اسلام آباد میں خاتون کی پولیس اہلکاروں کو دھکمیاں مہنگی پڑ گئیں، گرفتاری کے بعد جوڈیشل ریمانڈ

اسلام آباد پولیس( فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کے بارے میں ماضی میں ناکوں پر شہریوں سے بدسلوکی کے بارے میں رپورٹس میڈیا پر آ چکی ہیں تاہم چند روز پہلے صورتحال اس کے برعکس ہوئی۔

پولیس کو سنیچر کو ایک خاتون کی جانب سے اپنے ساتھ ہونے والی ناروا رویے کا مقدمہ درج کرانا پڑا اور اتوار کو مقامی عدالت نے ملزمہ ڈاکٹر شہلا شکیل کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔

تاہم ملزمہ کے وکیل کی جانب سے اپنے موکل کی صحت کی خرابی کی وجہ سے طبی معائنے کی استدعا کی گئی اور انھیں اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال معائنے کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کو دل کا عارضہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے داخل کر لیا ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے تفتیشی افسر اے ایس آئی عمران حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون نے بدھ کو سفارت خانوں کے لیے مختص ڈپلومیٹک انکلیو کے گیٹ نمبر ایک پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے گاڑی کی رجسٹریشن پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے روکا گیا تو اس پر بدتمیزی کی اور انھیں ڈرایا دھمکایا۔

انھوں نے کہا کہ سنیچر کو اس واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد خاتون کو گرفتار کرنے کے بعد اتوار کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

اے ایس آئی عمران حیدر کے مطابق ملزمہ کے خاوند فوجی ہسپتال سی ایم ایچ میں اچھے عہدے پر فائز ہیں اور یہ زیادہ تر بیرون ملک رہی ہیں۔

خاتون

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE

تفیشی افسر سے جب سوال کیا گیا کہ اگر واقعہ بدھ کو پیش آیا تو اس کا مقدمہ اہلکاروں کی جانب سے دو دن تاخیر سے کوئی درج کرایا گیا تو اس پر انھوں نے کہا کہ جب اہلکار ہمارے پاس آئے تو مقدمہ درج ہو گیا۔

تاہم اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر شہلا کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ گیٹ نمبر ایک پر ہونے ولی گفتگو کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس اہلکاروں نے مقدمہ درج کرایا۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالے رنگ کی ایس یو وی کے باہر انتہائی غصے میں کھڑی خاتون پولیس اہلکاروں پر چیخ رہی ہیں کہ روکنے کی اصل وجہ بتائی جائے۔

اس پر وہ گاڑی میں جا کر بیٹھتی ہیں اور اس کی فرنٹ سیٹ پر سوار ایک شخص کو غصے میں کہتی ہیں’ لیٹ نکلتے ہو اور نمبر پلیٹ نہیں لگواتے ہو۔ میرا کیا کام بیچ میں۔۔۔‘

بظاہر ویڈیو میں گاڑی کے اندر نمبر پلیٹس پڑی تھیں اور پولیس اہلکاروں کو دکھائی جاتی ہیں لیکن پھر بھی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے مزید غصے میں آ جاتی ہیں اور پولیس اہلکار طاہر فاروق کا نام لے کر کہتی ہیں کہ ’دیکھ تیرا میں کیا کرتی ہوں۔۔۔‘

اس کے بعد پولیس اہلکار کو اپنا فون دیتی ہیں جس پر وہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ان کو کہا کہ’ جو لوگ اندر جا رہے ہیں ۔۔۔ ان کے نام دے دیں اور گاڑی کا نمبر۔۔۔ تو اس پر خاتون گاڑی کے اندر سے نمبر پلیٹ نکال کر دکھاتی ہیں کہ یہ نمبر پلیٹ ۔۔۔ یہ دیکھ ۔۔۔‘

اس پر پولیس اہلکار کہتا ہے ’ٹھیک ہے میڈیم جی‘ تو خاتون کہتی ہیں کہ ’میں کوئی چیز ماروں گی یا اس کو مار کہ یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔ دو میرا فون واپس ۔۔۔ کھولو گیٹ نہیں تو گیٹ کو توڑتے ہوئے آگے چلی جاؤں گی ۔۔۔ دیکھتی ہوں کہ تمھارا باپ روکتا یا صدر۔۔۔‘

بی بی سی کو دستیاب ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق مقدمہ بھی اے ایس آئی طاہر فاروق کی مدعیت میں درج کرایا گیا ہے جن کا نام خواتین ویڈیو میں بھی بار بار لیتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خاتون اہلکار نے ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر واقع امریکی سفارت خانے جانا تھا اور وہاں پولیس اہلکاروں سے ہونے والی ’جھڑپ‘ کے وقت وہاں کھڑے شہریوں نے اس واقعے کی ویڈیو بنا لی جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گی۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق ملزمہ شہلا کے طبی معائنے کی رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے اور اگر ڈاکٹرز نے صحت مند قرار دے دیا تو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے گا۔