عظمیٰ خان تشدد کیس: ملک ریاض کی بیٹیوں اور اداکارہ کے درمیان تصفیے کی خبروں پر وکیل خدیجہ صدیقی مقدمے سے علیحدہ

،تصویر کا ذریعہYoutube/Screengrab
پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور بحریہ گروپ کے مالک ملک ریاض کی بیٹیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بننے والی اداکارہ اور ماڈل عظمیٰ خان کی وکیل نے اس مقدمے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
وکیل خدیجہ صدیقی نے پیر کی شب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ فریقین کے درمیان مبینہ تصفیے کی خبروں کے بعد کیا ہے۔
نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ان کی موکلہ کی نہیں بلکہ اس نظام کی شکست ہے جس نے انھیں مایوس کیا۔
خیال رہے کہ تاحال مقدمے کے فریقین کی جانب سے کسی تصفیے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے تاہم خدیجہ صدیقی کا کہنا تھا کہ انھیں تصفیے کے بارے میں اطلاعات مصدقہ ذرائع سے ملی ہیں اور انھیں نہیں لگتا کہ یہ غلط ہو سکتی ہیں اور اگر ایسا ہوا بھی تو بھی وہ دوبارہ عظمی خان کی قانونی ٹیم کا حصہ نہیں بنیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
خدیجہ صدیقی نے ٹوئٹر پر بھی مقدمے سے الگ ہونے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک غیر لچک دار نظام میں دونوں متاثرہ خواتین کی جانب سے تصفیے کی وجوہات کو سمجھ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا ضمیر اجازت نہیں دیتا کہ وہ پیشہ وارنہ طور پر اس (تصفیے) کا حصہ بنیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی ’لاقانونیت کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔‘
عظمیٰ خان اور ہما خان کی وکیل کی جانب سے مقدمے سے علیحدگی کا اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پیر کو ہی لاہور کی سیشن کورٹ کی جانب سے حکام کو ، ملک ریاض کی دونوں بیٹیوں عنبر ملک، پشمینہ ملک اور عنبر ملک کی بھتیجی آمنہ عثمان ملک کو 15 جون تک گرفتار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج فرخ حسین نے پچاس پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری درخواست ضمانت منظور کی۔ درخواست میں تینوں خواتین کا موقف تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ حقائق کے بر عکس درج کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہKhadijaSIddiqi@Twitter
عظمی خان کی جانب سے درخواست پر کارروائی
اس سے قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ غلام شبیر سیال نے آمنہ عثمان، پشمینہ ملک اور عنبر ملک کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
واضح رہے کہ پولیس نے آمنہ عثمان سمیت دیگر کے خلاف گھر میں گھس کر تشدد کرنے اور قیمتی اشیا کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔مقدمے میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور زخمی کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں گذشتہ چند دن سے کچھ ویڈیوز زیر گردش ہیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین خواتین مسلح محافظوں کے ہمراہ اداکارہ ’عظمیٰ خان کے گھر‘ داخل ہوتی ہیں اور انھیں اور ان کی بہن کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔
پہلی ویڈیو میں اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان سے ایک خاتون کو بظاہر اپنے شوہر کے ساتھ مبینہ تعلقات کے متعلق سوالات کرتے سُنا جا سکتا ہے۔ سوال کرنے والی خاتون اس ویڈیو میں خود نظر نہیں آ رہی ہیں۔
اس ویڈیو کے بعد بدھ کو اس مبینہ واقعے سے جڑی مزید ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں، جس کے بعد عظمیٰ خان نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان کی ایک معروف کاروباری شخصیت کی بیٹیوں نے مبینہ طور پر اپنے گارڈز کے ساتھ زبردستی ان کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ہراساں کیا۔

،تصویر کا ذریعہDefence Police Station
اس سے قبل جمعرات کے روز لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے بتایا تھا کہ ان کی مؤکلہ اور عثمان ملک کا گذشتہ دو برس سے تعلق تھا اور وہ عظمیٰ سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن دسمبر 2019 میں عظمیٰ خان کی جانب سے اس رشتے کو ختم کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود عثمان ملک ان کی مؤکلہ سے رابطہ کرتے رہے۔
اس پریس کانفرنس میں عظمیٰ خان نے عثمان ملک کی اہلیہ آمنہ عثمان کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ پہلے بھی انھی کئی بار وارننگ دے چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی آمنہ عثمان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انھوں نے ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل نہ ان کی آمنہ عثمان سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی کبھی فون پر بات کی۔
عظمیٰ خان نے دعویٰ کیا کہ عثمان ملک انھیں ابھی بھی میسج اور فون کال کر رہے ہیں اور وہ عدالت میں بھی یہ بات ثابت کریں گی۔
عظمیٰ خان کے وکیل نے پریس کانفرنس میں یہ بتایا کہ مذکورہ گھر کی ملکیت عثمان خان کے نام نہیں اور نہ ہی کرایہ نامہ ان کے نام ہے۔
انھوں نے بتایا کہ گھر کے مالک بابر نسیم ہیں جو عثمان ملک کے رشتہ دار نہیں ہیں بلکہ عظمیٰ کے قریبی دوست ہیں۔
اداکارہ اور ماڈل خان عظمیٰ خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے کہا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو جان کا خطرہ ہے لہذا حکومت انھیں فوری طور پر سکیورٹی فراہم کرے۔

،تصویر کا ذریعہUZMAKHAN/FACEBOOK
ایک سوال کے جواب میں، کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں گھر پر دھاوا بولنے والی خواتین سے کس چیز کی معافی مانگ رہی تھیں، عظمیٰ خان نے کہا کہ ان لوگوں نے ان پر بندوق تان رکھی تھی، اس لیے وہ ان سے معافی مانگ رہی تھیں۔
ایک اور رپورٹر کے سوال پر کہ کئی کیسز میں لین دین کے بعد معاملات طے ہو جاتے ہیں، عظمیٰ خان نے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ آج یہاں نہ ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ اگر انھیں بات ختم کرنا ہوتی اور لین دین ہی کرنا ہوتا تو وہ یہ مقدمہ ہی درج نہ کراتیں۔ عظمیٰ خان کے وکیل نے پریس کانفرنس کے اختتام پر اس مقدمے کے حوالے سے تین مطالبات بھی پیش کیے۔
ان کے پہلے مطالبے کے مطابق عظمیٰ خان کی جان کو جلد از جلد سکیورٹی فراہم کی جائے کیونکہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
دوسرا مطالبہ یہ ہے اس مقدمے کی تفتیش ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کی ذاتی نگرانی میں کرائی جائے۔
عظمیٰ خان کے وکیل میاں علی اشفاق کے مطابق تیسرا مطالبہ ملزمان کی فی الفور گرفتاری عمل میں لانے کا ہے۔












