پشاور یونیورسٹی: پولیس تشدد کے بعد طلبہ کا احتجاج

پشاور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور یونیورسٹی میں گذشتہ روز طلبہ نے فیسوں میں اضافے کو مسترد کرنے کے مظاہرے پر پولیس کی جانب سے تشدد اور لاٹھی چارج کے نتیجے جمعہ کو صوبے کی دیگر درس گاہوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

مردان اور صوابی میں طلبا تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مظاہرے میں شامل طلبا تنظیموں کے کارکن شامل تھے جن میں پختون سٹوڈنٹنس فیڈریشن اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے علاوہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبا بھی شامل تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما عبید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ آزادی اظہار کا حق انھیں حاصل ہے اور وہ اپنا موقف حکام تک پہنچانے کے لیے ہی احتجاج کر رہے تھے کیونکہ ان کے بار بار کے مطالبات کی سنوائی کہیں نہیں ہو رہی تھی۔

صحافی رحیم اللہ یوسفزئی نے بھی اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ مختلف طلبہ تنظیموں نے اس احتجاج میں شرکت کی ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابھی تک حکومت نے کوئی وزیر تعلیم کیوں مقرر نہیں کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

پشاور یونیورسٹی میں طلبہ کا احتجاج کیوں شروع ہوا؟

پشاور یونیورسٹی کے طلبا کا کہنا ہے کہ پشاور یونیورسٹی نے فیسوں میں بیس فیصد اور ہاسٹل فیس میں بھی اضافہ کر دیا ہے جبکہ تین ہزار روپے سکیورٹی فیس علیحدہ لی جا رہی ہے ۔

انھوں نے ادارے میں فیسوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے ۔ پشاور یونیورسٹی کے طلبا کے مطابق وہ مظاہروں پر اس وقت مجبور ہوئے جب انتظامیہ نے ان کے مطالبات کے حل کے لیے مذاکرات نہیں کیے۔

گزشتہ روز پشاور یونیورسٹی میں جب طلباء مظاہرین انتظامیہ کے دفاتر کی جانب روانہ ہوئے تو پولیس نے اچانک لاٹھی چارج شروع کر دیا۔ اس لاٹھی چارج کے نتیجے میں پانچ طلباء زخمی ہوئے اور اٹھائیس کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔

زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ گرفتار طالبعلموں کو کل رات گئے رہا کر دیا گیا تھا۔

پولیس رویے پر رد عمل

پشاور یونیورسٹی کے لاء کالج میں موجود طالبعلموں نے بتایا کہ وہ گذشتہ روز احتجاج کا حصہ نہیں تھے لیکن جو کچھ پولیس اور انتظامیہ نے کیا ہے وہ مناسب نہیں تھا ۔ پر امن احتجاج کرنا کسی بھی شہری کا حق ہے اور اسے لاٹھی کے زور پر دبایا نہیں جا سکتا ۔

ایک طالبعلم سکندر نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین خود تو ریڈ زون ڈی چوک میں احتجاجی مظاہرے کرتی ہے اور اسے حق سمجھا جاتا ہے لیکن اگر طالبعلم یہاں اپنے مطالبات کے لیے پر امن احتجاج کرتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج کر دیا جاتا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس اس طرح ہوتی ہے تو وہ بہت افسوس سے کہتے ہیں کہ انھیں اپنی پولیس پر شرم آتی ہے ۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بھی ٹوئٹر پر پولیس کی جانب سے کی گئی کاروائی پر مذمت کی اور کہا کہ یہ سرکاری تشدد کی بدترین مثال ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے انتہائی شرمناک قدم ہے۔

پشاور

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس واقعے کے بعد صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے ایک اخباری کانفرنس میں اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیسوں کا تعین یونیورسٹی سینڈیکیٹ کرتی ہے لیکن پھر بھی اگر طلباء کو تحفظات ہیں تو اس کی تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں۔

اس واقعہ کی تصویریں ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار طالبعلموں کی ڈنڈوں سے پٹائی کر رہے ہیں اور کہیں طلباء کو دبوچ کر اور گھسیٹ کر گرفتار کیا جا رہا ہے۔

پشاور پولیس کے افسر قاضی جمیل نے کیمپس پولیس کے افسر کو تفتیش کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی کیمرے کی ویڈیوز دیکھ کر چھان بین کی جائے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

پشاور یونیورسٹی کے ترجمان علی عمران بنگش نے کہا کہ یونیورسٹی مالی بحران کا شکار ہے اور فیسوں میں اضافے کا فیصلہ یونیورسٹی سینڈیکیٹ نے کیا تھا اور سال 2016 سے 2018 تک اسے روکنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا یونیورسٹی کو تیس کروڑ روپے کا خسارہ ہے اور فیسوں میں اضافہ صرف نئے آنے والے طلبا کے لیے کیا گیا ہے۔

علی عمران نے کہا کہ مظاہرے میں زیادہ تر باہر کے طالب علم یا وہ جو یونیورسٹی سے فارغ ہو چکے ہیں اور وہ عناصر تھے جنھوں نے معصوم طلبا کو استعمال کیا ہے۔