بلوچستان: خضدار میں ایک ہندو تاجر کے قتل کے بعد احتجاج

بلوچستان
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں فائرنگ سے ہندو تاجر کی ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج کاروباری مراکز بند رہے جبکہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی بند کیا گیا۔

وڈھ پولیس کے ایک سینئیر اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ہندو تاجر نانک رام گذشتہ روز وڈھ شہر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔

انھیں پہلے ابتدائی طبی امداد کے لیے آر ایچ سی وڈھ منتقل کیا گیا تھا۔ طبی امداد کی فراہمی کے بعد بہتر علاج کے لیے ان کو خضدار کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ اتوار کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

سینئیر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہندو تاجر پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے تاہم ابھی تک ان کے رشتہ داروں کی جانب سے کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔

بعض ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے ہندو تاجر کو بھتے کے لیے دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ٹریفک

خیال رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے اس واقعے پر احتجاج کی کال دی تھی۔

مظاہرین نے وڈھ کے مقام پر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو بھی بطور احتجاج بند کر دیا تھا تاہم ڈپٹی کمشنر خضدار طفیل بلوچ کی جانب سے قاتلوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی پر مظاہرین نے شاہراہ کھول دی۔

بلوچستان کی ہندو برادری

بلوچستان میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد صدیوں سے آباد ہیں۔ وہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تجارت سے وابستہ ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں ہندو برادری کی آبادی سوا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر شہری علاقوں میں رہائش پزیر ہیں۔

بلوچستان میں رہائش پذیر ہندو گھروں میں سندھی بولتے ہیں لیکن وہ جن جن علاقوں میں رہتے ہیں وہاں کی مقامی زبانوں پر بھی ان کو عبور حاصل ہوتا ہے۔

بلوچستان میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ کہاں کہاں آباد ہیں؟

اگرچہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تھوڑی بہت آبادی بلوچستان کے زیادہ تر شہروں میں ہے لیکن جن شہروں میں ان کی آبادی زیادہ ہے ان میں کوئٹہ کے علاوہ ڈیرہ بگٹی، سبی، نصیر آباد، جعفر آباد، قلات، نوشکی ، جھل مگسی ، لسبیلہ ، خضدار، چمن اور ژوب شامل ہیں ۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد تجارت سے وابستہ ہیں اور ان کی زیادہ آبادی بلوچ علاقوں میں ہے۔ پشتون علاقوں میں ان کو کاروباری مسابقت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بلوچستان میں ہندو برادری کے لیے مشکلات کا آغاز کب ہوا؟

اگرچہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد قیام پاکستان سے پہلے سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد تھے لیکن مجموعی طور پر سنہ 2000 سے قبل ان کو یہاں کسی بڑی پریشانی اور مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔

ان کی مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب سنہ 2000 کے بعد بلوچستان میں بد امنی کے دیگر واقعات کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان کے واقعات بھی شروع ہوئے۔

بلوچستان میں سنہ 2007 کے بعد سنہ 2016 تک اغوا برائے تاوان کے واقعات عروج پر رہے۔ اس دوران دیگر تاجروں کی طرح ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی تاوان کی غرض سے اغوا کرنے کے واقعات ہوئے۔

اغوا کی کوشش اور اغوا کاروں کی تحویل کے دوران دیگر تاجروں کی طرح بعض ہندو تاجروں کی ہلاکت بھی ہوئی۔

ان واقعات کے باعث پہلی مرتبہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے بعض خاندانوں کو بلوچستان سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ تاہم سنہ 2016 کے بعد سے اغوا برائے تاوان کے کم واقعات سامنے آئے ہیں۔