سوات کا مالم جبہ سکی ریزوٹ عدالتی حکم کے بعد بند: ’سیاح فی الحال یہاں آنے سے گریز کریں‘

مالم جبہ سکی ریزوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ سکی ریزوٹ کو پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کے حکم کے بعد سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

حکومتی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ سکیم کے تحت قائم مالم جبہ سکی ریزوٹ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ کی جانب سے ریزوٹ میں فی کس داخلہ فیس 300 روپے وصولی پر لگائی گئی عارضی پابندی کے بعد اپنی تمام سرگرمیوں کو بند کر رہی ہے۔

مالم جبہ سکی ریزوٹ کے لیگل ایڈوائزر محمد طاھر قاسمکا نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت کی جانب سے فیس وصولی پر عائد کردہ عارضی پابندی کے بعد ریزوٹ انتظامیہ کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ ریزوٹ کے اخراجات کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے تقریباً پانچ سو ملازمین کی تنخواہیں ادا کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس وجہ سے فی الحال ہم عدالت کے حکم کا احترام کرتے ہوئے اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں۔ جس میں چیئر لفٹ، ہوٹل اور دیگر سیاحتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس لیے سیاح فی الحال مالم جبہ سکی ریزوٹ آنے سے گریز کریں۔‘

یہ بھی پڑھیے

مالم جبہ سکی ریزوٹ

،تصویر کا ذریعہSaeed-ur-Rehman

،تصویر کا کیپشنمالم جبہ سکی ریزوٹ کا مرکزی داخلی دروازہ جسے عدالتی حکم کے بعد سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے

مالم جبہ سکی ریزوٹ کے خلاف درخواست میں کیا ہے؟

پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ میں اختر منیر ایڈووکیٹ کی جانب سے مالم جبہ سکی ریزوٹ کے خلاف ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ کا مرکزی دروازہ غیر قانونی طور پر اپنی حدود سے باہر صوبائی محکمہ جنگلات اور سی اینڈ ڈبلیو کی سڑک پر لگایا گیا ہے اور عوام سے تین سو روپے کی مد میں جو داخلہ فیس وصول کی جاتی ہے وہ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں بھی ماند پڑتی ہیں۔

اختر منیر ایڈووکیٹ کے مطابق انھوں نے اپنی پیٹیشن میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’مالم جبہ سکی ریزوٹ کا گیٹ غیر قانونی ہے جبکہ خطے کے مقامی افراد کے روزگار اور کاروبار کا واحد ذریعہ سیاحوں کے لیے قائم کردہ چھوٹے ہوٹل، کھوکھے اور ریستوران ہیں جہاں پر سستے داموں کھانے پینے کی اشیا دستیاب ہو جاتی تھی۔ اس کو بھی مالم جبہ سکی ریزوٹ نے بند کر دیا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 212 کی خلاف ورزی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اسی طرح آئین کے آرٹیکل نو کے تحت اگر کسی سیاحتی مقام پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی نہ ہو تو وہاں پر جانے سے کسی بھی سیاح اور مقامی شخص کو نہیں روکا جا سکتا۔‘

اختر منیر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ’ہم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ انتظامیہ اپنے قائم کردہ ہوٹل، چیئر لفٹ اور دیگر سہولتوں پر کوئی فیس وصول کرتی ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر وہ اس حدود میں داخلے کے لیے فیس وصول کرنے کی مجاز نہیں اور اس پر پابندی لگائی جائے۔‘

اختر منیر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ رٹ پیٹیشن کو پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بینچ نے سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے مالم جبہ سکی ریزوٹ میں فی کس تین سو روپے داخلہ فیس پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

مالم جبہ سکی ریزوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مالم جبہ سکی ریزوٹ کی انتظامیہ کیا کہتی ہیں؟

مالم جبہ سکی ریزوٹ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ میں حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے کے تحت قائم کردہ سیاحتی سرگرمیوں کا ایک مقام ہیں جہاں سیاحوں کے لیے چیئر لفٹ، ہوٹل، ریستوران سمیت دیگر سہولیات ہیں۔

اس سیاحتی منصوبے کی مالک سیمسنز گروپ آف کمپنی ہے۔ اس کمپنی کے قانونی مشیر محمد طاھر قاسمکا کا کہنا تھا کہ ’ہماری کمپنی نے حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 275 ایکٹر زمین 33 سال کی لیز پر حاصل کی تھی۔ جس میں حکومت کو ہر سال تقریباً دو کروڑ روپے لیز کرائے کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں۔‘

محمد طاھر قاسمکا کا کہنا تھا کہ ’ہماری کمپنی اب تک اس منصوبے پر تقریباً تین سو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ حکومت کے ساتھ ہمارا معاہدہ تھا کہ ہم فائیو سٹار ہوٹل، چئیر لفٹ سمیت سیاحوں کی دلچسپی کے لیے دیگر 16 قسم کی سہولتیں فراہم کریں گے اور وہ سب سہولتیں تقریباً فراہم کر دی گئی ہیں۔‘

مالم جبہ سکی ریزوٹ

،تصویر کا ذریعہMuhammad Tahir Qasimqa

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سیاحتی منصوبے کا آغاز انتہائی مشکل حالات میں اس وقت کیا گیا تھا جب سوات میں کوئی داخل بھی نہیں ہوتا تھا۔ ہماری کمپنی نے صرف سرمایہ کاری ہی نہیں کی بلکہ پوری دنیا کو پیغام دیا کہ سوات اور پاکستان پرامن خطہ ہونے کے علاوہ سرمایہ کاری اور سیاحوں کے لیے بھی محفوظ ہے۔‘

محمد طاھر قاسمکا کا کہنا تھا کہ سوات اور پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے کئی بین الاقوامی تقریبات، سیمینار کروائے گے جن میں مختلف بین الاقوامی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اب ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے سوات کا رخ کرنا شروع کیا ہے۔ جس کا اعتراف خود حکومت بھی کرتی ہے مگر اس کے باوجود ہمیں کئی قسم کے مسائل کا سامنا رہا، جس میں حکومتی اداروں کے درمیاں چپقلش کا خمیازہ ہمیں بھاری نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب سے ہمارے فائیو سٹار ہوٹل نے کام شروع کیا ہے۔ اس وقت سے مالم جبہ میں دس نئے اور جدید ہوٹل قائم ہوئے ہیں۔ ہماری سرمایہ کاری کے بعد علاقے میں روزگار کے نئے مواقع ملے ہیں۔‘

محمد طاھر قاسمکا کا دعویٰ ہے کہ مالم جبہ ریزوٹ میں اوسطاً یومیہ ایک ہزار سیاح آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’حکومت کے ساتھ معاہدے کی شق اٹھارہ میں یہ شامل ہے کہ ریزوٹ کی حدود میں داخلے کی فیس وصول کی جائے گئی۔ اس فیس کے عوض ہم سیاحوں کو سیکورٹی کے علاوہ بیت الخلا، تفریح کی جگہ، صفائی ستھرائی، مفت طبی سہولت سمیت دیگر سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ میں پانچ سو افراد کا عملہ کام کر رہا ہے۔ جن میں اکثریت سوات کے مقامی افراد کی ہے۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عدالت کی جانب سے مالم جبہ سکی ریزوٹ کی داخلہ فیس پر پابندی سے یہاں کام کرنے والے افراد کا روزگار خطرے میں پڑ چکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اب اتنی بھاری سرمایہ کاری اور نقصان اٹھانے کے بعد فیس پر بھی عدالتی پابندی لگنے کے بعد ہم اس کا انتظام چلانے کے قابل نہیں رہے۔‘

محمد نسیم مالم جبہ سکی ریزوٹ میں بحثیت سیکورٹی گارڈ خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ پہلے تک وہ گھر سے دور، کم تنخواہ پر پشاور میں سیکورٹی گارڈ کی خدمات انجام دیتے تھے۔

’جب سے مجھے مالم جبہ سکی ریزوٹ میں ملازمت ملی ہے اس وقت سے زندگی پر سکون ہو گئی۔ اب مالم جبہ سکی ریزوٹ بند کر دیا گیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس مہینے کی تنخواہ تو ملے گی مگر اس کے بعد کیا ہو گا اس بارے میں کچھ پتا نہیں ہے۔‘

سیاحت سے سوات کا روزگار

مالم جبہ سکی ریزوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کورونا وبا کے باوجود 18 لاکھ سیاحوں نے سوات کا رخ کیا تھا۔ جس میں ایک بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سیاحوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے خطے میں مزید ہوٹلوں کے لائنس جاری کیے گئے ہیں۔ سیاحت کے کاروبار سے وابستہ افراد کے اندازوں کے مطابق سوات جانے والا ہر پاکستانی سیاح اوسطاً 20 سے 25 ہزار جبکہ ہر غیر ملکی سیاح اوسطاً 50 ہزار روپے خرچ کرتے ہیں۔

سوات سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن صوبائی اسمبلی عزیز اللہ کا کہنا تھا کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ جیسے منصوبوں کے بند ہونے یا ان کی جانب سے مشکلات کی شکایات سے سوات میں سیاحت کی ترقی کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ جس کی نئی تاریخ 21 اپریل مقرر ہوئی ہے۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اس کا جتنی جلدی ممکن ہو سکے حل تلاش کر لیا جائے۔‘

عزیز اللہ کا کہنا تھا کہ اب آہستہ آہستہ سوات کے لوگوں کا بڑا ذریعہ روزگار سیاحت بن رہا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس چیز سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ موسم سرما کے دوران مینگورہ شہر میں کسی ہوٹل میں کمرہ نہیں ملتا تھا۔

واضح رہے کہ مینگورہ مالم جبہ سے 40 کلومیٹر دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ جیسے منصوبے درحقیقت غیر ملکی سیاحوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ بالواسطہ اور بلاواسطہ سیاحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔

’حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ وہ نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر کے انھیں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پر ترغیب دے۔ جس کے لیے سرمایہ کاروں کو اعتماد کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی دیا جائے گا۔‘

سیاحوں کو مایوسی کا سامنا

ملک کے دیگر شہروں سے مالم جبہ پہنچنے والے متعدد سیاحوں کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب انھیں یہ علم ہوا کہ مالم جبہ سکی ریزوٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

ایسی ہی ایک سیاح عنبر شاہ اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور سے مالم جبہ پہنچی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اور بچوں کو مالم جبہ سکی ریزوٹ بند ہونے سے بہت مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم لوگ تو مالم جبہ سکی ریزوٹ ہی آئے تھے۔‘

عنبر شاہ کا کہنا تھا کہ کسی سیرگاہ میں داخلے کی فیس ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ دنیا بھر میں سیاحتی مقامات پر اسی طرح ہوتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کوئی درمیانی راستہ نکالے جس میں مقامی لوگوں کو مفت یا کم فیس کی بنا پر داخلے کی اجازت ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مالم جبہ سکی ریزوٹ جیسے مزید منصوبے بھی بننے چاہیں تاکہ ملک میں سیاحت کو فروغ اور سیاحوں کو سہولیات مل سکیں۔‘

تاہم مقامی شخص نصیر اللہ کا انتظامیہ کی جانب سے مالم جبہ سکی ریزوٹ میں داخلے کی فیس پر کہنا تھا کہ ’ہم لوگوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ہمارے علاقے ہی میں ہمیں موجود قدرتی نظاروں سے محروم کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس تین سو روپے نہیں کہ ان کو دے کر اس حدود میں داخل ہو سکیں یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔‘