لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لانگ مارچ جاری

پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ کئی سالوں سے جاری ہے اور متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ کئی سالوں سے جاری ہے اور متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری لانگ مارچ چودھویں روز ضلع خضدار کے علاقے سونارو پہنچ گیا ہے۔

اس پیدل لونگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے ہوا تھا اور اس کی منزل 700 کلومیٹر دور کراچی شہر ہے۔

سنیچر کو مارچ کے شرکا صوبے کے ضلع خضدار کے علاقے سونارو پہنچ گئے۔ اس مارچ کی قیادت بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ کر رہے ہیں۔ مارچ کے شرکاء کو کراچی تک مزید دو سو 85 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرناہے۔

بلوچستان کی تاریخ میں یہ پیدل لانگ مارچ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے اور اس میں خواتین اور بچے بھی شریک ہیں۔

کراچی پہنچنے کے بعد لانگ مارچ کے شرکاء وہاں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پہلے سے جاری علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھیں گے۔

یہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ 27 اکتوبر کو لانگ مارچ کے آغاز سے قبل سے کوئٹہ اور کراچی میں جاری رہا۔

لانگ مارچ کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اس سے پہلے بھی متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ حالیہ دنوں صوبے میں لاپتہ افراد کے مسئلے میں شدت آئی ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ اعلیٰ عدلیہ میں بھی زیر سماعت ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں متعدد بار اپنی رپورٹس میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر اپنے تحفظات کا اظہار اور حکومت پاکستان پر اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دے چکی ہیں۔