمارٹ سٹی، پارک ویو سٹی، لائف ریزیڈنسی، ٹاپ سٹی اور روڈن انکلیو شامل ہیں۔ ان میں سے جو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سب سے آخر میں لانچ ہوئی وہ نوا سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے جو کہ دو ماہ پہلے معرض وجود میں آئی تھی۔
اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی تعمیر کے لیے این او سی جاری کر دیا کیونکہ اس سوسائٹی کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ نیو اسلام آباد ائرپورٹ کے فنل ایریا کے قریب واقع ہے۔
وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور حان دعویٰ کر چکے ہیں کہ اس سوسائٹی کو سول ایوی ایشن اتھارٹی سے این او سی دلانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے غیر قانونی طور پر زمین بھی خریدی اور منصوبے کی الائنمٹ میں غیر قانونی طور پر تبدیلی بھی کی۔
اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’راولپنڈی ڈویژن کے سابق کمشنر اور دیگر افسران نے مبینہ طور پر رنگ روڈ منصوبے میں بااثر سیاستدانوں اور مفاد پرست گروپس کے کہنے پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے دوبارہ حد بندی کی۔‘
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق کمشنر کے بھائی جو کہ فوج سے ریٹائرڈ ہوئے تھے ان کے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ساتھ تعلقات رہے ہیں۔ نوا سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کی زیادہ تر زمین ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ میں ہے لیکن انھوں نے اپنی سوسائٹی کا نام نوا سٹی اسلام آباد رکھا ہوا ہے۔
اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے بارے میں فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب اس سوسائٹی کو کام کرنے کے لیے عبوری حکمنامہ جاری کیا گیا تو اس کے فوری بعد ہی انھوں نے پلاٹوں کی فائلیں فروخت کرنا شروع کر دی تھیں۔
مقامی فراد سے اراضی کے حصول میں دھوکہ دہی کے الزامات
اس مبینہ سکینڈل میں ایک ایسا کردار بھی سامنے آیا ہے جس کا کہنا ہے کہ ان سے سینکڑوں کنال اراضی یہ کہہ کر سرکاری ریٹ پر خریدی گئی کہ ان کی زمین رنگ روڈ کے منصوبے میں آرہی ہے لیکن بعد میں یہ زمین ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فروخت کردی گئی۔
راجہ محمد ایوب : متاثرہ شخص
راجہ محمد ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد راولپنڈی اور اٹک کی تحصیل فتح جنگ کے سنگم پر صدیوں سے رہ رہے ہیں اور وہ کھیتی باڑی کر کے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ ان کی زمین راولپنڈی رنگ روڈ کے منصوبے میں آئی ہے لہٰذا قومی مفاد کے پیش نظر وہ یہ زمین سرکار کو دے دیں۔
راجہ محمد ایوب کے مطابق موضع جنگل، جو کہ مورت انٹرچینج کے پاس واقع ہے، میں ان کی 385 کنال اراضی جو کہ ان کی اور ان کے رشتہ داروں کی تھی وہ سرکار نے ان سے خرید لی اور ضلعی انتظامیہ نے 65 کروڑ روپے کا چیک ان کو تھما دیا۔
انھوں نے کہا کہ کچھ عرصے کے بعد یہ بات ان کے نوٹس میں آئی کہ ان سے سرکاری ریٹ پر خریدی جانے والی زمین پر ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی نے پلاٹ بنا کر ترقیاتی کام شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کنال زمین کی قمیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
محمد یواب کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ معاملہ ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن انھیں اس بارے میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ جس ہاؤسنگ سوسائٹی کو ان کی زمین دی گئی ہے ان کی طرف سے انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

محمد عزیز کیانی : متاثرہ شخص
محمد عزیز کیانی بھی ایسے کرداروں میں سے ایک ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کی زمین چک بیلی روڈ پر واقع ہے اور رنگ روڈ کے منصوبے کے نقشے میں تبدیلی کر کے ان کی زمینوں سے رنگ روڈ کو گزارا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس نقشے میں تبدیلی کر کے زرعی زمین کو اس منصوبے میں شامل کیا گیا جبکہ اس سے قبل سنہ2017 میں جو اس منصوبے کا نقشہ تیار کیا گیا تھا اس میں زیادہ تر بنجر زمین تھی۔
انھوں نے کہا کہ جس جگہ پر ان کی زمین ہے وہاں پر مارکیٹ ریٹ دو کروڑ روپے فی کنال ہے جبکہ انھیں سرکاری ریٹ پر ڈیڑھ لاکھ روپے فی کنال کے حساب سے زمین کی قمیت ادا کی گئی۔
عزیز کیانی کے مطابق ان کی 50 کنال اراضی ڈیڑھ لاکھ روپے کے حساب سے خریدی گئی، جس پر انھوں نے احتجاج کیا جس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ راولپنڈی کے سابق کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام نے زمینوں کی خریداری کے مد میں دو ارب روپے اور تیس کروڑ سے زیادہ کی رقم غیر قانونی طور پر خرچ کی ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بااثر سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کو فائدہ پہنچانے کے لیے منصوبے میں اٹک لوپ اور پسوال زگ زیگ شامل کیا گیا اور منصوبے میں اس تبدیلی کو عوامی ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا۔
اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود نے متعقلہ افسران سے مل کر رنگ روڈ منصوبے کی غیر قانونی بولی بھی تیار کی اور پنجاب اور وفاقی حکومت کو حقائق سے متعلق مکمل اندھیرے میں رکھتے ہوئے منصوبے کی غیر قانونی طور پر تشہیر کی گئی۔
اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے گذشتہ ماہ اس منصونے کی تعمیر کے لیے بولی کے لیے دیے گئے ٹینڈر کو منسوخ کر دیا تھا۔
ایف آئی اے کیا کر رہی ہے؟

،تصویر کا ذریعہHuw Evans picture agency
وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے میں جن ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ذکر کیا گیا ہے ان کے بارے میں چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر اسلام آباد زون وقار چوہان کو اعلیٰ حکام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس ضمن میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔
ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم ان سوسائٹیز کے مالکان کے اثاثوں کی چھان بین کے علاوہ سوسائٹی کی طرف سے حاصل کی جانے والی زمین اور اوریجنل زمین سے زیادہ فائلیں فروخت کرنے کے معاملات کا بھی جائزہ لیں گی۔
واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نیب نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
پنجاب کے انسداد رشوت ستانی کے محکمے کے علاوہ ایف آئی اے اور نیب جیسے ادارے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کے سکینڈل کی الگ الگ تحقیقات کرر ہے ہیں لیکن متاثرین کو ان اداروں پر یقین نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سکینڈل کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں اور سپریم کورٹ کا ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تنظیم کا مؤقف
ان نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ان کا مؤقف حاصل کیے بغیر رپورٹ تیار کی گئی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان رئیلیٹرز ایسوسی ایشن کے صدر سردار طاہر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس رپورٹ کی تیاری میں ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن کا راولپنڈی رنگ روڈ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سردار طاہر کا کہنا تھا کہ اگر تفتیشی ادارے ان سے رابطہ کریں گے تو وہ ضرور اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
سردار طاہر کا کہنا تھا کہ وہ خود ایک سوسائٹی کے مالک ہیں اور ان کی سوسائٹی کا کچھ حصہ فتح جنگ روڈ پر واقع وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے فریڈم فارم ہاؤس کے قریب سے گزرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے وفاقی وزیر سے ڈیڑھ سو کنال اراضی چند ماہ پہلے خریدی ہے جس کا ریکارڈ ان کے بقول ریوینیو ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے۔












