ِخضدار میں ہندو تاجر کے اغوا کے بعد احتجاج

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا میں صحافیوں کے لیے جن دس شہروں کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا ان میں خضدار شہر بھی شامل ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا میں صحافیوں کے لیے جن دس شہروں کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا ان میں خضدار شہر بھی شامل ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے خضدار سے ایک ہندو تاجر کو اغوا کر لیا گیا ہے جس کے بعد علاقے کے تاجروں نے اس واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مقامی پولیس کے مطابق مسلح افراد نے ہندو تاجر کو اتوار کی صبح خضدار شہر سے اس وقت اغوا کیا جب وہ اپنی دکان پر بیٹھے تھے۔

پولیس نے جائے وقوعہ سے جو شواہد اکٹھے کیے ان کے مطابق تین کے قریب مسلح افراد ایک گاڑی میں آئے۔یہ مسلح افراد ہندو تاجر چندر لعل کو گاڑی میں دھکیل کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

اغوا کے اس واقعے کے بارے میں مغوی تاجر کے والد بجن لعل جو کہ خود بھی تاجر ہیں فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی پرچون کی دکان تھی۔

انہوں نے بتایا کہ’میرے بیٹے کے دکان کے قریب جن دوسرے لوگوں کی دکانیں تھیں، انہوں نے مجھے فون پر بتایا کہ میرے بیٹے کو تین مسلح افراد ایک ٹوڈی گاڑی میں دھکیل کر لے گئے۔‘

اس واقعہ کے بعد شہر میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تاجروں کی دکانیں بند ہوگئیں اور تاجروں نے اس واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہر ہ کیا۔

مظاہرے کے شرکا نے ہندو تاجر کی فوری بازیانی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ ہندوؤں سمیت تمام تاجروں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔

خضدار کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں امن وامان کی صورتحال خراب ہے ۔تین ماہ قبل ہندوؤں نے عدم تحفظ کی وجہ سے خضدار شہر میں دس دن سے زائد تک اپنی دکانوں کو بند رکھا تھا۔

اس سال کے اوائل میں جو اجتماعی قبریں دریافت ہوئی تھیں وہ بھی خضدار ہی کے علاقے توتک میں تھیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا میں صحافیوں کے لیے جن دس شہروں کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا ان میں خضدار شہر بھی شامل ہے۔