کرسچن ٹرنر: غیر ملکی سفیر کی مارگلہ پہاڑیوں پر کچرہ جمع کرنی کی تصویر اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر

،تصویر کا ذریعہCHRISTAINTURNER/TWITTER

مطالعے کا وقت: 3 منٹ

آپ کا تو ہمیں نہیں پتا لیکن اگر ہم کسی خوبصورت اور پُرفضا مقام پر جاتے ہیں اور وہاں قدرتی خوب صورتی سے زیادہ انسانوں کا پھیلایا ہوا کچرا نظر آئے، تو ہمیں بہت کوفت ہوتی ہے۔

بالکل اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی طرح۔

خیر وہ تو ہم اور آپ سے بھی ایک آدھ قدم آگے ہیں۔

انھوں نے آج ٹویٹر پر مارگلہ کی پہاڑیوں میں اپنے مارننگ واک کی کچھ تصاویر شئیر کیں، اور رمضان کے مہینے میں سب کو یاد دلایا کہ ’صفائی نصف ایمان ہے!‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ہائی کمشنر صاحب اپنے مارننگ واک میں وہ کوڑا جمع کرتے ہیں جو لوگ وہاں پھینک جاتے ہیں۔ ان کی ٹائم لائن پر نظر ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے ایسا پہلی بار نہیں کیا۔ تیس اپریل کو بھی اسی طرح انھوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں سے کچرے کے دو بڑے بیگ جمع کیے تھے، اور ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ’خوبصورت اسلام آباد کو صاف رکھیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

تب بھی اور آج بھی انھوں نے اپنی ٹویٹ میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقت کو ٹیگ کیا ہے۔ تب بھی اور آج بھی ڈی سی کے دفتر اور حمزہ صاحب نے ان کے ٹویٹ کے جواب میں ’گریٹ‘ لکھا!

اب یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کو ڈی سی صاحب کا جواب اتنا ’گریٹ‘ نہیں لگا۔

ایک صارف نے ڈی سی صاحب کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا، ’سر، اس میں گریٹ کیا ہے؟ ایک غیر مسلم کا ہمیں اپنے ہی دین کے بارے میں سکھانا؟ یا پھر ایک سفیر کا ہمارے اپنے ہی قومی پارک کی صفائی کرنا؟‘

یہ بھی پڑھیے

عمر آفتاب بٹ نے لکھا ’آپ نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہو گا، اس لیے امید ہے کہ آپ یہ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ سفیر نے آپ کو ٹیگ کیوں کیا ہے؟‘

’اشارہ: آپ کی تعریف کے لیے نہیں۔‘

آفتاب

،تصویر کا ذریعہ@documaraftab

جواد تبریز نے لکھا، ’دارالحکومت میں ایک اور شرمسار کر دینے والا دن۔ رمضان کا مہینہ، جمعۃ الوداع اور ایک متاثر کُن غیر ملکی سفیر جو ہمیں ایک بنیادی عہد یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ پھر ایک بار!‘

تبریز

،تصویر کا ذریعہ@Tabrez_Jawad

جہاں کئی صارفین نے ڈی سی صاحب کے جواب پر تنقید کی، وہیں کئی نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ کام دراصل عام شہریوں کا بھی ہے اور عوام میں اس طرح کی عادات بچپن سے ڈالنے کی ضرورت ہے۔

سابق رکن قومی اسمبلی بشری گوہر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’اوروں کا پھیلایا ہوا گند صاف کرنے کے لیے بہت شکریہ۔ پاکستان، اسلام آباد میں کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا بڑا مسئلہ ہے۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اور میرے خیال میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی گھر پر اور سکولوں میں شہریوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں بتانا بہت اہم ہے۔‘

بشری گوہر

،تصویر کا ذریعہ@BushraGohar

اس بات سے اتفاق نہ کرنا مشکل ہے کہ بچوں، بڑوں سب کو اپنے گھروں کے ساتھ ساتھ ہر جگہ صاف صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔

تو کیا خیال ہے، اگلی بار جب ہم آپ کسی خوبصورت، پُرفضا مقام پر تفریح کے لیے جائیں، تو اپنا کوڑا ایک تھیلے میں ڈال کر واپس گھر لے آئیں؟ پکا؟ گریٹ!