ٹریفک انسپیکٹر کو کچلنے کا معاملہ، مجید اچکزئی پر جعلی گاڑی کا بھی مقدمہ درج

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کے رکن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین عبد المجید خان اچکزئی پر پولیس نے جعل سازی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک اور مقدمہ بھی درج کیا ہے۔
یہ مقدمہ دارالحکومت کوئٹہ میں سول لائنز پولیس کے ایک اہلکار کی مدعیت میں درج کیا گیا جو کہ اس گاڑی کے حوالے سے ہے جس سے ٹریفک پولیس کے انسپیکٹر کچلا گیا تھا۔
مجید خان اچکزئی کو پولیس انسپیکٹر کو کچل کر ہلاک کرنے کے الزام میں گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف دو دیگر مقدمات کو بھی کھولا گیا تھا جو کہ اغوا برائے تاوان اور قتل سے متعلق تھے۔
ان کے خلاف اغوا برائے تاوان کا ایک مقدمہ سات سال قبل قائم کیا گیا تھا جبکہ قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں درج کیا گیا تھا۔
مجید اچکزئی مذکورہ بالا تین مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر تھے کہ سول لائنز پولیس نے 15 جولائی کو ان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا۔
یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کے چار مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر کے مطابق رکن اسمبلی نے جس گاڑی میں ٹریفک پولیس انسپیکٹر کو کچل کر ہلاک کیا تھا اس کا چیسز نمبر جعلی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کو تحویل میں لینے کے بعد کیمیکل ایگزامنر کے پاس بھیجا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق کیمیکل ایگزامنر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گاڑی کے چیسز نمبر کو پنچ کرکے اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔







