کاغذ کا استعمال پھر سے مقبول کیسے ہونے لگا ہے؟

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
- مصنف, زاریہ گوروویٹ
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
اگر آپ کسی شہتوت کے درخت کی چھال کے ساتھ چیتھڑوں، پٹ سن اور مچھلی کے پرانے جال کو مکس کرتے ہیں تو آپ کو کیا ملے گا؟ پریشان مت ہوں، یہ کوئی دہشت زدہ کر دینے والا فوک (لوک) طبی نسخہ نہیں ہے۔
درحقیقت یہ کاغذ بنانے کے اجزا ہیں۔ قدیم چین میں کاغذ اس طرح بنایا جاتا تھا۔
کاغذ کی ایجاد سے قبل کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے آپ کو اسے ذہن نشین کرنا پڑتا تھا، یقیناً وہ زندگی مشکل تھی۔
کہتے ہیں کہ جب ایک پڑھے لکھے شخص نے پالیسی کے متلعق اپنی تجاویز کی فہرست ہان شہنشاہ کے سامنے پیش کی تو اس عبارت کو لکھنے کے لیے انھیں تین ہزار بانس کے تنوں کا استعمال کرنا پڑا۔ اور انھیں اس تحریر کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے دو توانا مردوں کی ضرورت پڑی۔
چنانچہ جب ایک سرکاری اہلکار نے آخر کار 105 قبل مسیح میں کاغذ ایجاد کیا تو یہ ایک بڑی بات تھی۔
اس عمل کے دوران کپڑے، چھال اور جالوں کو پانی سے ملا کر پیسٹ بنایا جاتا، اسے دھوپ میں خشک کیا جاتا اور پھر اسے چپٹا کیا جاتا۔ نئی ایجاد شہنشاہ کو بہت پسند آئی۔ حالانکہ ابتدا میں اس طرح بننے والے کاغذ کو صرف قیمتی اشیا کو لپیٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن جلد ہی کاغذ نے دنیا کو تبدیل کرنا شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کاغذ کی ایجاد کے 650 برس بعد پرنٹنگ مشین وجود میں آ چکی تھی۔ کتابیں، تاش کے پتے اور ٹوائلٹ پیپر جلد ہی دستیاب ہو گئے۔ مشرق وسطی میں کاغذ کا تعارف اسلام کے سنہری دور کے ساتھ منسلک ہے، جس دور میں علمائے کرام کو فلکیات، طب، انجینئرنگ، ادب اور ریاضی کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپنی پیشرفت ریکارڈ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
کاغذ کو یورپ پہنچنے میں ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ لگا۔ اس سے پہلے لوگوں کو بچھڑوں، بکروں اور بھیڑوں کی کھالوں پر لکھنا پڑتا تھا۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یورپی باشندوں نے چمڑی کے کاغذ بنانے کے لیے سنہ 1150 سے سنہ 1850 کے درمیان کم از کم 4.2 ملین بھیڑوں کو ذبح کیا۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
اس کا نتیجہ ایک مہنگی چیز تھی جو بڑی حد تک دولت مندوں تک ہی محدود تھی۔ جب کاغذ کی گِھسائی کرنے والی چیزیں بالآخر یورپ پہنچیں تو اس نے خطے میں پہلی بار بڑے پیمانے پر خواندگی کو ممکن بنایا گیا۔
آج کمپیوٹرز، سمارٹ فونز اور ای بکس کے دور میں آپ کو اس قدیم حیرت انگیز چیز (کاغذ) کے زوال کی پیش گوئی کرنے پر معاف کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اخبارات اور کتابوں کی طرح ’گرافک پیپر‘ کی مانگ میں صرف تھوڑی بہت ہی کمی آئی ہے لیکن کاغد کی صنعت اب بھی عروج پر ہے۔
دنیا میں اس وقت ہر سال 400 ملین ٹن کاغذ استعمال ہوتا ہے۔ اور پیسے سے لے کر گتے کے ڈبوں تک، رسیدیں، کافی کپ، سٹک آن نوٹس، بیکنگ پیپر، انڈے کے کارٹن، سالگرہ کے کارڈز، تنکے، ریپنگ پیپر تک۔۔۔ غرض کاغذ کے بغیر جدید زندگی کا تصور کرنا مشکل ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ہم ایک ’کیش لیس‘ معاشرے کی طرف گامزن ہوں لیکن ’پیپر لیس‘ سوسائٹی، جیسا کہ امریکی لائبریرین جیسی شیرا نے کہا ہے ’پیپر لیس باتھ روم کی طرح محال ہے۔‘
درحقیقت پوری دنیا میں کاغذ کی طلب بڑھ رہی ہے اور جیسے جیسے ہم صرف ایک مرتبہ قابلِ استعمال پلاسٹک سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، کاغذ اس کی جگہ لینے کے لیے ایک اہم دعویدار ہے۔
گذشتہ چند برسوں میں بے شمار خوردہ فروشوں کو یہ اعلان کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ کاغذی تھیلیاں استعمال میں لا رہے ہیں، جبکہ کاغذ میں لپٹی چاکلیٹ، تیار کھانے کی ٹرے اور پانی کی بوتلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
کینیڈا میں حکومت نے حال ہی میں کچھ پلاسٹک کی اشیا پر پابندی کی منظوری دے دی ہے جبکہ یورپی یونین نے سنہ 2021 تک انتہائی خطرناک قسم کے پلاسٹک کو ختم کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ چند انڈین ریاستیں ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک سے جان چھڑا رہی ہیں۔ بہت سے کاروباری اداروں نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ پلاسٹک کی پھینکے جانے والی اشیا کو کاغذ سے تبدیل کریں گے۔
لیکن کاغذ کتنا پائیدار ہے؟ اور ماحول پر اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
کاغذ بنانے کا عمل
کاغذ بنانے کا عمل کچی لکڑی سے شروع ہوتا ہے جو لکڑی کے نرم درختوں جیسے سپروس ، پائن اور فر کے ساتھ ساتھ کچھ تیزی سے بڑھتی ہوئی سخت لکڑیوں کے درخت سے آتی ہے۔ قسم جو بھی ہو لکڑی سیلولوز ریشوں پر مشتمل ہوتی ہے جو ایک قدرتی گلو کے ساتھ جڑی ہوتی ہے جسے لگنن کہتے ہیں۔
لہذا پہلے مرحلے میں لگنن کو جس حد تک ممکن ہو، ہٹایا جاتا ہے تاکہ سیلولوز ریشوں سے الگ ہو جائے اور اسے دوبارہ مختلف شکل میں ڈھالا جا سکے۔
لیکن تناور درختوں کو سہارا دینے والے مضبوط مواد کو الگ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ نیویارک کے ’ایس یو یو‘ کالج برائے ماحولیاتی سائنس اور جنگلات سے تعلق رکھنے والی پیپر انجینئرنگ کے ماہر سدھارتھ چیٹر جی کا کہنا ہے ’کیمیا بہت پیچیدہ ہے لیکن بنیادی مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ حد تک لگنن کو الگ کیا جائے۔‘
پہلے ’پلپنگ‘ کا عمل ہوتا ہے جس میں عام طور پر لکڑی کو چپس میں توڑنا ہوتا ہے اور پھر اسے سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفیٹ میں پکایا جاتا ہے۔ یہ طاقتور الکلیز (ایک ایسا مادّہ جِسے تیزاب میں مِلایا جاۓ تو دونوں کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں ) ہیں جو سنگین جلوں اور ایلومینیم اور چٹان کو تحلیل کرنے کے قابل ہیں، خاص طور پر لکڑی میں موجود لیگننز۔
دوسرا آپشن یہ ہے کہ اس کے بجائے لگنن کو چھوڑیں اور صرف لکڑی کو میش کریں لیکن اس سے ایک کم معیار کا کاغذ تیار ہوتا ہے جو صرف اخبارات اور فون ڈائری کے لیے موزوں ہوتا ہے۔
اس مرحلے میں کاغذی محلول اب بھی بہت بھورا ہے کیونکہ یہ لگنن کا رنگ ہے اور ایک ہی بار میں یہ سب ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ لہذا اب کلورین ڈائی آکسائیڈ کو شامل کیا جاتا ہے تاکہ گودے کو صاف کریں اور سفید رنگ حاصل کریں۔ آخر میں گودے کی ایک پتلی پرت کو حرکت کرتی میش سکرینوں پر اسپرے کیا جاتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ خشک ہو اور اسے دبایا جائے، پانی نکال دیا جاتا ہے۔
درحقیقت کاغذ کی تیاری کے تقریباً ہر مرحلے میں پانی شامل ہوتا ہے۔ آج کاغذ بنانے کی صنعت کی وسعت کے لحاظ سے بہت بڑی مقدار درکار ہے۔ صرف ایک اے فور سائز کا کاغذ بنانے کے لیے آپ کو دو سے 13 لیٹر پانی کی ضرورت ہے۔ چین جو کاغذی تجارت میں صف اول کے کھلاڑیوں میں شامل ہے میں اس صنعت نے 2014 میں 3.35 بلین ٹن (تقریباً تین کھرب لیٹر) پانی استعمال کیا جس سے تقریباً 37 ارب افراد نہا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
کاغذ بنانے والی صنعتیں کاغذ کے گداز پن اور رنگ کاری کے عمل کے بعد پانی کا ایک محلول استعمال کرتیں ہیں جس میں نامیاتی مرکبات، الکیلیز اور بلیچ کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کو محفوظ طریقے اور مناسب انداز میں تلف کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا تکنیکی چیلنج ہوسکتا ہے اور کچھ کاغذ بنانے والی صنعتیں اس کو مقامی پانی کی سپلائی میں بہا دیتی ہیں جہاں یہ مچھلیوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے بھی زہریلا ہوتا ہے۔
کاغذی صنعت کو درپیش ایک اور بڑا مسئلہ بڑی تعداد میں توانائی درکار ہونا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق عالمی کاغذی صنعت ہر سال تقریباً 6.4 جول (EJ) توانائی استعمال کرتی ہے۔ یہ توانائی چائے کے 87 کھرب کپ بنانے کے لیے کافی ہے۔ اس تمام توانائی کے استعمال کا مطلب ہے کہ کاغذ دنیا میں کاربن کے اخراج میں دو فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔
اور آخر میں درخت کی کٹائی یا استعمال۔ ہر سال عالمی کاغذی صنعت کے لیے 100 ملین ہیکٹر سے زائد رقبہ پر موجود جنگلات کاٹے جاتے ہیں۔ یعنی یہ رقبہ مصر کے ملک برابر ہے۔ کچھ جگہوں پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جنگلات کی کٹائی میں اس صنعت کا اہم کردار ہے اور اس وجہ سے کاربن کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔ جیسا کے کاغذ براہ راست درختوں کو کاٹ کر بنایا جاتا ہے اور اکثر اوقات اس کٹائی میں چند ایسے اہم درخت بھی کاٹ دیے جاتے ہیں جو کہ کسی بھی جنگل کے قدرتی محول کو قائم رکھنے کے لیے اہم ہوتے ہیں اور اس سے ماحولیاتی تنوع میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
نیا ورق
نیو یارک سنی کالج میں پیپر انجینیئرنگ کے ماہر سدھارتھ چیٹرجی کا کہنا ہے کہ ’کاغذ کی صنعت کے بارے میں ماحولیاتی خدشات کے باعث اس میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً پانی کو ہی لے لیں، سنہ 1940 اور 1950 کی دہائی میں ایک ٹن کاغذ تیار کرنے کے لیے دسیوں ہزار گیلن پانی کی ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن امریکہ اور یورپ میں ذمہ دار کمپنیاں اس عمل میں تبدیلی لا رہی ہیں۔ چند صنعتی ادارے جیسا کہ امریکی شہر نیو میکسیکو کی کمپنی مک کینلے، اپنے استعمال کردہ تمام پانی کو صاف اور ری سائیکل کرتی ہے جس کا مطلب ہے کہ اب پانی ضائع نہیں ہو رہا ہے۔'
اس وقت زیادہ تر کاغذ کو رنگ کاٹ کیا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ چمکدار بن سکے، جو سفید رنگ کا دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ بہت سی نیلی روشنی کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن چیٹرجی کا کہنا ہے کہ یورپ میں اس صنعت نے زہریلے کلورین ڈائی آکسائیڈ کے استعمال کو اوزون سے تبدیل کر دیا ہے جس کا ماحول پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اگر ہم قدرے کم سفید کاغذ استعمال کرنے کی بات پر راضی ہوجائیں تو اس کو یکسر چھوڑا جا سکتا ہے۔
'ان کا کہنا ہے کہ ’بلیچنگ پراسس‘ کی وجہ سے 90 فیصد تک شفاف کاغذ حاصل کرنا بہت مہنگا ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایسی فضا میں جہاں آپ نقصان دہ اور ماحول کو پراگندہ کرنے والی شے کی پیداوار کرتے ہیں۔ ہاں اگر عام استعمال کے لیے معاشرہ اسے تسلیم کرتا ہے تو پھر ہمیں اس طرح وائٹ کوالٹی کا پیپر درکار نہیں ہے، ہم اپنی ضرورت براؤن پیپر کے ذریعے سے بھی پوری کر سکتے ہیں اور اس طرح کا اس کا ماحول پر بہت بڑا اثر ہوگا۔'
توانائی کم خرچ کرنے کے معاملے میں بھی کاغذ کی صنعت ترقی کر رہی ہے۔ اگرچہ دنیا نے سنہ 2000 کے مقابلے میں سنہ 2017 میں 25 فیصد زائد کاغذ کی پیداوار کی ہے لیکن اس پیداواری مرحلے میں صرف پانچ فیصد تک زیادہ توانائی استعمال ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
یہ خاص طور پر نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے لیکن اس کی ایک وجہ ’ری سائیکلینگ‘ میں اضافہ بھی ہے۔ یورپ میں اب کاغذ کی صنعتیں اپنا کچرا جو عام طور پر ’سیلولوز‘ اور ’لیگنن‘ پر مشتمل ہوتا ہے کو جلا کر پیداواری توانائی سے آدھی توانائی استعمال کرتی ہیں۔
پھر درختوں کی باری آتی ہے۔ اگرچہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ کاغذ بچا کر درخت بچائیں، اس کے باوجود لکڑی کی کٹائی رکنے کا نام نہیں لیتی۔ ایسے ممالک جہاں پائیدار طور پر جنگلات کا خیال نہیں رکھا جاتا تو وہاں اہم جنگلی حیاتیات تباہ ہوجاتی ہیں۔ لیکن جہاں جنگل کا ذمہ داری کے ساتھ خیال رکھا جاتا ہے وہاں بھی عام طور کاغذ کے زیادہ استعمال کی وجہ سے زیادہ درخت کاٹنے پڑ جاتے ہیں۔
یہ اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کیونکہ بہت سی کمپنیاں ایسی ہیں جو ایسے درخت کی پیداوار اس مقصد کے لیے ہی یقینی بناتی ہیں کیونکہ انھوں نے بعد میں اسے کاغذ کے لیے کاٹ گرانا ہوتا ہے۔ امریکی محمکہ جنگلات کی سروس ’یو ایس ڈی اے‘ کے مطابق امریکہ میں لکڑی کی صنعت اپنے استعمال کے لیے ہر دن 17 لاکھ پودے اسی مقصد کے لیے لگاتے ہیں۔
ری سائیکلنگ یعنی چیزوں کو دوبارہ کسی شکل میں قابل استعمال بنانے والا عمل شاید کاغذ کی دنیا میں سب سے بڑا گیم چینجربن چکا ہے۔ نہ صرف یہ عمل درختوں کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ ری سائیکلنگ کا یہ عمل کسی بھی چیز کی پیداوار سے اٹھنے والے اخراجات کو بھی انتہائی کم کر دیتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ہر ٹن (970 کلو گرام) پر ری سائیکلنگ سے 27 درخت کٹنے سے بچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ 380 گیلن یعنی 1727 لیٹر تیل، تین کیوبک جگہ، 4000 کلو واٹ توانائی اور 7000 گیلن یعنی 31822 لیٹر پانی کی بچت ہوجاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
گذشتہ چند دہائیوں سے ری سائیکل کی جانے والی اشیا کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تجارت صرف امریکہ میں 139 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور یہ ملکی کاغذ کی صنعت کی 40 فیصد تک فراہمی ممکن بناتی ہے۔ گذشتہ برس ری سائیکل کیے گئے کاغذ کی طلب میں اضافہ ایک اعشاریہ پانچ ملین ٹن کی دستیاب سپلائی سے بڑھنے کی امید کی جارہی تھی۔
یورپی ممالک کا ری سائیکلنگ کا نرخ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ناقابل یقین طور پر 72 فیصد کاغذ صرف 2017 میں ری سائیکل ہوا اور یورپی ممالک نے فی سیکنڈ دو ٹن تک کاغذ کی ری سائیکلنگ کی۔ اس میں سب سے زیادہ اٹلی کا حصہ ہے۔ اگرچہ یہ ملک 'موت کا مثلث' یعنی ایسا علاقہ جہاں ہر دم جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اٹلی کا شہر نیپلس مافیا کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے جہاں کچرے کو غیر قانونی طور پر جمع کر دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اٹلی دنیا میں ری سائیکلنگ میں سب سے آگے ہے۔
اٹلی میں 57 فیصد تک خام مال کاغذ کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے جہاں استعمال شدہ کاغذ کو ہی استعمال کیا جاتا ہے اور ہر منٹ میں وہ دس ٹن کی پیداوار کرتے ہیں جو دن میں پانچ ملین ٹن تک پہنچ جاتی ہے۔
ری سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو سمن ایلن کا کہنا ہے کہ وہ کاغذ کو اب کچرے کے طور پر نہیں دیکھتے۔ وہ اسے ایک (قیمتی) چیز کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم حال ہی میں ری سائیکلنگ سے متعلق عوام کا جوش و جذبہ ماند پڑا ہے۔ جنوری سنہ 2018 تک امریکہ، یورپ اور آسٹریلیا میں کئی ملین ٹن تک کچرا جمع کیا گیا اور وہ ری سائیکلنگ کے لیے باہر بھیجا گیا، جس سے متعلق اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اس میں سے زیادہ تر بس پھینکے جانے کے قابل ہی ہے۔
جس وقت تک چین نے کچرے کی درآمد پر پابندی عائد نہیں کی تھی اس وقت تک ملک استعمال شدہ کاغذ کی مارکیٹ کے طور پر مشہور تھا۔
نئی پالیسی ’نیشنل سورڈ‘ (قومی تلوار) کو نافذ کیے اب ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اب دنیا ری سائیکلنگ کے لیے جمع شدہ مواد کے پہاڑ جن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کو کیسے استعمال کرے گی۔ برطانوی کمپنی ویگ ویئر کے ری سائیکلنگ کے مشیر اینالیز میتھیوز کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ری سائیکلنگ کے مواد پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ وہ ’ڈمپنگ گراؤنڈ‘ میں نہ بدل جائیں۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
اٹلی اپنے ری سائیکل کیے گئے کاغذ کو کہاں فروخت کرتا ہے؟ پانچ بڑے ممالک
ری سائیکلنگ کے عمل میں بڑا چیلنج یہ ہے کہ گندے کاغذ کو کیسے استعمال میں لایا جائے۔ ری سائیکلنگ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کسی بھی چیز پر گریس کی معمولی مقدار بھی ہو، چاہے وہ پیزا کا باکس ہی کیوں نہ ہو، تمام ری سائیکلنگ کے عمل کو رد کر سکتا ہے۔
یہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے۔ سنہ 2014-15 میں برطانیہ میں ری سائیکل ہونے والا تین لاکھ 38 ہزار ٹن کا کچرا رد کیا جا چکا ہے۔ تاہم اس عمل میں کچھ جدت بھی آئی ہے جو اس میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اس جدت کو ذہن میں رکھ کر ویج ویئر نے فوڈ کنٹینرز ڈیزائن کیے ہیں جن سے بہتر طور پر ری سائیکلنگ ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ میتھیوز کے مطابق خوراک کی آلودگی ایک ناگزیر عمل ہے نتیجتاً انھیں استعمال کرنے کے بجائے انھیں جلا دیا جاتا ہے یا زمین میں دبا دیا جاتا ہے۔
فوڈ سروس کے لیے ڈسپوزایبل کا استعمال سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اسے دوبارہ ری سائیکل بھی کیا جا سکتا ہے۔ درختوں کے کچرے کو ری سائیکل کرنے کے عمل کے بعد جو ڈسپوزایبل بنایا جاتاہے اس میں کھانا آلودہ نہیں ہوتا۔ یہ اس عمل کا ایک اہم جزو ہے۔

،تصویر کا ذریعہLion TV/Getty Images
یہ ’پیکجنگ‘ عام طور پر پائیدار کاغذ سے اس طرح بنائی جاتی ہے تاکہ وہ کاروباری مقاصد کے لیے کھانے کی اشیا کو ڈبوں میں رکھ کر تین ماہ تک استعمال میں لایا جا سکے۔ اگر آپ ویج ویئر کے کانٹے اور باکس سے برگر یا چپس کھا رہے ہیں تو اس کے بعد آپ سب کو ایسے بِن میں پھینک سکتے ہیں جہاں سے انھیں دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔
ری سائیکلنگ کا یہ تصور عام ہوتا جا رہا ہے اور اب ہر جگہ کمپنیاں اسے چاکلیٹ کے ورق کے طور پر بھی استعمال کر رہی ہیں جو ہفتوں میں گل سڑ جاتے ہیں۔ حتیٰ کے اکثر کاغذ کی شیٹ میں بیج بھی دفنائے جانے کے بعد اُگ آتے ہیں۔
جیسے جیسے دنیا پلاسٹک کے متبادل تلاش کر رہی ہے ایسے میں کاغذ غائب ہونے کے بجائے ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو رہا ہے۔ تاہم اسے متبادل بنانے کے لیے ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔ جب ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو ہم سرسبزو شاداب بن جائیں گے۔
بایو ٹیکنالوجی کی ایجاد کے بعد ہم ایسے درخت اگانے کے قابل بن جائیں گے جن کو آسانی سے پیسا جا سکے گا، جس سے کاغذ کی صنعت میں اخراجات کا بوجھ بھی کم کیا جا سکے گا۔ سائنسدان کاغذ کے زرات سے نیا پائیدار میٹیریل تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو ماحول دشمن نہ ہو۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کاغذ کی مصنوعات نے ایک طویل سفر طے کیا ہے، چیتھڑوں اور مچھیروں کے جالوں سے لے کر جدید زمانے کے شادی کارڈ اور فوٹو پیپر تک۔










