تحریک لبیک ملک بھر سے دھرنے ختم کرے گی، فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی: شیخ رشید احمد

تحریک لبیک کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے منگل کو کہا ہے کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی جبکہ تحریک لبیک ملک بھر سے دھرنے ختم کرے دے گی۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ’حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے پا گئی ہے کہ آج قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کریں گے اور تحریک لبیک مسجد رحمت العٰلمین سمیت سارے ملک سے دھرنے ختم کرے گی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے گا اور جن لوگوں کےخلاف شیڈول فورتھ سمیت مقدمات درج ہیں، ان کا اخراج کیا جائے گا۔‘

وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سے متعلق تفصیلی بیان آج شام یا کل دوپہر کسی وقت پریس کانفرس کے ذریعے دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ اس سے قبل مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور جماعت کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق امینی نے پیر کی رات اپنے ایک آڈیو پیغام میں ملک بھر میں اپنے پیروکاروں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ صرف لاہور میں ان کے مرکز رحمت العٰلمین میں پر امن احتجاج جاری رہے گا۔

حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان، پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی ملک سے بے دخلی کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اسلام آباد کی صورتحال

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ پر فیض آباد کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری ابھی بھی تعینات ہے جبکہ دارالحکومت کے حساس مقامات پر بھی پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

فیض آباد پل کے نیچے مرکزی شاہراہ کے اطراف میں کنٹینرز بھی تاحال رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے راستے سیل کرنے میں استعمال کر رہی ہے۔

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر کے روز ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان بھی کیا گیا تھا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مذکورہ بالا علاقوں سے گریز کریں اور سڑکوں کی بندش اور متبادل راستوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔

رینجرز اور پولیس اہلکار فیض آباد اور سرینگر ہائی وے پر تعینات رہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری بھی موجود رہی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@hamzashafqaat

عمران خان کا خطاب

اس سے قبل پیر کی شام قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دینا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ مغرب اس معاملے کو اظہارِ رائے کی آزادی سے جوڑتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جب بھی نبی کی شان میں گستاخی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے، جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ان سب کو تکلیف ہوتی ہے۔‘

عمران خان نے اس معاملے میں دیگر مسلمان ممالک کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 50 مسلمان ملک میں سے کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کر رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس اقدام سے پاکستان متاثر ہوگا۔

پیر کی صبح اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ انھیں افسوس ہے کہ ملک میں چند عناصر پاکستانیوں کی پیغمرِ اسلام کے لیے عقیدت اور محبت کا غلط استعمال کر کے اپنے ہی ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہAPP

وزیراعظم نے ملکی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کا اور ان کی حکومت کا یکساں مقصد ہے کہ ’نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو‘ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ طریقہ کار کا فرق ہے۔

انھوں نے مصنف سلمان رشدی کی متنازع کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ہر کچھ سال بعد کوئی نہ کوئی مغرب میں ’نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے، ہمارے ملک میں مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی اس سے کوئی فرق پڑا؟‘

یاد رہے کہ سلمان رشدی کی انیس سو اٹھاسی میں لکھی گئی کتاب 'دی سیٹنک ورسز' کے خلاف مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ اس کے بعد بہت سے ممالک میں اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ اس وقت کے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ بھی جاری کر دیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے سے یہ گارنٹی ہے کہ نبی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔ میں مغرب کو جانتا ہوں، فرانس کے بعد یہ کسی اور ملک میں ہوگا۔ انھوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی بنایا ہوا ہے۔‘

فرانس کے سفیر کی پاکستان سے بےدخلی کے مطالبے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اس سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان کو فرق پڑے گا۔ بڑی دیر کے بعد لارج انڈسٹری بڑھی ہے، ہماری ایکسپورٹ بڑھ رہی ہیں، ہمارا روپیہ مضبوط ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیج کر تعلقات توڑیں گے، اس کا مطلب یورین یونین سے تعلقات توڑیں گے۔ آدھی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یورپ میں جاتی ہیں۔ اس سے ٹیکسٹائل آدھی رہ جائے گی، بے روزگاری ہوگی، مہنگائی بڑھے گی، روپیہ نیچے جائے گا۔۔۔ ہمارا نقصان ہو گا۔‘

ٹی ایل پی

،تصویر کا ذریعہEPA

وزیراعظم نے کہا کہ ’میں نے جون 2019 میں او آئی سی کی میٹنگ اسلاموفوبیا پر بات کی اور کہا کہ مغرب میں ہمارے پیارے نبی کی بے حرمتی ہوتی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’میں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اس پر بات کی، فیس بک انتظامیہ کو بھی خط لکھا اور اسلام ممالک کے سربراہان کو بھی خط لکھے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’ 50 مسلمان ملک ہیں کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھجوائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف پاکستان کے بائیکاٹ سے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تمام مسلم ممالک کو اس پر بات پر اتفاق کرنا ہو گا کہ مغرب کو یہ متفقہ پیغام دیں کہ اگر کسی بھی ملک میں اس طرح کی گستاخی کی گئی تو ہم سب اس سے تجارتی تعلقات منقطع کریں گے، تب جاک ر انھیں احساس ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم اقوام متحدہ میں سب مسلمان ملک دوسروں کو بتائیں کہ ہمیں کیوں تکلیف ہوتی ہے۔ مغرب میں اپنے پیغمر سے پیار اور عشق نہیں کرتے۔ اس لیے ہمیں انھیں یہ سمجھانا پڑے گا۔‘

انھوں نے یہودیت کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’دنیا میں تھوڑے سے یہودی ہیں لیکن انھوں نے اکھٹے ہو کر مغربی دنیا کو بتایا ہے کہ ہولوکاسٹ کے خلاف کوئی منفی بات نہ کریں۔ آج مغربی میڈیا میں کوئی بھی ایسی بات نہیں کرتا۔ چار ملک ایسے ہیں کہ وہاں جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ کیا ہم نہیں باور کرا سکتے ہیں ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس مہم کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ ہم ان کو ایک دن سمجھا دیں گے کہ جس طرح وہ یہودیوں کے لیے حساس ہیں، تو ہم تو سوا ارب مسلمان ہیں۔ جیسے جیسے ان کو سمجھ آ گئی ہم اپنے مقصد کو پہنچ جائیں گے۔'

اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ علما سے کہوں گا کہ وہ ’میرا ساتھ دیں‘۔

انھوں نے پولیس اور شہری تنصیبات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلایا گیا ہے، چار پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں، پہلے دن 100 سڑکیں بلاک کی گئیں۔ آکسیجن کے سیلنڈر نہیں جا پا رہے تھے کورونا کے مریضوں کی اموات ہوئیں۔

پولیس، ٹی ایل پی

،تصویر کا ذریعہCourtesy Punjab Police

،تصویر کا کیپشنبازیاب ہونے والے پولیس کے اہلکار

پیر کو مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج

تحریکِ لبیک کے کارکنوں پر پولیس کے کریک ڈاؤن کے خلاف اہلسنت علما کی کال پر پیر کی صبح ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا جس کا بڑے شہروں میں جزوی اثر دکھائی دیا۔

کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا اور کچھ علاقوں میں دکانیں اور دفاتر کھلے رہے تو کہیں کہیں ہڑتال کا سماں رہا۔

اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ کئی شہروں میں تاجر برادری اور وکلا تنظیموں نے بھی اس ہڑتال کی کال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

اتوار کو یہ احتجاج ایک مرتبہ پھر پرتشدد رخ اختیار کر گیا تھا اور لاہور میں تحریکِ لبیک اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیر کی صبح سحری کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا کہ اتوار کو لاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تمام اہلکاروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

ویڈیو پیغام میں انھوں نے مزید کہا کہ بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مذاکرات کے نتیجے میں جہاں تحریکِ لبیک کے کارکن بھی اپنے مرکز کے اندر چلے گئے ہیں وہیں پولیس بھی موقعے سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ پیر کو مذاکرات کے دوسرے دور میں باقی معاملات بھی طے پا جائیں گے۔

لاہور پولیس کے ترجمان نے بی بی سی کے عمر دراز ننگیانہ سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اتوار کو کالعدم تنظیم کی جانب سے یرغمال بنائے گئے تمام اہلکار بشمول ڈی ایس پی نواں کوٹ عمر فاروق بلوچ کو مذاکرات کے بعد بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

ان اہلکاروں کو اتوار کی صبح ٹی ایل پی کے کارکنوں نے تھانہ نواں کوٹ پر حملہ کر کے اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن میں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے۔ یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا تھا۔

اتوار کی شب ٹی ایل پی کے عہدے دار اور رکن شوریٰ و سربراہ مذاکراتی کمیٹی علامہ محمد شفیق امینی نے کہا تھا کہ ان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور اعلان جو بھی ہو گا وہ مرکزی شوریٰ کی طرف سے جاری ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک مذاکرات جاری رہیں گے اس وقت تک مرکز میں ہمارا پرامن احتجاج جاری رہے گا۔

کراچی کی لائٹ ہاؤس مارکیٹ
،تصویر کا کیپشنکراچی کی لائٹ ہاؤس مارکیٹ

‎لاہور میں تاجر تنظیموں کی طرف سے ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں شہر کے زیادہ تر کاروباری اور تجارتی مراکز بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ ‎شہر کی تمام بڑی مارکیٹیں اور بازار جن صدیق ٹریڈ سنٹر، مال روڈ، انارکلی بازار، اکبری منڈی، اردو بازار، گلبرگ مارکیٹ اور دیگر چھوٹے بڑے بازار شامل ہیں، بند رہے اور ان میں کوئی کاروباری سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔‎سینٹرل جنرل سیکرٹری آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر نے بی بی سی کو بتایا کہ مذہبی جماعتوں کی کال پر ملک بھی کی طرح لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز پیر کے روز بند رہیں گے۔

گوجرنوالہ میں بھی جزوی شٹرڈاؤن دیکھا گیا اور کچھ دکانیں اور بازار کھلے رہے جبکہ وہاڑی میں انجمن تاجران کی جانب سے ہڑتال کے لیے مساجد میں اعلانات کیے گئے۔

وہاڑی میں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری شہر بھر میں تعینات کر دی گئی۔

لاہور
،تصویر کا کیپشنلاہور

کراچی میں ایم اے جناح روڈ کے تجارتی مراکز مثلاً بولٹن مارکیٹ اور لائٹ ہاؤس جیسے بازار بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی تاہم سڑکوں کی بندش کی اطلاعات نہیں ملیں۔

پشاور میں انجمن تاجران نے اپنے کاروبار رضاکارانہ طور پر بند کر نے کا اعلان کیا تاہم پشاور میں بیشتر بازار کھلے رہے اور کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا۔ پیر کو قصہ خوانی بازار میں مذہبی تنظیم کی جانب سے ایک ریلی نکالی گئی جس کے بعد تاجروں نے دوکانیں بند کر دیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی ہڑتال کے اثرات نظر نہیں آئے اور شہر کے تمام اہم تجارتی مراکز کھلے رہے جن میں معمول کے مطابق کاروبار کا سلسلہ جاری رہا۔ کوئٹہ شہر میں ٹریفک بھی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال کی کال کے اثرات نظر نہیں آئے تاہم خضدار پولیس کے ایس ایچ او گل حسن کے مطابق صبح کے وقت شہر میں دکانیں کھلی رہیں لیکن 12 بجے کے بعد بعض افراد نے دکانداروں سے لاہور والے معاملے پر اپنی دکانیں بند کرنے کو کہا۔

خیال رہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ کی گرفتاری کے خلاف خضدار میں احتجاج کے دوران تحریک لبیک کا ایک کارکن ہلاک بھی ہوا تھا۔

سندھ اور بلوچستان کے درمیان قومی شاہراہ کو ڈیرہ مراد جمالی کے مقام پر مظاہرین نے بند کیا جس سے ٹریفک کچھ دیر کے لیے معطل رہی تاہم بعد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد شاہراہ کو کھول دیا گیا۔

تحریک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناتوار کو لاہور میں ہونے والے تصادم کے مناظر

مفتی منیب نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا؟

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے اتوار کی شب ایک پریس کانفرنس میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے گرفتار کیے گئے کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرنے اور ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کے روز ملک بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

کراچی کے دارالعلوم امجدیہ میں مفتی منیب کی زیر صدارت موجودہ صورتحال پر تنظیمات اہلسنت کا اجلاس ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ ٹی ایل پی کی قیادت کو جمع کیا جائے اور بات چیت کی جائے۔

مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جیلوں میں قید کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور تمام جعلی ایف آئی آرز واپس لی جائیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم بطور احتجاج 19 اپریل بروز پیر کو ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں اور تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے امید ہے کہ وہ تعاون کریں گے۔

اتوار کو کیا ہوا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں نے ایک ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے مابین اتوار کو جھڑپیں ہوئیں۔

یہ تصادم ملتان روڈ پر واقع یتیم خانہ چوک میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے مرکز کے قریب ہوا۔

ان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 15 پولیس اہلکار اور متعدد کارکن زخمی ہوئے ہیں جبکہ تحریکِ لبیک کی جانب سے کم از کم دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس نے اتوار کی صبح ان کے مرکز پر دھاوا بولا جبکہ لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ڈی ایس پی نواں کوٹ سمیت پولیس کے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا گیا تھا۔

اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفرانس کے سفارتخانے کے باہر لگے کنٹینر

تحریک لبیک کے ملک میں احتجاجی مظاہرے

تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے اجتجاج کا حالیہ سلسلہ تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس دوران زیادہ کشیدگی والے علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کی گئی تھی، جسے بعد میں بحال کر دیا گیا تھا۔

اس احتجاج کے تناظر میں جمعے کو پاکستان کی حکومت نے ملک میں چار گھنٹوں کے لیے سوشل میڈیا کی متعدد اہم ویب سائٹس تک رسائی پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ نمازِ جمعہ کے دوران لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا تھا کیونکہ ’سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مظاہروں پر اُکسایا جاسکتا ہے۔‘

ٹی ایل پی

،تصویر کا ذریعہEPA

حکومت اور ٹی ایل پی میں 2020 کا معاہدہ

پاکستان کی وفاقی حکومت نے 16 نومبر 2020 کو اسلام آباد میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے ساتھ دھرنا دینے والی تحریک لبیک پاکستان کے سابق سربراہ خادم حسین رضوی سے چار نکات پر معاہدہ کیا تھا جن کے تحت حکومت کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا تھا۔

اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کے بعد فروری 2021 میں مذکورہ جماعت اور حکومت کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا جس کے تحت حکومت کو 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے وعدے پر عمل کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔

حال ہی میں تحریک لبیک نے کورونا وائرس وبا کے باوجود 20 اپریل تک فرانس کے سفیر کی ملک بدری نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔