'بلین ٹری سونامی منصوبے میں بے قاعدگیوں کا انکشاف'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکومت کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور مجموعی طورپر جنگلات کا رقبہ بڑھانے کےلیے پہلی دفعہ شروع کی گئی 'بلین ٹری سونامی' منصوبے کے آڈٹ رپورٹ میں وسیع پیمانے پر بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی طرف سے مالی سال 2014 -15 کے لیے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے میں پودوں کے حصول کےلیے ٹھیکے مبینہ طورپر میرٹ کے برعکس دیے گئے جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
آڈٹ رپورٹ کے میں کہا گیا ہے کہ مالی سال ڈی ایف او سوات کے دفتر سے معلوم ہوا کہ نجی نرسریوں کے قیام کے لیے 40 لاکھ نوے ہزار روپے جاری کیے گئے جس میں 25 فیصد رقم پیشگی ادا کی گئی۔ لیکن مقررہ وقت گزرنے کے باوجود نرسریوں کے قیام میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی جبکہ پیشگی رقم دینے کے لیے بھی کوئی ضمانت نہیں لی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نرسریوں کی موجودگی کے بارے میں یہ جانچ پڑتال بھی نہیں کی گئی کہ اصل میں نرسریاں وجود رکھتی بھی ہیں کہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈی ایف او سوات کے دفتر سے معلوم ہوا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت نرسریوں کےلیے کرائے پر حاصل کی گئی زمین زیادہ قیمت پر لی گئی جس پر آڈٹ رپورٹ میں اعتراض بھی اٹھایا گیا اور اسے میرٹ کے برعکس قرار دیا گیا ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منصوبے کے پی سی ون میں نرسریوں کے قیام کےلیے فی کنال زمین کرائے پر حاصل کرنے کےلیے چھ ہزار روپے کی منظوری دی گئی لیکن یہ زمین بجائے چھ ہزار روپے کے دس سے پندرہ ہزار روپے فی کنال پر لی گئی جس سے قومی خزانے کو تقریباً تیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت محکمہ جنگلات کے ایک مقامی دفتر کو تقریباً چار کروڑ 35 لاکھ روپے جاری کیے گئے جس میں تقریباً دو کروڑ بارہ لاکھ روپے ڈیلی ویجز مزدوروں کو ادا کیے گئے جبکہ باقی ماندہ رقم یوتھ نرسریوں کے قیام پر خرچ کیے گئے۔ آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مزدوروں کو اتنی بڑی رقم ادا کرنا خلاف قانون تھا۔
اس کے علاوہ آڈٹ رپورٹ میں محکمہ جنگلات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ ڈرافٹ آڈٹ رپورٹ کبھی بھی مصدقہ نہیں ہوتی بلکہ اس پر بحث کی جاسکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو پشاور میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی کئی مرتبہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاسوں کی سربراہی کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق ان آڈٹ رپورٹوں میں کبھی کسی کرپشن کی بات نہیں ہوتی بلکہ ان میں بے قاعدگیوں کا تذکرہ ہوتا ہے جس کو تفصیلاً پڑھنے کے بعد معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ یہ رپورٹ کیسی شائع ہوئی کیونکہ قانون کے مطابق ڈرافٹ رپورٹ کو کبھی بھی شائع نہیں کیا جاسکتا تاہم یہ کام جس نے بھی کیا ہے صوبے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبہ سب کے سامنے ہے اور اس سلسلے میں جو کام ہوا ہے اسکی دنیا کے تمام بڑے بڑے ادارے تعریف کرچکے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ بلین سونامی منصوبے کے تحت جن مقامات پر درخت لگائے گئے ہیں وہاں ہر کوئی جاکر دیکھ سکتا ہے کہ اگر درخت لگے ہوئے نہیں ملے تو وہ ہرقسم کی سزا بھگتنے کےلیے تیار ہیں۔
خیال رہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبہ تحریک انصاف حکومت کے پہلے دور میں شروع ہوا۔ حکومت کا دعوی ہے کہ اس منصوبے کے تحت صوبہ بھر میں تقربناً ایک ارب کے قریب درخت لگائے گئے۔
بلین ٹری سونامی منصوبے کےلیے سنہ 2013 میں ٹاسک فورس بنائی گئی تھی ۔ تاہم اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز 2015 میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کیا تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماحولیات پر تحقیق کرنے والی عالمی ادارے آئی یو سی این نے گزشتہ سال جاری اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا تھا کہ خیبر پختونخوا ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں گذشتہ کچھ سالوں کے دوران وسیع پیمانے پر شجرکاری کی گئی ہے۔









