بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی میں عمران خان کی جانب سے اسامہ بن لادن کو شہید کہنے پر ردِعمل: ’بینظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے مگر ایک دہشت گرد ان کے نزدیک شہید ہے‘

،تصویر کا ذریعہPTV
عام طور پر تصور کیا جاتا ہے کہ پارلیمان میں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور جمہوری اصولوں کے مطابق کسی کے آزادی اظہار کو سلب نہیں کیا جا سکتا تاوقت کہ وہ کسی اور کے حقوق یا جذبات کو پامال نہ کر رہا ہو۔
تاہم پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو ہونے والی بحث کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے چند الفاظ اس وقت حذف کر دیے گئے جب انھوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسامہ بن لادن کو شہید کہنے کی مذمت کی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بلاول کی وزیر اعظم پر تنقید کے دوران سپیکر نے ایسا قدم اُٹھایا ہو۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پارلیمان کے ایوان زیریں میں گذشتہ ہفتے اپنے خطاب کے دوران اسامہ کی ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسامہ کو امریکہ نے ’شہید‘ کیا۔
پیر کو پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم عمران خان کی گذشتہ اجلاس میں تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ: ’وزیر اعظم صاحب نے اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے دیا۔ یہ وہ اسامہ بن لادن ہے جس نے پاکستان کے شہریوں، پاکستان کے بچوں کو شہید کیا ہے، ہماری افواج ہمارے فوجیوں کو شہید کیا ہے۔‘
ان کے مطابق اسامہ ’شہید محترمہ بنیظر بھٹو کے کیس سے لے کر کارساز اور 1993 میں رمزی یوسف پر قاتلانہ حملے تک کا الزام اسامہ بن لادن پر ہی ہے۔ یہ آدمی جن کو ہم وزیر اعظم کہتے ہیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو، مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو، جو دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئیں، یہ وزیر اعظم شہید محترمہ بنظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے مگر اسامہ بن لادن کو شہید کہہ سکتے ہیں۔‘
یہی نہیں، اصل ہنگامہ تو ان کی تقریر کے اگلے جملے پر برپا ہوا۔ بلاول نے وزیر اعظم کا ذکر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ: ’یہ وزیر اعظم احسان اللہ احسان اور حکیم اللہ محسود۔۔۔ جو طالبان تھے، جو دہشت گرد تھے، یہ بزدل اُن کے خلاف بول نہیں سکتا تھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ لفظ ’بزدل‘ کو اسمبلی کی کارروائی سے حذف کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے اس بات کو پھر دہرایا، مگر بلاول نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ: ’جناب سپیکر آپ مجھے روک نہیں سکتے اور نہ ہی آپ وزیر اعظم کا دفاع کر سکتے ہیں۔ انھوں نے ہماری عوام کی بے عزتی کی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے بلاول بھٹو سے رکنے کے لیے کہا تاہم بلاول نے اپنی بات جاری رکھی۔ سپیکر بار بار بلاول سے کہتے رہے ’آپ تشریف رکھیں‘ لیکن پیپلز پارٹی کے چیئر مین نے ان کی ایک نہ سنی۔
پھر بلاول بھٹو نے ایک پُرانا سیاسی نعرہ دہرایا: ’دہشت گردوں کے جو یار ہیں۔۔۔‘ جسے حزب مخالف کے اراکین پارلیمان نے مکمل کیا۔ اس پر سپیکر نے ایک بار پھر کہا کہ ’آپ تشریف رکھیں، میں بات کرتا ہوں‘۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NAofPakistan
بظاہر بلاول پر ان کا بس نہیں چل رہا تھا۔ اسی دوران بلاول نے حکومت کے دیگر اراکین کو برائے نام مخاطب کر کے پوچھنا شروع کیا: ’فواد چوہدری صاحب، آپ سمجھتے ہیں اسامہ بن لادن شہید ہے؟ شاہ محمود قریشی صاحب، بابر اعوان صاحب، فہمیدہ مرزا صاحبہ، کیا اسامہ بن لادن شہید ہے؟ جواب دیں؟‘
اس سب کے دوران سپیکر اسد قیصر مسلسل بلاول کو روکنے کی کوشش کرتے رہے اور کہتے رہے کہ انھیں ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ایوان میں وزیر اعظم کیا، کسی بھی ممبر کے خلاف اس قسم کے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں۔ ’بلاول صاحب آپ کوشش کریں کہ بزدل جیسے الفاظ استعمال نہ کریں۔ آپ بزدل لفظ واپس لے لیں۔‘
اس پر بلاول بھٹو نے پوچھا، ’کس قسم کے الفاظ؟ جناب سپیکر، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینا، اتنے دن گزرنے کے بعد وضاحت نہیں دینا، معافی نہیں مانگنا، کیا اس کرسی کی توہین نہیں ہے؟ اس ہاؤس کی توہین نہیں ہے؟ ہر پاکستانی کی توہین نہیں ہے؟‘
بلاول بھٹو زرداری نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ: ’جنابِ سپیکر، آپ اُس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں (دہشتگردی کے خلاف جنگ سے) اتنا سارا نقصان ہوا۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ آپ ہمارے شہیدوں کا نہ دفاع کر رہے ہیں اور ہمارے وزیر اعظم کے بیان کو حذف بھی نہیں کر رہے ہیں، مگر ہماری بات پر آپ اپنے کمنٹس دے رہے ہیں۔ آپ کی مرضی۔۔۔‘
آخر میں سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اس ہاؤس میں ہر ممبر باعزت ہے اس کے بارے میں جب بھی کوئی لفظ بولا جائے تو احترام سے بولا جائے۔
وفاقی وزرا کا ردعمل
اس کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر گئی جبکہ سپیکر نے حکومتی وزیر مراد سعید کو تقریر کی اجازت دی۔
سپیکر اسد قیصر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ہدایت کی کہ وہ جائیں اور حزب اختلاف کو منا کر لائیں، جس پر مراد سعید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو منانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جب ان کی تقریر مکمل ہوجائے گی تو اپوزیشن اراکین خود ہی اسمبلی میں واپس آ جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ یہ دہشتگردی اسی کو مانتے ہیں جسے امریکہ دہشت گردی قرار دیتا ہے، یہ امریکہ سے ڈرون حملے کرواتے اور یہاں پارلیمان میں مذمت کرتے تھے۔ انھوں نے امریکہ کے ساتھ سازباز کر رکھی تھی کہ تم ڈرون کرتے جاؤ ہم مذمت کرتے جائیں گے۔
مراد سعید کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی اصل وارث زرداری خاندان نہیں بلکہ فاطمہ بھٹو ہیں، انھوں نے کہا کہ فاطمہ بھٹو کی کتاب پڑھ لیں سب کی آنکھیں آنکھیں کھل جائیں گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جو مرضی کر لے، چاہے سڑکوں پر آجائے مگر ہم اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے وہ کیوں استعفی دیں۔










