اسلام آباد: مغرب کے بعد مارگلہ ہلز کی ٹریل پر چہل قدمی نہ کریں، تیندوے کی تصویر سے لوگ خوفزدہ

اسلام آباد، تندوے

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@WildlifeBoard

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد یقیناً دنیا کے سب سے خوبصورت دارالحکومتوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے اس شہر کو اپنی ہریالی، صفائی اور پہاڑوں کے دلفریب نظاروں کے لیے جانا جاتا ہے لیکن یہاں کی ٹریلز بھی کم مقبول نہیں۔

ان ٹریلز پر یہاں اسلام آباد اور گرد و نواح کے رہائشی اکثر اپنی فیملی کے ساتھ چہل قدمی کرنے آتے ہیں اور راستے میں جنگلی حیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب گذشتہ روز ’ٹریل نمبر چار‘ پر رات کے وقت پھرتے ایک تیندوے کی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تو لوگ حیران و پریشان رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

کیونکہ یہ ٹریکنگ کا وہی راستہ ہے جہاں لوگ محض کچھ ہی دیر کی چہل قدمی سے مارگلہ کے پہاڑوں کے بلند و بالا مقامات تک پہنچ جاتے ہیں اور پورے شہر کا نظارہ کر پاتے ہیں۔

'یہ خوفناک ہے'

سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئٹر پر کئی لوگوں نے ان تصاویر پر حیرت ظاہر کی۔

اسلام آباد، تندوے

،تصویر کا ذریعہTWITTER

عمر عباس نے لکھا کہ 'یہ خوفناک ہے کیونکہ ٹریل نمبر چار عوامی مقام کے قریب ہے اس لیے یہاں بہت لوگ ہوتے ہیں۔' اسد حیات کے مطابق 'مارگلہ اسی جنگلی حیات کے لیے ہے۔ انھیں گھومنے دیں جہاں ان کا دل چاہے۔'

لوگوں کی توجہ کا باعث ایک ایسی تصویر بھی بنی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تیندووں نے ایک جنگلی بور کا شکار کیا ہوا ہے۔

عبدالکریم نے لوگوں کو ہدایت کی کہ 'ٹریل واک کے لیے موضوع نہیں، اس لیے لوگوں کو خیال رکھنا چاہیے۔'

سنبل نقی نے اعتراض اٹھایا کہ ’جنگلی حیات کا قدرتی گھر آلودگی کا شکار ہے اور یہاں بھوکے جانور کم پڑنے لگے ہیں۔‘

اسلام آباد، تندوے

،تصویر کا ذریعہTWITTER

کیا واقعی ٹریلز پر تیندوے پھرتے ہیں؟

سلسلۂ کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع مارگلہ کے پہاڑوں اور اس کے اردگرد کا کچھ حصہ مارگلہ ہلز نیشنل پارک کہلایا جاتا ہے۔ یہ جگہ اپنی مخصوص جنگلی حیات کے لیے بھی جانی جاتی ہے کیونکہ یہاں مختلف درخت، پودے، چرند و پرند پائے جاتے ہیں۔ دامن کوہ کے 'چلاک' بندروں سے تو آپ واقف ہی ہوں گے جو یہاں آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے سخاوت علی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گذشتہ سال کے دوران پارک کی حدود میں کئی مرتبہ تیندوے دیکھے ہیں۔ ان کی موجودگی کو ریکارڈ کرنے کے لیے کیمرہ ٹریپ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ تیندوے کی جو تصاویر گذشتہ روز وائرل ہوئیں وہ درحقیقت 30 جون کو لی گئی تھیں۔ ان کی معلومات کے مطابق دو کمسن تیندوے اکثر مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں نظر آتے ہیں۔ انھیں کیمروں میں جنگلی بور کا شکار کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کرنے والے طلبہ کا کیمرہ ٹریپ گذشتہ ماہ چوری کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہاں رات کے وقت جنگلی حیات کو فلمایا نہیں گیا۔

اسلام آباد، تندوے

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@WildlifeBoard

ادارے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں جنگلی حیات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو اس سے قبل انسانوں کی بڑی آبادی کے وہاں جانے کی وجہ سے چھپے رہتے تھے۔

اسلام آباد کی متعدد ٹریلز پر لوگوں کی موجودگی، پارک میں موجود ریستورانوں اور گاڑیوں کی آمد و رفت سے یہ ممکن ہے کہ چرند و پرند انسانی نظروں سے اوجھل رہتے ہوں۔

لیکن اس کے باوجود وہاں اکثر جنگلی جانوروں اور پرندوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

انسانوں کو تیندووں سے خطرہ یا تیندووں کو انسانوں سے؟

سخاوت علی نے بتایا کہ درحقیقت مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا علاقہ ان تندووں اور دیگر جنگلی حیات کا قدرتی گھر ہے جہاں انسان انھیں دیکھنے کے لیے اکثر پہنچ جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قدرت کا نظام خود بخود چلتا رہتا ہے اور اس میں خلل پیدا کرنے میں اکثر انسانوں کا ہاتھ ہی ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ لوگوں کو بارہا یہ تلقین کی گئی ہے کہ رات کے وقت ٹریلز پر مت جایا کریں کیونکہ اس دوران تندووں یا دوسرے جانور ڈر کر ان پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔

'لوگوں کو سختی سے متعدد بار بتایا ہے کہ مغرب کے بعد ٹریلز کی طرف مت جائیں لیکن لوگ باز نہیں آتے۔'

انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں تیندوے انسانوں پر حملہ آور ہوسکتے ہیں اور 'ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آنے سے روکیں۔'

ماضی میں بھی یہ تیندووں کی نقل و حرکت کمیروں میں محفوظ کی جاچکی ہے اور ایسے واقعات کی اطلاعات بھی موجود ہیں جن میں تیندووں نے مقامی گاؤں کے مویشیوں پر حملہ کیا ہو۔