تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج: 'پہلے آنسو گیس سے بچے پریشان ہو جاتے تھے، مگر اب جب گولہ باری ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میچ شروع ہو گیا'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے مصروف ترین کاروباری مرکز ملتان روڈ پر یتیم خانہ چوک کے نزدیک بیڑی سٹاپ کہلائے جانے والے مقام پر کالعدم قرار دی گئی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی مسجد رحمت العالمین واقع ہے جہاں پر دیا گیا دھرنا اب تقریباً ڈیڑھ سو گھنٹوں یعنی چھ روز سے جاری ہے۔
اتوار کو پولیس اور تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کے مابین ہونے والے تصادم کے بارے میں بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی اور یتیم خانہ چوک میں کاروبار کرنے والے اسماعیل رمیز کے مطابق گذشتہ پیر کو ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد جب اس مسجد کے باہر دھرنا شروع ہوا تو تنظیم کے کارکنان مسجد کے سامنے ہی کے علاقوں تک محدود تھے۔
اسماعیل بتاتے ہیں کہ جب لاہور کے مختلف علاقوں میں آپریشن شروع ہوا تو ٹی ایل پی کے کارکنان نے مسجد کے تینوں اطراف ایک کلو میٹر کا علاقہ مختلف رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردیا۔
اسماعیل رمیز کے مطابق مسجد سے باہر ٹی ایل پی کے کارکنان ایک کلومیٹر کے اس علاقے میں شفٹ تبدیل کرکے ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسماعیل کے مطابق جب اتوار کی صبح پولیس نے ٹی ایل پی کے مرکز پر تین اطراف سے دھاوا بولا تو ٹی ایل پی کے کارکنان نے پولیس کی نفری کو اپنے کنٹرول والے اس ایک کلومیٹر کے علاقے میں آنے کی اجازت نہیں دی۔
پولیس کی زیادہ نفری یتیم خانہ چوک سے دو سو میٹر کے فاصلے پر تھانہ نواں کوٹ میں موجود تھی۔
اسماعیل بتاتے ہیں کہ جب پولیس تھانہ سے باہر نکلی تو ٹی ایل پی نے ان کے خلاف شدید مزاحمت کی تھی اور فریقین کے مابین یہ تصادم کئی گھنٹوں تک جاری رہا لیکن پولیس پھر بھی ٹی ایل پی کا ان کے علاقے میں کنٹرول نہیں توڑ سکی۔

،تصویر کا ذریعہIsmail Ramiz
ڈی ایس پی کو کیسے یرغمال بنایا گیا
اس موقع پر موجود مقامی رہائشی اور عینی شاہد نصیر خان یتیم خانہ چوک میں اپنے دفتر کی چھت سے سارے تصادم کا منظر قریب سے دیکھ رہے تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعوی کیا کہ جب پولیس اہلکار اپنی کوششوں کے باوجود بھی ٹی ایل پی کے کارکنان کی جانب سے کھڑی رکاوٹوں کو نہ ہٹا سکے تو اس موقع پر غالباً جھنجلاہٹ یا غصے میں ڈی ایس پی نے اپنی نفری کو للکارا اور کہا کہ 'جوانوں ہلا بولو، بہت ہوگئی ہے۔'
نصیر خان کے مطابق یہ کہنے کے بعد ڈی ایس پی خود تیزی سے آگے بڑھے اور وہاں پر موجود ایک بڑی رکاوٹ کو ہٹانا چاہا تو مسجد اور مسجد کے ارد گرد کے گھروں کی چھتوں سے شدید ترین پتھراؤ شروع ہوگیا۔
نصیر خان کہتے ہیں کہ پولیس نفری تیزی سے پیچھے مڑی تو اس موقع پر ڈی ایس پی نے ایک بار پھر اپنے اہلکاروں کو کہا کہ پیچھے نہ ہٹیں مگر لگتا تھا کہ پولیس اہلکار ان کی بات نہیں سن رہے تھے، جس کے بعد ڈی ایس ایس پی کی قیادت میں صرف چند لوگ ہی رہ گے تھے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹی ایل پی کے کے کارکنان نے ان کو اپنے قبضے میں لے لیا اور مسجد میں لے گئے۔
’آنسو گیس سے انتہائی متاثر ہوئے ہیں‘
محمد اویس یتیم خانہ چوک کے قریب ملت پارک کے قریب رہائش پذیر ہیں۔ گذشتہ چند دنوں کے حالات کے باعث وہ کہتے ہیں کہ زندگی عذاب ہوچکی ہے۔
'اتوار کی صبح تو انتہائی شدید ترین شیلنگ ہوئی جس کی وجہ سے گھروں میں موجود عورتیں، بچے، بوڑھے اور بیمار شدید متاثر ہوئے ہیں۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ہم لوگ نہ تو اپنے کمروں میں رک سکتے تھے نہ باہر جاسکتے تھے۔ آنسو گیس کی شیلنگ کوئی دو گھنٹے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے تھی۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اویس بتاتے ہیں کہ ان کے گھر میں کوئی بزرگ اور بیمار تو نہیں تھا مگر ان کے پڑوس میں کئی بزرگ اور بیمار لوگ تھے جن میں سے کئی بے ہوش ہو گئے لیکن راستے بند ہونے کے باعث ان کو ہسپتال نہیں لے جایا جا سکا۔
محممد اویس کا کہنا تھا کہ اتوار کو ہونے والے تصادم سے پہلے بھی آنسو گیس کی شیلنگ ہوتی رہی ہے اور وہاں موجود رہائشیوں کی افطاریاں اور سحریاں خوف کے عالم میں گزر رہی ہیں۔
’گھروں میں نظر بند ہیں‘
سکیم موڑ میں اپنے دو کم عمر بچوں کے ساتھ رہائش پذیر خاتون جمیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ تین روز ہوچکے ہیں لیکن وہ کام کے لیے دفتر نہیں جاسکی ہیں اور باہر نہ جانے کی وجہ سے ان کے گھر میں کھانے پینے کی اشیا بھی نہیں ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جمیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ دو روز قبل انھوں نے کوشش کی کہ افطاری اور سحری کے لیے کچھ خریداری کر لیں۔
'باہر نکلی تو مجھے وہاں پر پہرہ دیتے ہوئے نوجوانوں نے سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ میں گھر کے اندر رہوں۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے کھانے پینے کی اشیا خریدنی ہیں، رمضان ہے تو انھوں نے مجھے پھر بھی اجازت نہیں دی۔'
جمیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ ہماری سحری اور افطار کی اشیا ہمیں ہمارے پڑوس والے دے رہے ہیں لیکن وہ بھی ایسا کب تک کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Ismail Ramiz
جمیلہ بی بی کا کہنا تھا کہ مجھ سے بچے پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
'جب دو، تین روز قبل آنسو گیس کی گولہ باری شروع ہوئی تھی تو بچے ڈر کے مارے پریشان ہو جاتے تھے لیکن اب جب گولے گرتے ہیں تو وہ شور مچاتے ہیں کہ ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ میچ شروع ہوگیا ہے۔ اب جب وہ گھر میں بھی کھیل رہے ہوتے ہیں تو یہ ہی کہتے ہیں کہ چلو یہ تمھارا علاقہ اور یہ میرا علاقہ میں تمھیں اس علاقے میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔'
محمد اویس کا کہنا تھا کہ عملاً اس وقت علاقے کے ہزاروں لوگ گھروں میں نظر بند ہیں۔
'نہ کوئی اپنے گھروں سے باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی اندر جا سکتا ہے۔ اگر باہر نکلیں تو موبائل چھین کر توڑ دیتے ہیں، بائیک کو نقصاں پہنچاتے ہیں۔اس وقت انٹرنیٹ بھی بند ہے جس سے ہمیں رابطوں میں بھی مشکلات ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوکانیں کاروبار بند
نصیر خان نے دعوی کیا کہ علاقے میں دوکانیں اور کاروبار کے مقام زبردستی بند کروا دیے گئے ہیں۔
'اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی دوکان یا کاروبار کھولنے کی کوشش کرے تو ٹی ایل پی کے کارکنان اس پر تشدد کرتے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ ان کے کاروبار میں پندرہ ملازم ہیں جو سب دیہاڑی دار ہیں۔
'ان کو ہم تنخواہیں اس وقت دینے کے قابل ہوتے ہیں جب ہم کاروبار کرتے ہیں۔ کاروبار چار روز سے مکمل بند پڑا ہے۔ ان کو چار روز تک تو ہم نے دیہاڑی دی ہے۔ مگر اب اگر کاروبار نہ کھلا تو ان کو دیہاڑی دینے کے قابل نہیں ہونگے۔'
نصیر خان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں کئی ریڑھی، ٹھیلے والے انتہائی کمپرسی کا شکار ہوچکے ہیں۔
'مقامی کاروباری لوگوں نے ان کی کچھ نہ کچھ مدد کی ہے مگر یہ تو سیزن کے دن ہیں۔ ان دونوں میں ہر کوئی کمائی کرتا ہے اور اپنے بچوں کے لیے عید کی خریداریاں کرتا ہے۔ اگر ان کا کاروبار نہیں چلے گا تو کیا ہوگا؟













