تحریک لبیک پاکستان کا ’اہم مطالبے پر حکومت کی جانب سے عمل کے بعد‘ احتجاج ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کی قومی اسمبلی کی جانب سے کالعدم مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے مطالبے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری پر بحث کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے کے بعد جماعت کی قیادت نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
جماعت کی قیادت نے کہا ہے کہ حکومت کے سامنے رکھے گئے مطالبات اور اس پر حکومتی اقدامات کے بعد ’کسی بھی قسم کے احتجاج اور دھرنے کی اس وقت ضرورت نہیں ہے‘۔
جماعت کے مطابق ’ہمارے مرکزی مطالبے پر عمل ہو چکا ہے‘ جس کے بعد مرکزی دھرنے سمیت جہاں کہیں بھی احتجاج ہو رہا تھا اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے مطابق ’باقی معاملات میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے‘۔
اطلاعات کے مطابق جماعت کی قیادت کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد لاہور میں مسجد رحمت اللعالمین میں جاری مرکزی دھرنے سے جماعت کے کارکنان گھروں کو جانا شروع ہوگئے ہیں۔
اس کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریکِ انصاف کے رکنِ اسمبلی امجد علی خان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کیا گیا تھا۔
یہ قرارداد لانے کا فیصلہ پاکستان کی حکومت اور کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے درمیان پیر کی شب ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا تھا۔
حکومتی ارکان کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام ف کے ارکانِ اسمبلی نے اس اجلاس میں شرکت کی ہے تاہم حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے اور جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا اپنا پھیلایا ہوا گند ہے جسے انھیں خود ہی صاف کرنا ہو گا۔
حکومتی ارکان نے جہاں اس قرارداد کی حمایت کی وہیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر پالیسی بیان دے اور قرارداد کو اتفاق رائے کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قرارداد پیش کرتے ہوئے امجد علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلے پر بحث کی جائے اور یورپی ممالک خصوصاً فرانس کو پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔
قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات حکومت کو طے کرنے چاہییں اور کوئی فرد گروہ یا جماعت حکومت پر اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتا۔
مذکورہ قرارداد میں اس معاملے پر سپیکر سے خصوصی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا جسے ایوان نے اکثریتِ رائے سے منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیے
قرارداد پیش ہونے کے بعد مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کو قرارداد پر غور کرنے کے لیے ایک گھنٹہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ’پورا پاکستان اس معاملے پر کوئی دو رائے نہیں رکھتا‘ لیکن سپیکر اسے ایوان میں متنازع بنا رہے ہیں جبکہ اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا جانا چاہیے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا ’یہ قرارداد ناکافی ہے۔ میری گزارش ہے ایک گھنٹہ دیں، ہم اس کا مطالعہ کریں گے اور جو اضافی باتیں رکھنی ہیں وہ بتائیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد پر بحث کے لیے کسی خصوصی کمیٹی کی ضرورت نہیں بلکہ پورے ایوان کو ہی کمیٹی بنایا جائے۔
اس پر حکومتی رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں اس پر بحث ہو لیکن یہ قرارداد ایک پرائیویٹ رکن نے پیش کی ہے اور حکومت اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔ انھوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ قرارداد کو ایک خصوصی کمیٹی بنا کر اس کے حوالے کیا جائے اور اس کے بعد یہ ایوان میں پیش کی جائے تو اس پر بحث ہو۔

مولانا اسعد معمود نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ختم نبوت کا مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں سب کا مسئلہ ہے۔‘ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بتائے کہ تحریک لبیک پاکستان سے گذشتہ شب ہونے والی بات چیت میں کون شامل تھا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو حکومت کی پالیسی سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ میڈیا کو حقائق سامنے لانے کی اجازت دی جائے اور ’ملک میں جس نے خون بہایا اس کا تعین ہونا چاہیے۔' خیال رہے کہ تحریکِ لبیک اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان پیر کی شب اس بات پر اتفاق رائے ہوا تھا کہ منگل کو پاکستان کی پارلیمان میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے قرارداد پیش کی جائے گی اور گذشتہ دنوں کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کے گرفتار کیے گئے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات ختم کر کے انھیں رہا کر دیا جائے گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ جاری رہنے کے بعد جمعے تک ملتوی کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی منعقد ہوئے ہیں تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت کے اراکینِ اسمبلی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
وفاقی وزیر شبلی فراز نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ لبیک کے مطالبے سے ملک کو فائدہ ہوتا تو مان لیے جاتے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس سلسلے میں ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تحریکِ لبیک سے کیا گیا معاہدہ پارلیمان میں نہیں لایا گیا اور نہ ہی وزیراعظم نے اس معاملے میں کسی بھی مرحلے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا اور اب پاکستان تحریکِ انصاف قومی اسمبلی کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے۔
انھوں نے وزیراعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ ’یہ آپ کا پھیلایا ہوا گند ہے، اسے صاف کریں یا گھر جائیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کو 20 اپریل تک ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکی دینے والے تحریکِ لبیک کے امیر سعد رضوی کو گذشتہ ہفتے لاہور میں پولیس نے حراست میں لیا تھا اور منگل کی دوپہر سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سعد رضوی کی رہائی کی خبریں گردش کر رہی ہیں تاہم پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی رہائی فی الحال عمل میں نہیں آئی ہے۔
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اس احتجاج کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔ تاہم چند ہی گھنٹے بعد وزیرِ داخلہ نے مذاکرات کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کا اعلان کیا۔
وزیر داخلہ کی جانب سے یہ اعلان ملک بھر میں گذشتہ چھ روز سے جاری کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایک پی) کے مظاہرے ختم کروانے کے لیے ہونے والے حکومتی مذاکرات کے بعد منگل کی صبح ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کیا گیا۔
ان مذاکرات کے نتیجے میں تحریکِ لبیک نے لاہور میں اپنے مرکز سمیت ملک بھر میں جاری احتجاجی دھرنے اور مظاہرے ختم کرنے کی حامی بھری تھی۔

،تصویر کا ذریعہTLP
فریقین کے درمیان بات چیت کا عمل گذشتہ ہفتے شروع ہوا تھا۔ پہلے دور میں اتوار کے روز لاہور میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد یرغمال بنائے گئے پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے حوالے سے اتفاق ہوا جبکہ دوسرے اور تیسرے دور کے بعد شیخ رشید کا یہ بیان سامنے آیا کہ تحریکِ لبیک کی جانب سے مظاہرے ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ شیخ رشید نے منگل کو سحری کے وقت جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا ‘حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے پا گئی ہے کہ آج قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے اور تحریک لبیک مسجد رحمت اللعٰلمین سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کرے گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔'
اس سے قبل تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جماعت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق امینی نے پیر کی رات اپنے ایک آڈیو پیغام میں ملک بھر میں اپنے پیروکاروں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ صرف لاہور میں ان کے مرکز رحمت العٰلمین میں پر امن احتجاج جاری رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
عمران خان: فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں
فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے پر احتجاج کے معاملے پر پیر کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔
عمران خان نے کہا کہ ’ 50 مسلمان ملک ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’صرف پاکستان کے بائیکاٹ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تمام مسلم ممالک کو اس پر بات پر اتفاق کرنا ہو گا کہ مغرب کو یہ متفقہ پیغام دیں کہ اگر کسی بھی ملک میں اس طرح کی گستاخی کی گئی تو ہم سب اس سے تجارتی تعلقات منقطع کریں گے، تب جا کر انھیں احساس ہو گا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ ملک میں چند عناصر پاکستانیوں کی پیغمرِ اسلام کے لیے عقیدت اور محبت کا غلط استعمال کر کے اپنے ہی ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے ملکی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کا اور ان کی حکومت کا یکساں مقصد ہے کہ ’نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو‘ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ طریقہ کار کا فرق ہے۔
پُرتشدد مظاہرے اور پولیس کی کارروائی
تحریکِ لبیک کی جانب سے سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد گذشتہ ہفتے شروع ہونے والے مظاہروں میں پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پیر کو اپنے خطاب میں بتایا کہ اب تک ملک میں پولیس کی 40 گاڑیوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے جبکہ چار پولیس اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھی مظاہروں کے بعد جمعرات کو حکومت نے تحریکِ لبیک پر پابندی کا اعلان کیا اور اگلے دن اسے کالعدم قرار دے دیا گیا۔
پھر اتوار کو لاہور میں پولیس کے مطابق تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین پھر جھڑپیں ہوئیں۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔
ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے جبکہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمان سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا تھا۔
اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔
اس کے بعد تنظیم نے 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 12 اپریل کو احتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔
٭ نوٹ: اس خبر میں سعد رضوی کی رہائی کے حوالے سے دی گئی معلومات کی تصحیح کر دی گئی ہے۔













