بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگر انھیں گرفتار کیا گیا تو بہن آصفہ ان کی آواز بنیں گی

بلاول آصفہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی ’گیدڑ بھبکیوں‘ میں نہیں آئیں گے اور اگر اُنہیں کسی مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری ان کی آواز ہوں گی۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے کسی بھی ’غیر قانونی اقدام کی توقع کی جاسکتی ہے‘۔

جمعرات کو قومی احتساب بیورو میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے جب کراچی میں اعلان کیا کہ اگلے مہینے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مہنگائی اور موجودہ حکومت اور آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف جدوجہد کا آغاز کریں گے تو فوری طور پر اُنھیں نیب میں پیش ہونے سے متعلق نوٹس جاری کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

اُنھوں نے کہا کہ جعلی بینک اکاونٹس کے مقدمے میں اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اُنھیں اور وزیر اعلیٰ سندھ کو اس مقدمے میں شامل کرنے پر اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کی سرزنش کی تھی اور جے آئی ٹی کے وکیل نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اس مقدمے کی تفتیش میں اُنھیں (بلاول) کو شامل نہیں کرنا چاہیے تھے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کا چیف جسٹس انھیں بےگناہ قرار دے رہا ہے تو پھر اُنھیں سمجھ نہیں آتی کہ اُنھیں اس مقدمے میں کیوں بلایا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اگر زرداری گروپ کی کسی دوسرے گروپ کے ساتھ کوئی کاروباری سرگرمیاں ہوتی ہیں اور یہ دونوں گروپس کا نجی معاملہ ہے تو اس میں نیب کا ملوث ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بزنس ڈیل میں نہ تو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچتا ہے اور نہ ہی عوامی عہدہ استعمال کرتے ہوئے اُنھوں نے کوئی رعایت لی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ شاید ان کی غلط فہمی تھی کہ نیب کے حکام ایک سال کے بچے پر کیس نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ زرداری گروپ کا شیئر ہولڈر بنے تو اس وقت ان کی عمر سات سال تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ گزشتہ برس نیب کی طرف سے بھیجے گئے سوالوں کے جواب دے چکے ہیں جس پر نیب نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

بلاول آصفہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُنھوں نے کہا کہ جب اُنھوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر نتقید شروع کی تو اُنھیں نیب کی طرف سے پیشی کا نوٹس موصول ہو گیا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اداروں کا احترام کرتی ہے چاہے یہ ادارے صحیح کام کریں یا غلط لیکن اعتراضات کے باوجود بھی وہ نیب کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت اور سیاست دانوں کو بدنام کیا جائے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا تو اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے جو کہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان بھی ہیں، غیر حاضر ہونے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے جتنا قائد ایوان کا ہے‘۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس امید کا اظہار کیا کہ میاں شہباز شریف جو کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں جلد واپس آجائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری سے متعلق دیے گئے بیان کو اپنی غلطی سمجھتے ہیں تو بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے تو زندگی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین مسکراتے ہوئے پریس کانفرنس ختم کر کے چلے گئے۔

حکومتی ردِ عمل

احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے نیب پر کی گئی تنقید پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول کو نیب نے جے وی اوپل اور اوپل 225 کیس میں تحقیقات کے لیے بلایا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کی طرف سے تشکیل دی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے نیب کے سپرد کیا تھا۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا تو اس ضمن میں سپریم کورٹ کی طرف سے حکم نامہ آیا تھا اس میں عدالت نے بلاول کو بےگناہ نہیں بلکہ معصوم قرار دیا تھا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ 'جے وی 225 کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین پر الزام ہے کہ زرداری گروپ آف کمپنیز نے ایک ارب 25 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس رقم سے کراچی اور لاہور میں جائیدادیں خریدی گئیں۔

احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ’یہ جائیدادیں 2011 سے 2014 کے درمیان خریدی گئیں جب بلاول بھٹو کے والد آصف علی زرداری صدر مملکت تھے اور اسی حوالے ان کی پوچھ گچھ کے لیے اُنھیں( بلاول) کو بلایا گیا تھا۔‘

اُنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ان ٹچ ایبل' نہیں ہیں کہ آپ کو کوئی ادارہ بلا کر سوال نہیں کرسکتا۔‘