کراچی میں خاتون کی ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کی ویڈیو وائرل: ’ان کی آپ حالت دیکھیں، یہ پڑھے لکھے شہری ہیں‘

،تصویر کا ذریعہSM Viral Post
کراچی میں ایک خاتون کی ٹریفک پولیس اہلکار سے بدتمیزی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس کے بعد ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
یہ ویڈیو ٹریفک پولیس کے افسر نے خود بنائی ہے اور ان کے مطابق مذکورہ خاتون کو ’خیابان شجاعت شہباز سگنل توڑنے پر روکا گیا تھا‘۔
اس ویڈیو میں خاتون کو ان کے علاوہ ایک دوسرے اہلکار سے بھی بدتمیزی کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی کراچی میں اس طرح کے واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا چکی ہیں، جس پر شدید ردِ عمل سامنے آتا ہے۔
خاتون اور ٹریفک پولیس اہلکار کی تکرار
ویڈیو کے آغاز میں پولیس اہلکار بارہا اسرار کر رہے ہیں کہ کیونکہ خاتون نے سگنل توڑا ہے تو انھیں چالان بھرنا پڑے گا۔
تاہم جب خاتون انھیں لائسنس دینے کی بجائے بدتمیزی کرتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’ان کی آپ حالت دیکھیں، یہ پڑھے لکھے شہری ہیں۔‘
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں وہ کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'کسی کو بھیجیں، ان دو ٹکے کے بڈھوں سے میں بات نہیں کرسکتی۔‘
جب ایک پولیس اہلکار ان سے پوچھتا ہے کہ آپ فون پر کس سے بات کر رہی ہیں تو وہ کہتی ہیں 'چل بڈھے اپنی اوقات میں رہ کر بات کر۔ دو ٹکے کا آدمی بکواس کر رہا ہے۔ تیرے جیسے تو میرے گھر میں کام کرتے ہیں۔‘
ترجمان ٹریفک پولیس کا مؤقف
کراچی ٹریفک پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون نے ’نہ صرف غلیظ الفاظ استعمال کیے بلکہ چالان لینے سے بھی انکار کیا اور موقع سے گاڑی بھگا کر لے گئیں۔‘
ترجمان کے مطابق خاتون کے خلاف متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی جا چکی ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق خاتون کے خلاف دفعہ 186، 279 اور 504 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
’یہ خاتون میری بہن نہیں‘
اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں میں ٹوئٹر صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ سامانے آیا کہ یہ خاتون دراصل ’پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی بہن ہیں‘۔
تاہم عمران اسماعیل نے ایک ٹوئٹر صارف کو جواب دیتے ہوئے اس دعوے کی تردید کی اور ان کے رویے کی مذمت کی۔
انھوں نے کہا ’یہ خاتون میری بہن نہیں ہیں اور میں تو انھیں جانتا تک نہیں۔ قانون کو فرض نبھانا چاہیے یہ دیکھے بغیر کہ یہ کون ہیں۔‘
انھوں نے اس صارف کی جانب ’بغیر تحقیق‘ یا ’ثبوت‘ کے لگائے گئے الزامات کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔
’یہ اشرافیہ کا چہرہ ہے‘
ایک صارف عمر فاروق نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اس اشرافیہ کا چہرہ ہے جو سب سے زیادہ شور مچاتی ہے اور متاثر ہونے کا ڈھونگ تو رچاتی ہے لیکن پاکستان میں کرپٹ لوگوں کی معاونت بھی کرتے ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں‘۔

،تصویر کا ذریعہ@MUmaarFarooq90
ایک صارف ایم اے خان ترین کا کہنا تھا کراچی پولیس والوں کو عزت احترام دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا ’اس بدتمیز عورت کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ پاکستان سے ایسی مغرور اور دولت مند عورتوں کا غرور ختم ہو سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@TareenMa
جاوید شیخ نامی ایک صارف نے کہا ’باوردی اہلکار کے ساتھ دھمکی آمیز گفتگو کرنے پر کیا کوئی از خود نوٹس لے گا؟‘
ایک صارف فرقان صدیقی نے کہا ’اس خاتون نے نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ ٹریفک پولیس کے اہلکار کو گالیاں بھی دیں، انھیں قانون کے مطابق اس کی سزا ملنی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@furqantsiddiqui
لیکن راشد رضوی نامی ایک صارف ان خاتون کی حمایت کرتے نظر آئے۔ انھوں نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا: ’اگر سگنل توڑنا اور پولیس سے بدتمیزی کرنا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے تو کسی خاتون کی بلا اجازت تصویر یا ویڈیو بنانا بھی سائبر کرائم ایکٹ میں آتا ہے۔ قصوروار دونوں ہیں۔ سگنل توڑنے اور بدتمیزی سے زیادہ بڑا جرم ’بدلہ لینے کے لیے‘ عورت کی سوشل میڈیا میں ویڈیو ڈال کر عوام کے ذریعے کردار کشی کروانا ہے‘۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/Syed Rashid Rizvi










