ژوب کا مندر ہندو برادری کے حوالے

مندر

بلوچستان کے ضلع ژوب میں طویل عرصے بعد ایک مندر کو واپس ہندو برادری کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ژوب کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق مندر کو ہندو برادری کے حوالے کرنے کے باعث یہاں موجود پرائمری سکول کو جلد متبادل جگہ پر منتقل کیا جائے گا۔

ژوب شہر کے ہندو محلے میں واقع مندر کی حوالگی کے لیے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں باقاعدہ طور پر مندر کی چابی ہندو برادری کے حوالے کی گئی۔

اس تقریب کے مہمان خاص ژوب کی جامع مسجد کے خطیب مولانا اللہ داد کاکڑ تھے۔ مذہبی علما، قبائلی عمائدین اور سرکاری حکام کے علاوہ ہندو اور سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

مندر کی تاریخ؟

ژوب میں ہندو برادری کے چیئرمین سلیم جان نے بتایا کہ یہ مندر ویسے زیادہ پرانا ہے لیکن شاید سنہ 1929 میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا کیونکہ اس پر یہی سال درج ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد زیادہ تر ہندو یہاں سے چلے گئے تھے جس کے بعد سے یہ مندر بند تھا لیکن 30 سال پہلے اس میں ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا۔

مندر

ہندو برادری کے چیئرمین نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے مندراور اقلیتوں کے بعض دیگر معاملات بلوچستان ہائیکورٹ میں زیر غور آئے تھے جس پر بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں ایک بینچ نے یہ مندر ہندوبرادری کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

مندر کی واپسی پر ہندو برادری کا ردعمل

ژوب انتظامیہ کے اہلکاروں اور مذہبی علما نے مندر کی واپسی کے عمل کو مذہبی ہم آہنگی کی ایک اعلیٰ مثال قرار دیا۔

ہندو برادری کے مقامی چیئرمین کا کہنا ہے کہ 70سال بعد ہندو برادری کو ان کی سب سے بڑی عبادت گاہ مل گئی جس سے بڑھ کر ان کے لیے خوشی کی اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔

انھوں نے اس پر چیف جسٹس اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ انھیں شمشان گھاٹ کے لیے زمین دلانے کے علاوہ ان کو رہائشی کالونی کے لیے بھی زمین دلائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ژوب کے علاقے غریب آباد میں برادری کا ایک اور مندر بھی ہے جو کہ خستہ حالی سے دوچار ہے۔ انھوں نے متعلقہ حکام سے اس مندر کی مرمت کے لیے اقدامات کرنے کی درخواست کی۔