سعودی عرب نے پاکستان سے قرض کی جلد واپسی کا مطالبہ کیوں کیا؟

قیدی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان سعودی عرب تعلقات میں تبدیلی تو آئی ہے لیکن اس تبدیلی کی وجہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال ہے: معید یوسف
    • مصنف, سارہ عتیق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کورونا کی وبا کے آغاز سے ہی وزیر اعظم عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے تمام ترقی پزیر ممالک کے قرضوں کو معاف یا ان کے ادائیگی کے لیے ان ممالک کو مزید وقت دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

مغربی ممالک کے ایک گروپ پیرس کلب نے حال ہی میں پاکستان کے ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کو مزید موخر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

لیکن جہاں پاکستان کو قرضے کی واپسی پر یہ ریلیف ملا وہیں پاکستان کے قریبی اتحادی اور برادر ملک کہلائے جانے والے سعودی عرب نے پاکستان سے تین ارب ڈالر قرضے کی جلد واپسی کا مطالبہ کیا جس میں سے پاکستان نے چین کی مدد سے دو ارب ڈالر کی ادائیگی دو اقساط میں کر دی ہے جبکہ بقایا ایک ارب ڈالر کی ادائیگی جلد متوقع ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا سعودی عرب کی طرف سے ادھار کی واپسی کا مطالبہ پاکستان کے ساتھ ناراضگی کا اظہار تو نہیں؟

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات میں تبدیلی تو آئی ہے لیکن اس تبدیلی کی وجہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال ہے۔

'امریکی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے، چین ابھر رہا ہے، دنیا میں طاقت کے نئے مرکز بن رہے ہیں، بہت سے مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، امریکہ میں نئی حکومت آنے سے کچھ تبدیلی متوقع ہے جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو ایسی صورت حال میں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے تعلقات بھی ایک جیسے رہیں گے۔'

مزید پڑھیے

معید یوسف کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان سعودی عرب کے تعلقات جو ستر سال سے ہیں ویسے ہی رہیں، ان میں تبدیلی آئے گی اور اگلے کچھ ماہ تک پاکستان سعودی تعلقات کا توازن خراب نظر آئے گا۔

سعودی عرب کی جانب سے قرضے کی جلد ادائیگی کے مطالبے سے متعلق معید یوسف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایک خود مختار ملک ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت ہمیں یہ پیسے پاکستان سے واپس چاہییں تو پاکستان نے اسی وقت اس قرض کی ادائیگی کر دی۔

پاکستان سعودی تعلقات کا اتار چڑھاؤ گزشتہ دو سال میں کافی واضح رہا ہے۔ 2018 میں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معاشی صورت حال اور قرضوں کی ادائیگی سے متعلق مشکلات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر کا نہ صرف قرضہ دیا بلکہ اتنی ہی قیمت کا ادھار تیل فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

2019 میں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تو دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا اور محمد بن سلمان نے تو خود کو پاکستان کا سفیر ہی کہہ ڈالا۔

moeed

لیکن جب انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی تو پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے متوقع سپورٹ نہ مل سکی جس کی شکایت پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کرتے دکھائی دیے۔

شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد ہی سعودی عرب کی جانب سے جلد قرض کی ادائیگی کا مطالبہ سامنے آیا۔ جبکہ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ پاکستان کا ایران اور ترکی کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ بھی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات میں کچھ معاملات میں اتار چڑھاؤ تو رہے گا۔

'کچھ معاملات پر ان کے ساتھ ہمارا اتفاق ہوگا اور کچھ پر ایسا نہیں ہوگا۔'