لاہور میں سب انسپکٹر کی وکلا کے ہاتھوں پٹائی کی ویڈیو وائرل

،تصویر کا ذریعہfacebook
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک پر بڑی تعداد میں ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے جس میں پنجاب پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو درجن بھر وکلا بری طرح پیٹ رہے ہیں۔
جمعے کی رات سے شیئر کی جانے والی اس ویڈیو کے آغاز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سب انسپیکٹر کی مار پیٹ کمرۂ عدالت کے اندر شروع ہوتی ہے اور عدالتی عملہ دیکھا جا سکتا ہے اور آخر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سب انسپکٹر اپنا خون آلود منہ لے کر ایک جانب چلا جاتا ہے۔
اس ساری ویڈیو میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دو مسلح پولیس اہلکار کھڑے یہ سارا منظر دیکھتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔
اس سلسلے میں ایک ایف آئی آر لاہور کے اسلام پورہ تھانے میں درج کی گئی ہے مگر اس میں پولیس اہلکار کی خواہش کے باوجود انسداد دہشت گردی کی دفعہ شامل نہیں کی گئی۔
جہاں یہ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے وہیں اب اس بارے میں مختلف پروفائلز سے احتجاج کیا جا رہا ہے جس میں پنجاب پولیس، سندھ پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تشدد کا شکار ہونے والے سب انسپکٹر کا نام ثمر ریاض خان ہے جو پنجاب یونیورسٹی سے بی اے ایل ایل بی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔
ثمر پنجاب میں پولیس میں اصلاحات کے نتیجے میں بھرتی کیے جانے والے گریجویٹ اور پڑھے لکھے سب انسپکٹرز کے تیسرے بیچ کا حصہ بنے۔

،تصویر کا ذریعہfacebook
اس ویڈیو ہر تبصرہ کرتے ہوئے محمد عامر رانا نے لکھا ’شیم ان پڑھے لکھے جاہلوں پر۔ جب خود پر بنتی ہے تو مظلوم بن جاتے ہیں۔ ایسے روز بڑھتے واقعات کا نتیجہ بہت بڑے نقصان کی صورت میں نکلنے والا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔‘
مدثر ہنجرا نے لکھا کہ’محترم چیف جسٹس آف پاکستان صاحب! پولیس کو عزت اور تحفظ دیے بغیر قانون کا بول بالا نہیں ہو سکتا۔ وکلاء کو تہذیب سکھائیں ,مظلوم کو انصاف دیں ورنہ تاریخ بہت بے رحم ہے۔ ‘











