وہ ہندو جنھیں پاکستانی مسلمان سمجھا گیا

،تصویر کا ذریعہShilpi batra
آنگن میں کھیلتے بچے، پشتو زبان میں لوک گیت گاتی خواتین اور بڑی بڑی مونچھوں پر تاؤ دیتے مرد۔ ایک گھر جہاں سکون ہو ، تصور کریں کہ یہی گھر ملک کی تقسیم کے دوران ایک نہیں دو مرتبہ اجاڑا گیا ہو۔
یہ کاکڑ قبیلے کے ان ہندو پشتونوں کی حقیقت ہے جنہیں 1893 میں برطانوی حکومت کی جانب سے افغان پاکستان کے درمیان کھینچی جانی والی ڈیورنڈ لائن کے سبب پہلے افغانستان سے پاکستان آنا پڑا اور پھر 1947 میں پاکستان سے انڈیا۔

کسی زمانے میں بلوچستان کے الگ الگ حصوں میں رہنے والے یہ ہندو پشتون 1947 کے بعد پنجاب کے راج پورہ، اور راجستھان کے انیارہ، چتوڑ گڑھ اور جے پور شہر میں آکر بس گئے۔
کاکڑ قبیلے کے بزرگوں کی آنکھوں میں اپنی شناخت کھو دینے کی اداسی صاف نظر آتی ہے۔

جسودا کے چہرے کی کھال لٹک چکی ہے، چہرے پر گودے گئے نشان یا ٹیٹو انکی جھریوں میں چھپ گئے ہیں۔ جسودا 20 سال کی عمر میں بھارت آئی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'لوگ ہمیں دیکھ کر مذاق بناتے تھے، ہماری بولی اور پہناوے کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بٹوارے کے سبب ہمیں راتوں رات بھارت آنا پڑا اپنی بولی اور پہناوا بدلنا پڑا۔
بٹوارے سے پہلے یہ لوگ بلوچستان کے کوئٹہ، لورالائی اور مینختر علاقوں میں رہا کرتے تھے جہاں کاکرری قبیلے کے لوگ آج بھی رہتے ہیں۔لیکن اب پاکستان اور بھارت کے کاکری لوگوں کی زندگی اب کافی مختلف ہو گئی ہے۔

چندر کلا بٹوارے کی رات کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں 1893 میں ڈیورنڈ لائن نے ہمارا ملک چھینا اور 1947 کے بٹوارے نے گھر۔ ان کا کہنا تھا پولیس آئی اور ہم سے کہا کہ صرف ایک رات ہے جو ساتھ لے سکتے ہو لے لو ہم تھالی میں گوندا ہوئے آٹے سے لیکر اپنا مال مویشی تک اپنا سب کچھ وہیں چھوڑ آئے۔
کاکڑ لوگوں کو ہندو ہونے کی وجہ سے بھارت میں گھر تو مل گئے لیکن کچھ جدو جہد گھر ملنے سے آگے کی ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

اس قبیلے کی عورتوں کے چہروں پر جو نشان گودے جاتے تھے انہیں پشتو میں 'شین خالئی' کہتے ہیں۔ شین خلائی کے سبب ان عورتوں کو لوگوں کی گھورتی آنکھوں کو جھیلنا پڑتا تھا۔ لوگوں نے سوال کیا کہ 'تم پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کی طرح کیوں نہیں لگتے۔ تمھارا پہناوا ایسا کیوں ہے کیا تم کوئی بہروپیے ہو'۔
ان سوالوں سے تنگ آکر ان لوگوں نے خود کو پشتون نہ کہہ کر پنجابی کہنا شروع کر دیا۔ چونکہ یہ لوگ پشتونوں اور پٹھانوں کے درمیان رہے تھے جس کے سبب ان کی بولی اور پہناوا بھی ان کے جیسا تھا جسے دیکھ کر انہیں مسلمان سمجھا گیا اور شک کی نگاہوں سے دیکھا گیا۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے خود کو گھروں میں قید رکھنا شروع کر دیا۔ مقامی لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے کے لیے اپنی زبان اور پہناوا بدلنا شروع کر دیا۔
90 سالہ بخت بری کہتی ہیں 'میرے پاس پشتو زبان کے سوا کچھ نہیں بچا تھا لیکن اب ہمارے بہو اور بچے پشتو نہیں بولتے، بچے ہماری زبان پر ہنستے ہیں اب میں پشتو نہ بولوں تو کیا بولوں'۔
دس سال کی عمر میں بھارت آنے والے تلسی داس کی بھی کہانی بھی ایسی ہی ہے۔اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے تلسی داس کہتے ہیں کہ لوگ ہم سے نفرت کرتے تھے کیونکہ ہمارا پہناوا مسلمانوں جیسا تھا۔آہستہ آہستہ ہم نے اپنا پہناوا تبدیل کر دیا۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا کاکڑ قبیلے کی شناخت صرف کتابوں میں رہ جائے گی۔ شاید نہیں۔

اس قبیلے کی تیسری نسل کی شلپی بترا 'شین خالئی' نام سے ایک دستاویزی فلم بنا رہی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ ان کی دادی اور نانی نے معاشرے میں گھلنے ملنے کے لیے چھوڑ دیا تھا انہیں پھر سے زندہ کیا جا سکے۔
شلپی بتاتی ہیں کہ 'بچپن میں ایک بار جب میں نے اپنی دادی سے کہا کہ باہر چل کر میرے ساتھ کھیلو تو وہ خوفزدہ ہو گئیں اور کہنے لگیں نہیں نہیں میں باہر نہیں جاؤنگی لوگ میرے چہرے کو گھورتے ہیں'۔اس قبیلے کی عورتیں اتنی خوفزدہ ہیں کہ ان کے روایتی لباس برسوں سے ٹرنک میں بند ہیں۔
حالانکہ جسودا اب ساڑھی پہنتی ہیں لیکن کاکری قمیض سے دل ہی دل میں انہیں لگاؤ ہے۔
کاکڑ قمیض بنانے میں پورا ایک سال لگتا ہے اور اس کی سجاوٹ کے لیے اس میں سکے لگائِے جاتے تھے جس کی قمیض میں جتنے زیادہ سکے ہوتے تھے وہ اتنا ہی رئیس ہوتا تھا۔
سالوں سے اپنی شناخت چھپا کر رکھنے والے ان لوگوں کو اس بات کا ملال ہے کہ ان کے بعد ان کی شناخت اور رسم و رواج کون آگے بڑھائے گا۔







