بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار کی فائرنگ سے چھ ساتھی اہلکار ہلاک، سات زخمی

سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہAFP

بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے کم از کم چھ ساتھی اہلکاروں کو ہلاک اور سات کو زخمی کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’سکیورٹی فورسز کے یہ افراد اپنے ہی ایک ساتھی اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

ایف سی ذرائع نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے سکیورٹی فورس کے اہلکار کی جانب سے ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے محرکات نہیں بتائے۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ضلع کیچ میں دشت کے علاقے بل نگور میں پیش آیا۔

یہ بھی پڑھیے

سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

صوبائی محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ بل نگور میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ کے اندر متعدد اہلکار بیٹھے تھے کہ ان پر ان کے ایک ساتھی نے فائرنگ کر دی۔ انھوں نے بتایا کہ ’فائرنگ کی زد میں سکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار آگئے جن میں سے چھ ہلاک اورسات زخمی ہوئے ہیں۔‘

محکمہ داخلہ کے اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

اس بارے میں مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’ہم نے اس واقعے کے متعلق سنا ہے اور ایف سی سے رپورٹ طلب کی ہے۔‘

بلوچستان میں منظر عام پر آنے والا اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ

ماضی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ان کے اپنے ہی ساتھیوں کے فائرنگ کے معمولی واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

لیکن ہلاکتوں اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے حوالے سے ضلع کیچ کے کسی علاقے سے منظر عام پر آنے والا یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

بلوچستان سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ضلع کیچ کہاں واقع ہے؟

ضلع کیچ صوبہ بلوچستان کا ایران سے متصل سرحدی ضلع ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع انتظامی لحاظ سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

بلوچستان میں امن و عامہ کے حالات کی خرابی کے بعد سے اس ضلع میں بھی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ کمی و بیشی کے ساتھ بدامنی کے دیگر واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح ضلع کیچ میں بھی حالات میں بہتری آئی ہے۔