سیلابی صورتحال: سندھ کے 20 اضلاع آفت زدہ قرار، سندھ اور بلوچستان میں مون سون کی مزید بارشوں کی پیشگوئی

کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رواں مون سون کے دوران شدید بارشوں کے باعث مختلف ضلعوں میں جانی و مالی نقصان کے باعث 20 اضلاع آفت زدہ قرار دے دیے گئے ہیں۔

سندھ حکومت کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ان میں کراچی کے چھ ضلعے، حیدرآباد، بدین، ٹھٹہ، سجاول، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، دادو، میرپور خاص، عمر کوٹ تھرپارکر، شہید بینظیرآباد، اور سانگھڑ شامل ہیں۔

ان تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نقصانات کا تخمینہ لگا کر معاوضوں کی ادائیگی کے لیے اقدامات کریں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

یاد رہے کہ کراچی سمیت پاکستان کے بعض علاقوں میں طوفانی بارش کے بعد سول انتظامیہ اور فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے۔

سندھ کے کئی علاقوں میں مون سون بارشوں سے لوگوں کے گھر، کاروبار اور زندگیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں گذشتہ دو روز سے بجلی، گیس اور موبائل سروس جیسی بنیادی ضروری کی عدم دستیابی کے مسائل بھی موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب گلگت بلتستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق چلاس کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ قراقرم بند ہے۔ اسی طرح بابو سر ٹاپ روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے بڑے سیلابی ریلوں نے ضلع سکردو کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا ہے۔

کراچی میں بعض جگہوں پر رابطے منقطع ہونے سے لوگ اپنے خاندان اور دوست احباب سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور نیٹ ورک کی بندش کو بارش کے اثرات سے جوڑا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر علی حیدر زیدی کا کہنا ہے کہ کراچی میں ان کے علاقے میں جمعرات سے بجلی نہیں آئی۔ الیکٹرک نے گذشتہ روز کے سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سڑکوں اور گلیوں سے پانی ہٹائیں تاکہ بجلی بحال کی جاسکے۔ ’بجلی کی بحالی میں اربن فلڈنگ سب سے بڑی مشکل ہے۔‘

صحافی زبیر خان کے مطابق سنیچر کو نو محرم کے جلوسوں کے دوران کراچی کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث سکیورٹی موبائل سروس معطل کی گئی ہے۔ جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

بارش، کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آرمی کے انجینیئرز نے کراچی میں شارعِ فیصل کے مقام پر سی او ڈی انڈرپاس کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ کے پی ٹی انڈرپاس پر کام جاری ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ کئی اہم مقامات پر آرمی موبائل ریکوری گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں تاکہ پانی میں پھنس کر خراب ہو چکی گاڑیوں کو ہٹا کر ٹریفک کو رواں دواں رکھا جا سکے۔

اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا کہ 32 ایمرجنسی میڈیکل اور 56 ریلیف کیمپ بنائے گئے ہیں جو شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر مشکلات کے شکار لوگوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔

مزید برآں تین آرمی فیلڈ میڈیکل کیمپ قیوم آباد، سرجانی اور سعدی ٹاؤن میں قائم کیے گئے ہیں جہاں فوج کے ڈاکٹر اور طبی عملہ سیلاب سے متاثر لوگوں کو فوری طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

بارش، کراچی

،تصویر کا ذریعہEPA

وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میری سندھ حکومت کے ساتھ مل کر فوری طور پر کراچی کے تین بڑے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے۔

’ان میں شہر بھر کے نالوں کی مکمل صفائی، آبی گزرگاہوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات سے نمٹنا، کوڑا کرکٹ اور نکاسی آب کے مسائل کا مستقل حل دریافت کرنا اور کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی جیسے بنیادی اور اہم ترین مسئلے کا حل شامل ہے۔‘

عمران خان، پاکستان، سندھ، بارشیں

،تصویر کا ذریعہTWITTER

کراچی سے بجلی اور موبائل سروس کیوں غائب؟

سوشل میڈیا پر بعض اطلاعات کے مطابق ڈیفنس، منظور کالونی، کلفٹن سرجانی ٹاوؤن، ملیر، ریلوے پولیس لائن، ایف سی ایریا، ایف بی ایریا، مسلم ٹاؤن اور پاک کالونی سمیت کراچی کے کئی علاقوں میں دو دن سے بجلی نہیں آئی۔

لیکن بات یہیں تک محدود نہیں۔ بجلی کے علاوہ موبائل سروس کی معطلی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

حسین شیخ نامی صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کراچی میں بارش کو بولو نہ برسے لوگوں کو پریشانی۔ سگنل بند، بجلی بند، دفاتر بند، سب کچھ بند سمجھے۔‘

موبائل نیٹ ورک کمپنیز جیز اور یوفون نے سوشل میڈیا پر صارفین کی شکایات کے جواب میں لکھا کہ بارش کے باعث نیٹ ورک متاثر ہوا ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیمیں ترجیحی بنیادوں پر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بجلی، گیس، سگنل

،تصویر کا ذریعہTWITTER

عبدالوہاب نے لکھا کہ ’کراچی میں 48 گھنٹوں سے بجلی، پانی، گیس نہ ہی موبائل کے سگنل ہیں۔‘

اس حوالے سے بعض لوگوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ممکن ہے نو اور دس محرم کے جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے کچھ جگہوں پر موبائل نیٹ ورکس معطل کیے گئے ہوں۔

موبائل، نیٹ ورک، بجلی، گیس

،تصویر کا ذریعہTWITTER

رہبر نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’کراچی میں شدید بارش اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر میں موبائل فون سروس بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔۔۔ موبائل ٹاورز پر موجود جنریٹر میں ایندھن ختم ہوگیا ہے۔‘

’کراچی کب ان اندھیروں سے نکلے گا؟‘

صحافی زبیر خان کے مطابق کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں محرم کے جلوس نکلنے کا سلسلہ صبح سے شروع ہوچکا ہے اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلوسوں والے مقامات کے اردگرد کے علاقوں میں موبائل نیٹ ورک بند رکھے جائیں گے۔

دوسری طرف کے الیکٹرک کے مطابق ’کراچی کے جن علاقوں میں ابھی بھی پانی کھڑا ہے، جن میں زیادہ تر کراچی کے نشیبی علاقے ہیں، وہاں پر بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔۔۔ جن علاقوں سے پانی نکل چکا ہے وہاں بحالی کا کام کر دیا گیا ہے یا جاری ہے۔‘

لیکن بعض افراد نے محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں پر عدم اعتماد بھی ظاہر کیا ہے۔

امتیاز چانڈیو نے طنزیہ لکھا کہ ’محکمہ موسمیات کی پیش گوئی سے بہتر ہے کسی بزرگ مچھیرے کو نوکری دے دیں، وہ آسمان کا رنگ دیکھ کر بتائے گا کہ بارش ہوگی یا نہیں۔‘

ٹوئٹر، بارش

،تصویر کا ذریعہTWITTER

’مزید اربن فلڈنگ کا خدشہ‘

محکمہ موسمیات نے تمام اداروں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہفتہ سے پیر کے دوران سندھ اور بلوچستان میں مزید مون سون بارشیں‘ ہوسکتی ہیں جس دوران ’زیریں سندھ کے نشیبی علاقے دوبارہ زیر آب آنے کا خدشہ‘ موجود ہے۔

کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، میرپور خاص اور بدین میں اتوار اور پیر کو موسلا دھار بارش کے باعث مزید اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سبی، قلات، خضدار، لسبیلہ اور ڈیرہ غازی خان کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وفاقی حکومت امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں صوبے کی مدد کرے گی۔

سیلاب
،تصویر کا کیپشنذریعہ: این ڈی ایم اے کے ڈیٹا پر مبنی

کم از کم 23 افراد ہلاک

کراچی پولیس کے مطابق جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کراچی پولیس تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شرقی ضلع کے علاقے سچل میں تین افراد انتہائی تیز پانی میں بہہ گئے تھے۔ تاہم پولیس کے مطابق ابھی بھی مختلف واقعات میں بہہ جانے والے افراد کی لاشیں ملنے کا عمل جاری ہے جن کو مختلف سرد خانوں میں رکھا جارہا ہے۔

بارش، کراچی

،تصویر کا ذریعہReuters

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق کراچی پولیس کے پبلک ریلیشن آفس کا کہنا ہے کہ ابھی پولیس اس صورتحال میں نہیں ہے کہ وہ ہلاک ہونے والوں یا جمعے کے روز ملنے والی لاشوں کے حوالے سے اعداد و شمار بتا سکے۔

جبکہ ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق جمعے کو انھیں کراچی سے آٹھ لاشیں ملی ہیں۔ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران 26 اگست کو 17 افراد، 27 اگست کو 24 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 28 اگست کو آٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ایدھی کے ریکارڈ کے مطابق شہر میں بارش کے باعث سیلابی پانی میں ڈوب کر، دیواریں اور چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات میں 49 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں رواں سال اگست کے دوران 70 فیصد بارشیں ہوئی ہیں۔