گوجرانوالہ کا ڈاکٹر باپ جس نے بیٹی کی موت کے بعد اپنی زندگی کا مقصد بدل ڈالا

،تصویر کا ذریعہDR Asad Imtiaz
- مصنف, احتشام احمد شامی
- عہدہ, صحافی، گوجرانوالہ
’میں روتا نہیں کیونکہ اگر میں رونے لگ گیا تو فاطمہ کا مشن کون پورا کرے گا؟ میں رونے لگا تو میرا دھیان بھٹک جائے گا اور باپ بیٹی کے درمیان جو وعدے ہوئے تھے وہ پورے نہ ہوسکیں گے۔ اس لیے میں رونے کی بجائے فاطمہ سے کیے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف دھیان دیتا ہوں۔‘
اپنی بیٹی فاطمہ کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اسد امتیاز کی آنکھیں آج بھی چمک اٹھتی ہیں اور اُن کے ارادے کی مضبوطی کچھ ایسی ہے کہ وہ ہر بار فاطمہ کے ذکر پر اپنے رونے کی خواہش کو دبا دیتے ہیں۔
صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانولہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اسد کو آج سے دو سال پہلے تک شاید ان کے اپنے شہر میں چند ہی لوگ جانتے ہوں گے مگر اب اپنی بیٹی فاطمہ کی بدولت ان کی شناخت بدل چکی ہے کیونکہ اب انھیں ہزاروں لوگ جانتے ہیں۔
مگر دو سال قبل ایسا کیا ہوا تھا کہ اپنی بیٹی کی محبت سے سرشار ایک پروفیشنل ڈاکٹر نے اپنی زندگی کے اہداف ہی بدل ڈالے؟
یہ جاننے کے لیے ہم ان کے گھر پہنچے۔ ڈاکٹر اسد کے چہرے پر بلا کا سکون تھا، مگر اس سکون کے پیچھے جذبات کا ایک طوفان موجزن ہے جس کا اندازہ ہم شروع میں بالکل نہیں لگا سکے تھے۔
گھر میں تین بچوں کی موجودگی کے باوجود خاموشی تھی، غمزدہ کر دینے والی خاموشی۔ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دور دور تک نہ تھی، بچوں کے دادا جان سے بھی ملے مگر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ کسی گہرے صدمے کو برداشت کیے ہوئے تھے۔
یوں لگتا تھا جیسے گھر میں کوئی طوفان آ کر گزر چکا ہے مگر اس کی یادیں ہیں کہ دل و دماغ سے محو ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر اسد بولے ’میری بڑی بیٹی فاطمہ ہم سب کی آنکھ کا تارا تھی۔ دو سال پہلے وہ اچانک کینسر کے مرض کا شکار ہو کر دنیا چھوڑ گئی۔ اس وقت وہ نویں کلاس کی طالبہ تھی۔ اب میرے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو میں روایتی طریقے سے کچھ دن رو دھو کر پھر سے کام کاج میں لگ جاتا، برسی آتی تو ختم وغیرہ دلوا کر اس کام سے سبکدوش ہو جاتا اور بس۔ لیکن میں نے دوسرا راستہ چُنا جو مشکل ضرور ہے لیکن اس سے میں روز قیامت اپنی بیٹی کے سامنے سرخرو ہوں گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہDR ASAD IMTIAZ
جذبات کی رو میں بہتے ڈاکٹر اسد بتاتے گئے ’اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوں گا اور اسے یہ کہہ پاؤں گا کہ تم نے اپنے باپ کے ساتھ جس، جس خواہش کا اظہار کیا تھا تمہارے باپ نے تمہارے اس دنیا سے جانے کے بعد وہ سب خواہشیں پوری کر دی ہیں۔‘
ڈاکٹر اسد امتیاز گوجرانولہ کے واپڈا ہسپتال میں میڈیکل سپیشلسٹ ہیں جبکہ وہ شہر کے ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں بھی شام کے وقت ڈیوٹی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر اسد امتیاز کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں۔ دونوں میاں بیوی میڈیکل کالج میں کلاس فیلوز تھے۔ فاطمہ کی موت کا صدمہ اتنا گہرا ہے کہ ڈاکٹر اسد کی اہلیہ اب بھی ذہنی طور پر اس سے باہر نہیں نکل سکیں ہیں۔
’جب فاطمہ کو اچانک کینسر ہوا تو ہم نے اس کے علاج کے لیے دن رات ایک کیا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ آخری دن تک اپنے ہوش و حواس میں تھی۔ اس کی وکٹری کی فوٹو ہمیں حیران کر دیتی ہے کہ جیسے اسے یقین ہو کہ اس نے موت کو شکست دے کر اور صحت یاب ہو کر گھر واپس آ جانا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہDR ASAD IMTIAZ
وہ یاد کرتے ہیں کہ ’فاطمہ نے ایک دفعہ اپنی ماں سے کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میری طرف سے چیرٹی (خیرات) ہو اور میرے بِل بورڈ شہر میں لگے ہوں۔ تو ماں نے ہنس کے جواب دیا کہ اس کے لیے تو میموریل ہونا پڑتا ہے۔۔۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔۔۔ فاطمہ کی وفات کے بعد فاطمہ اسد ویلفیئر کلینک کے نام سے شہر بھر میں بِل بورڈز لگے۔‘
اتنی چھوٹی عمر میں تو لڑکیوں کے شوق الگ ہوتے ہیں تو فاطمہ کیوں ایسا سوچنے لگی تھی کہ غریبوں کی مدد کرنی چاہیے، کیا وہ کسی شخصیت سے متاثر تھی؟
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر اسد امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ ’عام لڑکی نہیں تھی، وہ حساس طبیعت کی مالک تھی، سکول کی طالبات سول ہسپتال کے دورے پر گئیں جہاں ایک ایک بیڈ پر تین، تین مریض دیکھے، گھر آ کر اس نے مجھ سے ضد شروع کر دی کہ ہسپتال میں غریب لوگوں کو کھانا دینا چاہیے، فاطمہ اسد دستر خوان کا سلوگن اس نے خود رکھا تھا: آئیں مل کر روٹی کھائیں۔۔۔‘

وہ بتاتے ہیں ’جب وہ بیمار تھی اور سی ایم ایچ راولپنڈی میں داخل تھی تو میں نے اسے کہا کہ میں تمہارے لیے آئی فون خریدنا چاہتا ہوں، تو اس نے مجھے میسج کیا کہ پاپا آپ آئی فون نہ خریدیں ان پیسوں سے کسی کی مدد کر دیں، کسی کو راشن لے دیں، کسی کے گھر کا کرایہ ادا کر دیں۔۔۔ میں نے کہا کہ یہ سب تو میں پہلے سے کر رہا ہوں۔۔۔ جس پر اس کا جواب آیا کہ مزید کر دیں، یہاں بہت سے لوگ غریب ہیں۔‘
آج فاطمہ کے مشن کو زندہ رکھتے ہوئے حیدری روڈ پر 200 سے زیادہ مستحق گھرانوں کو روزانہ کھانوں کے پارسل بھجوائے جاتے ہیں، سول ہسپتال میں 700 بیڈز کو دو وقت کا کھانا دیا جاتا ہے، غریب افراد کے گھروں کے کرائے ادا کیے جاتے ہیں، بیواؤں کو ماہانہ تین تین ہزار روپے جیب خرچ دیا جاتا ہے، پڑھائی میں ذہین طلبا اور طالبات کو ماہانہ وظائف دیے جاتے ہیں تاکہ ان کی پڑھائی کا تسلسل نہ ٹوٹے اور شہر کے مختلف مقامات پر الیکٹرک کولرز لگوائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر اسد کہتے ہیں کہ وہ یہ سب کام کر کے فاطمہ کی یادوں کو زندہ رکھ رہے ہیں اور ایک طرح سے اپنی بیٹی کی زندگی جی رہے ہیں۔
’میں اس کی زندگی جی رہا ہوں اور اسی کے لیے جی رہا ہوں، میں نے کبھی خود کو اس سے الگ محسوس نہیں کیا، وہ ہر وقت میرے ساتھ رہتی ہے، لیکن میں کبھی کبھی اس کی کمی بھی محسوس کرتا ہوں، میں اس کی یاد آنے نہیں دیتا، اپنے آپ کو ان چیزوں میں اتنا مصروف رکھتا ہوں کہ جذبات میرے اوپر حاوی نہ ہو جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہDr Asad Imtiaz
فاطمہ اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتی تھی اور وہ صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں پرندوں کے بارے میں بھی سوچتی تھی، پرندوں کو دانا ڈالنا، سخت چلچلاتی دھوپ میں چھت پر پانی ڈالنا تاکہ کوئی پرندہ پیاسا نہ رہ جائے۔
چونکہ فاطمہ کو درختوں اور پرندوں سے پیار تھا اس لیے دو ہزار سے زیادہ درخت لگائے گئے ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیے مالی مقرر ہیں، یار مددگار تنظیم کے ساتھ مل کر شہر کے مختلف علاقوں میں گھونسلے لگوائے ہیں تاکہ پرندوں کو رہنے کے لیے اپنا گھر ملے۔
فاطمہ اسد کے نام سے ایک مدرسے کی تعمیر بھی جاری ہے جہاں بچیوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم بھی سکھایا جائے گا۔
ڈاکٹر اسد کہتے ہیں کہ ’میں نے ان سارے کاموں کے لیے کبھی کسی سے چندہ نہیں مانگا، لیکن ایسا بھی نہیں کہ میں سب کچھ اپنی جیب سے کر رہا ہوں۔۔۔ میرے کچھ قریبی دوست، رشتے دار اور صاحب ثروت مریض جو کہ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور مجھے اعتماد دیتے ہیں، وہ ازخود ہی مجھے اس کار خیر کے لیے رقم پہنچا دیتے ہیں اس وعدے پر کہ ان کی تشہیر نہیں کی جائے گی تاکہ ان کا ثواب ضائع نہ ہو، بیرون ممالک سے بھی کچھ لوگ باقاعدگی سے پیسے بھیجتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہDR ASAD IMTIAZ
وہ کہتے ہیں کہ ’ہر سفید پوش باپ کی طرح میرے ذہن میں بھی فاطمہ کی شادی کے بارے میں پلان تھا اور میں یہی سوچتا تھا کہ یہ اپنی شادی پر پچاس لاکھ سے ایک کروڑ روپے کا خرچہ کروائے گی، اور سچ پوچھیں تو میں نے اس کی شادی کے لیے مختص رقم سے ہی فلاحی کاموں کا آغاز کیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی۔‘
’ایک دن میں نے فاطمہ سے پوچھا کہ اگر تم میٹرک میں فرسٹ آئی تو کیا گفٹ لو گی تو کہنے لگی کہ آپ مجھے پلاٹ دے دینا، اتفاق سے وہ پلاٹ میں نے حال ہی میں خریدا تھا، فاطمہ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ اس پر اب میرا حق نہیں، وہ پلاٹ بیچ کر فاطمہ اسد ویلفیئر فاؤنڈیشن کے نام رقم جمع کروا دی۔‘
’اچھائی کا چراغ بجھنے نہ پائے‘
ڈاکٹر اسد امتیاز بتاتے ہیں کہ ’میری خواہش ہے کہ ٹرسٹ بنے جس میں شہر کے سب لوگ شامل ہوں، میں نے بھی ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے، میرے جانے کے بعد فاطمہ کے شروع کیے گئے کام نہ رکیں۔ ہم تمام منصوبوں میں خصوصاً یوتھ کو ساتھ ملا رہے ہیں، ایک نسل تیار کر رہے ہیں تاکہ اچھائی کا چراغ بجھنے نہ پائے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’میں نے اور میرے ساتھیوں نے فاطمہ کی سالگرہ کو معمول سے ہٹ کر منایا، ہم نے جیل میں سالگرہ مناتے ہوئے وہاں قیدیوں میں کھانا تقسیم کیا اور سات ایسے قیدیوں کے حصے کی جرمانے کی رقم ادا کر کے انھیں رہائی دلائی جوکہ سزا تو پوری کر چکے تھے لیکن جرمانے کی رقم ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے جیل میں قید تھے۔‘
’جب اس کی کیمو تھراپی ہورہی تھی تو وہ ہنس رہی تھی‘

’میں نے اللہ تعالیٰ سے صبر مانگا ہے جوکہ مجھے ملا بھی ہے، میں رونے دھونے کی بجائے اس کی یاد میں کچھ اچھا کرنے پر یقین رکھتا ہوں، جب اس کی کیمو تھراپی ہورہی تھی تو وہ ہنس رہی تھی وکٹری کا نشان بنا رہی تھی میں نے فاطمہ سے کینسر کا پوچھا کہ یہ تمھارے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے تو اس کا جواب مختلف تھا۔۔۔ مجھ اکیلی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا یہاں اور بھی بہت سے لوگ بیمار ہیں۔۔۔ اس کی بات میرے لیے حیرت اور خوشی کا باعث تھی، ناشکری کا ایک لفظ تک اس کی زبان پر نہیں آیا۔‘
ڈاکٹر اسد نے بتایا کہ علاج کے دوران جب فاطمہ کے بال اتارے گئے تو انھوں نے بھی بھی گنج کروالی جس پر فاطمہ بے حد خوش ہوئی کہ اور دونوں باپ بیٹی اپنے سر ساتھ ملاتے اور گپ شپ کرتے۔

،تصویر کا ذریعہDR ASAD IMTIAZ
’میں نے اور میری اہلیہ نے عہد کیا تھا کہ ہم فاطمہ کے سامنے نہیں روئیں گے، لیکن ایک روز میرے صبر کا پیمانہ ٹوٹ گیا اور میں رو پڑا تو فاطمہ نے میرا سر اپنی گود میں رکھ کر مجھے دلاسا دیا، کس قدر حوصلہ تھا اس میں کہ وہ بستر مرگ پر پڑی تھی اور مجھے صبر کرنے کی تلقین کررہی تھی۔‘
’مجھے یقین ہے کہ مرنے کے بعد میں نے فاطمہ سے ملنا ہے، تو میں اس کی تیاری میں ہوں تاکہ اسے بتا سکوں کہ آپ کے بابا کو آپ سے کتنی محبت تھی، اور یہ محبت اس کی زندگی ختم ہونے کے بعد کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھتی ہی چلی گئی، محبت کے لیے زندگی ضروری نہیں۔‘











