اسلام آباد: پولیس ناکے کتنے موثر؟

اسلام آباد پولیس
،تصویر کا کیپشناسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد جگہ جگہ پولیس نے ناکے لگا رکھے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان، شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ کے بعد حکام کی جانب سے حفاظتی انتظامات سخت کر دینے کے بیانات کے بعد عملی طور پر بڑی تعداد میں پولیس ناکے قائم کر دیے جاتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے مطابق ان ناکوں سے وہ خود خطرات مول لیتے ہیں جس سے عوام محفوظ رہتے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جولائی کے مہینے سے مختلف مقامات پر درجنوں نئے پولیس ناکے قائم کیے گئے تاکہ دہشت گردی کے واقعات کو روکا جا سکے۔ یہ ناکے کتنے موثر ہیں اور ان سے کیا واقعی تشدد کے واقعات کو روکا جا سکتا ہے؟

اس بارے میں اسلام آباد کے ایک ناکے پر موجود پولیس انسپکٹر محمد علی نے کہا کہ ان ناکوں سے دہشت گرد پہلے تو اس طرف آنے کی ہمت نہیں کرتا اور اگر آجائے تو وہ دھر لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی دہشت گرد اتنے زیادہ ناکوں سے گزر کر کوئی کامیاب کارروائی کر سکے۔

سینیئر پولیس انسپکٹر محمد علی ایک بڑے ہوٹل کے قریب ریڈ زون کی جانب جانے والے راستے پر تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار ان ناکوں پر موجود ہیں جو ہر قسم کے خطرے کا پہلے خود سامنا کرتے ہیں اور ہر قسم کی گاڑیوں کی چیکنگ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی دہشت گرد ان ناکوں کی وجہ سے آگے نہیں جا سکتا اور نہ ہی ریڈ زون میں کوئی گاڑی چیکنگ کے بغیر آ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس ایوان صدر اور وزیر اعظم سیکریٹیریٹ کے علاوہ بڑے ہوٹل اور ڈپلومیٹک انکلیو جیسے علاقے شامل ہیں۔

اسلام آباد پولیس
،تصویر کا کیپشنریڈ زون میں کوئی گاڑی چیکنگ کے بغیر آگے نہیں جا سکتی: پولیس افسر

محمد علی سے جو پوچھا کہ ان ناکوں پر پولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات ہیں تو انہوں نے کہا کہ اہلکاروں کے پاس کلاشنکوف اور جی تھری جیسے ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ کسی مشتبہ شخص کو ایک طرف لگا سکتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ اگر ایک گاڑی سامنے سے آ رہی ہے اور اس میں خود کش بمبار بیٹھا ہے تو وہ کیا کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ کام اللہ کے توکل پر چلتا ہے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی کو جانے نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں فیس ریڈنگ یا چہروں کو پڑھنے کا فن آنا چاہیے اور ان کے پاس یہ فن ہے۔

اگر فیس ریڈنگ غلط ثابت ہو جائے تو پھر کیا ہو سکتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں محمد علی نے کہا کہ تجربہ بھی کوئی چیز ہوتا ہے اور ان کے پاس ایسے اہلکار اور افسران ہیں جو چہرے بلکل صحیح پڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اہلکار اعلٰی تربیت یافتہ ہیں اور ان کے پاس موجودہ حالات کے مطابق جدید وسائل ہیں جیسے کتوں کے ذریعے چیکنگ کرانا اور دیگر آلات سے مشتبہ افراد کو گزارنا وغیرہ شامل ہیں۔