کورونا وائرس: وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم یہ جنگ جیتیں گے، ملک میں 237 مریض، سندھ میں ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو گھبرانےکی ضرورت نہیں، کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے۔
منگل کی شب ٹیلی ویژن خطاب میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات پر ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ حکومت اکیلے نہیں لڑسکتی اس میں تمام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام احتیاط کریں۔
انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے معاملے پر افراتفری پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملکی معیشت متاثر ہو گی جس کے لیے اقتصادی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی کمپینوں سمیت متعدد صنعتوں کو کورونا وائرس سے نقصان ہوا ہے اور ہماری معیشت ویسے ہی دباؤ کا شکار تھی، پاکستان کی برآمدات پر کورونا وائرس کا اثر پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر روز اقتصادی کمیٹی دیکھے گی کہ کون کون سے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی کیا مدد کرنی ہے۔

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں ذخیرہ اندوزی کے بارے میں تنبیہ کی کہ اقتصادی کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ کھانے کی چیزیں مہنگی نہ ہوں، جیسے پہلے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کی گئی تو ان کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ ریاست ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تیزی سے پھیلتا ہے مگر اس کے 90 فیصد مریضوں کو صرف نزلہ اور زکام ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ صرف چار یا پانچ فیصد مریضوں کو ہسپتال جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور 97 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ معلوم تھا کہ چین میں کورونا وائرس پھیلا ہے تو پاکستان بھی پہنچے گا، وائرس کے آغاز پر ہی مسلسل چین سے رابطے میں تھے اور ایران سے بھی مسلسل رابطے میں تھے کیوں کہ چین کے بعد پڑوسی ملک ایران میں بھی کورونا وائرس تیزی سے پھیلا۔
بلوچستان حکومت کی تعریف
بلوچستان حکومت کی جانب سے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ'بلوچستان حکومت نے مشکل حالات میں بڑی کوشش کی اور بلوچستان حکومت کو اقدامات پر مبارک باد دیتا ہوں۔'
انھوں نے مزید کہا کہ خطاب کا مقصد قوم کو کورونا وائرس سے متعلق اقدامات پر اعتماد میں لینا ہے، ان کا کہنا تھا ملک میں 20 کیس سامنے آنے پر قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی۔
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا امریکہ اور برطانیہ نے شہر بند کر دیے لیکن پاکستان میں وہ حالات نہیں ہیں کیوں کہ ہم شہر بند کردیتے ہیں تو ایک طرف لوگوں کو کورونا سے بچائیں گے تو دوسری طرف لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے کوآرڈی نیشن کمیٹی بنائی ہے جس کے 2 پہلو ہیں ایک صوبائی حکومتیں اور دوسرا این ڈی ایم اے ہے، ہم نے این ڈی ایم اے کو فعال کیا ہے اور حکومت نے وینٹی لیٹر آرڈر کر دیے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد
سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں منگل کو نئے مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 237 تک پہنچ گئی ہے۔
سندھ میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے میں ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بدھ سے کاروباری مراکز، پارک اور ریستوران جبکہ جمعرات سے سرکاری دفاتر بند کر دیے جائیں گے۔
ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں کووڈ-19 کے متاثرین کی تعداد 172 تک پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب میں 25 اور بلوچستان میں چھ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 170، پنجاب میں 26، بلوچستان میں 16، خیبر پختونخوا میں 16، اسلام آباد میں چار اور گلگت بلتستان میں کورونا کے تین مریض موجود ہیں۔
اس طرح ملک میں کورونا وائرس سے کے زیر علاج مریضوں کی مجموعی تعداد 235 ہے جبکہ دو مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کورونا سے نمٹنے کی صلاحیت ہے نہ وسائل: عمران خان کا امریکی ادارے کو انٹرویو
قوم سے خطاب سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں پاکستان کے پاس نہ تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے وسائل موجود ہیں۔'
امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا غریب ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ وائرس پھیلا تو ہم سب کو صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا ہو گا۔۔۔ ہمارے پاس اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔
عمران خان کے مطابق پاکستان کی 'صحت سے متعلق سہولیات کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں، میرے خیال میں انڈیا، خطے کے دیگر ملکوں اور افریقی ممالک میں بھی یہی صورتحال ہو گی۔'
انھوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ ہے وہ اس صورتحال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کے بارے میں سوچیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’معیشت پر سست روی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے انھیں سب سے زیادہ تشویش غربت اور بھوک پر ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر میرے خیال میں عالمی برادری کو ہمارے جیسے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کےبارے میں سوچنا چاہیے، جو بہت خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ ہمیں کم از کم اس سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔'
انھوں نے ایران کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'میں ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کی وجہ سے ڈرا ہوا ہوں کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں نے پہلے ہی اُنھیں غربت سے دوچار کر دیا ہے اور اُس کے اوپر یہ وائرس ہے۔'
ان کے مطابق یہ ایک واضح مثال ہونی چاہیے کہ جہاں کم از کم طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو اٹھا لیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں کے لوگ یقیناً بہت برے حالات میں ہوں گے۔
عمران خان کا یہ بیان منگل کو ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔
قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں پیر تک صرف 833 افراد کے ہی کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ
پاکستان میں اس وقت صوبہ سندھ اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں اب تک 172 افراد میں کووڈ-19 وائرس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 170 افراد زیرِ علاج ہیں جبکہ دو مکمل صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
منگل کو وزیر صحت سندھ کی میڈیا کوارڈینٹر کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں دو نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ سکھر میں قرنطینہ میں رکھے گئے تافتان سے آنے والے زائرین میں سے 15 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
اس کے علاوہ کراچی میں 35 جبکہ حیدرآباد میں ایک مریض موجود ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں جزوی ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کیا ہے اور حکام کے مطابق صوبے کے تمام ریستوران اور شاپنگ مراکز بدھ سے 15 دن کے لیے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاہم کریانہ سٹور کے علاوہ سبزی اور گوشت کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
یہ فیصلہ منگل کو وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق صوبے کے عوامی پارک اور کراچی میں ساحلِ سمندر بھی کل سے بند کر دیا جائے گا جبکہ تمام اقسام کی اجتماعات کے اجازت نامے بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے میں سرکاری دفاتر بھی جمعرات سے بند کر دیے جائیں گے جس کا نوٹیفکیشن چیف سیکریٹری جاری کریں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے تین ارب رپے کا کورونا ریلیف فنڈ بھی قائم کیا ہے اور وزیر، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کابینہ کے تمام ارکان، پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی ایک ماہ کی تنخواہ اس فنڈ میں جمع کرائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سندھ میں کورونا سے بچاؤ کے اقدامات کے تحت صوبے کے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے بھر میں شادی ہال، سینما گھر تین ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ تمام سماجی، مذہبی، اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اسی طرح مزارات بھی آئندہ تین ہفتوں کے لیے زائرین کے لیے بند ہوں گے راہم رسموں کی ادائیگی، دھمال اور شاہ لطیف کے مزار پر گائیکی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
پنجاب میں کورونا وائرس کے 26 مریض، قرنطینہ تیار
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ٹوئٹر پر نئے مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکام پنجاب کے شہر ڈی جی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے تمام 736 زائرین کا ٹیسٹ کر رہے ہیں جبکہ وہاں تفتان سے آنے والے مزید 1276 زائرین کا بھی ٹیسٹ کیا جائے گا۔
درازندہ کے مقام پر قائم قرنطینہ مرکز میں ان زائرین کو رکھا گیا ہے جو تفتان میں قائم قرنطینہ میں مقررہ مدت گزارنے کے بعد پنجاب میں داخل ہوئے تھے۔
گجرات میں بھی ایک مریض کی تصدیق کی گئی ہے جو کہ سپین سے پاکستان آیا تھا۔ اس کے علاوہ لاہور میں ایک 54 سالہ مریض پہلے ہی موجود ہے جو 10 مارچ کو برطانیہ سے واپس لوٹا تھا۔
حکام نے ان اطلاعات کو بھی غلط قرار دیا ہے جن کے مطابق لاہور میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے منگل کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کی رات بارہ بجے ایک مریض کو 'کوما' کی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا جسے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا اور منگل کی صبح وہ مریض ہلاک ہو گیا۔
حکام کے مطابق اس شخص کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاسمین راشد نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور درپیش صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبے کے تعلیمی ادارے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ ہر قسم کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے تاہم کاروباری سرگرمیاں محدود کرنے کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
پنجاب کی صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حکومت علما ومشائخ سے بھی رابطے میں ہے کہ مساجد میں بھی لوگوں کے اکٹھے ہونے کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے جمعرات کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔
خیبر پختونخوا میں 16 مریضوں کی تصدیق
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت تیمور جھگڑا کے مطابق صوبے میں تفتان سے آنے والے جن 19 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تھے ان میں سے 15 میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ ایک مریض جس کا تعلق مانسہراہ سے ہے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ مذکورہ شخص حال ہی میں برطانیہ سے پاکستان آیا تھا۔
ان کے مطابق اب تک صوبے میں جن 65 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ان میں سے 16 میں کورونا وائرس پایا گیا جبکہ 17 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا باقی ہیں۔
اجمل وزیر نے یہ بھی بتایا کہ تفتان میں موجود صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مزید 225 افراد کو منگل کو ڈیرہ اسماعیل خان لایا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت نے اُن تمام افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں 50 سال سے زائد عمر کے سرکاری ملازمین کو 15 دن کی چھٹی دے دی ہے جبکہ حاملہ اور دیگر سنگین امراض میں مبتلا سرکاری ملازمین کو بھی 15 یوم کی رخصت دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ صوبے کی جیلوں میں قید افراد کی سزاؤں میں 2 ماہ کی کمی کی جائے گی۔
اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے مفتی محمود ہسپتال میں 200 افراد کے لیے قرنطینہ قائم کیا گیا ہے۔ جبکہ صوبے بھر میں 1000 افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کے انتظامات کرلئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے صوبے کے 26 ہسپتالوں میں قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ 20 مزید ہسپتالوں میں بھی ضرورت کے پیش نظر قرنطینہ کے انتظامات مکمل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر 15 روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی اور عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے،ہاسٹل بند کرنے اور جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں قرنطینہ کے مسائل
صوبہ بلوچستان میں منگل کی شام کو مزید چھ مریضوں میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب صوبے میں متاثرین کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے۔
صوبے کے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان میں قائم کیے گئے قرنطینہ میں سہولیات پر سوال اٹھائے جانے کے باوجود حکام افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بھی کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایک بڑا قرنطینہ مرکز قائم کیا ہے۔
بلوچستان میں خیمہ بستی پر مبنی یہ تیسرا بڑا قرنطینہ مرکز ہو گا۔ اس سے قبل ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان اور کوئٹہ شہر کے قریب ہزار گنجی میں قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے۔
تفتان میں قائم کیے جانے والے قرنطینہ مرکز میں نامناسب سہولیات کے پیش نظر بلوچستان حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے بلوچستان میں پی ڈی ایم اے کے ترجمان فیصل نسیم پانیزئی کا کہنا تھا کہ چمن میں قائم کیے گئے قرنطینہ مرکز میں لوگوں کو الگ الگ خیموں میں رکھنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چمن میں جو مرکز بنایا گیا ہے اس میں ایک ہزار سے زائد افراد کو رکھنے کی گنجائش ہو گی۔ انھوں نے تفتان یا ہزار گنجی میں لوگوں کو اکٹھا رکھنے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے لیے الگ الگ انتظامات کیے جانے کے باوجود لوگ اکٹھے ہوتے تھے۔‘
پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں جو اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے ان میں وہی افراد شامل ہیں جو تفتان کے مقام پر بنائے گئے قرنطینہ میں رکھے گئے تھے۔
اس صورتحال کی وجہ سے بلوچستان حکومت کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ قرنطینہ میں سہولیات کی کمی اور لوگوں کو غیر محفوظ طریقے سے ایک ساتھ رکھنے کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔
تاہم حکومت بلوچستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متاثرین ایران کے ان علاقوں سے آئے تھے جو کہ کرونا سے زیادہ متاثر ہیں ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے وفاقی حکومت اور بعض صوبائی حکومتوں کی جانب سے تنقید کو افسوسناک قرار دیا ہے۔
تفتان کے قرنطینہ میں اس وقت 2300 سے زیادہ زائرین موجود ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے دو ہزار زائرین کو ان کے متعلقہ صوبوں میں بھیجا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زائرین کو فوری طور پر ان کے علاقوں میں بھیجنے کا فیصلہ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں منعقدہ اعلی سطح کے اجلاس میں ہوا تھا۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کمشنر ایاز خان مندوخیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زائرین کی روانگی کے سلسلے میں بسوں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ ’پہلے جن بسوں میں زائرین کو پنجاب لے جایا گیا تھا انھیں قرنطینہ کی شرائط کے باعث واپس نہیں آنے دیا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ زائرین کو ایک ساتھ پہنچانے کے لیے 65 بسوں کی ضرورت ہے جو کہ کوششوں کے باوجود فوری طور پر دستیاب نہیں تاہم پی ڈی ایم نے پہلے مرحلے میں 15بسوں کا انتظام کیا ہے جن میں پہلے سندھ سے تعلق رکھنے والے زائرین کو بھیجا جائے گا۔
حکومت بلوچستان نے عوام کو موبائل فون پر کورونا وائرس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
ایک اعلامیے کے مطابق روزانہ تین لاکھ سے زیادہ لوگوں کو موبائل پر پیغامات کے ذریعے کورونا وائرس کے اثرات اور احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔
افغانستان سے متصل بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے سرحدی شہر چمن میں لوگوں کی سکریننگ کے لیے اقدامات کے علاوہ چمن میں محدود پیمانے پر قرنطینہ مرکز قائم کرنے کے علاوہ آئسولیشن سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے وہاں 1500 افراد کے لیے قرنطینہ قائم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے کیا اقدامات کیے ہیں؟
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کو بند، فوجی پریڈ کو منسوخ، پاکستان کی سرحدوں کو پندرہ روز تک مکمل بند اور بین الاقوامی پروازوں کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان نے پیر کو افغانستان، ایران اور انڈیا کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پاک افغان سرحد طور بارڈر کو پیر اور اتوار کی درمیانی شب ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق روزانہ سات ہزار کے لگ بھگ افراد یہ سرحد عبور کرتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا بڑا راستہ بھی یہی ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان واہگہ کے مقام پر آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔ اس سرحد کی بندش کا فیصلہ انڈیا کی حکومت نے کیا ہے۔ یہ سرحد 15 مارچ سے بند کی گئی ہے۔ اسی طرح کرتار پور راہداری کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
پاکستان نے کرتارپور راہداری پاکستانیوں کے لیے بند جبکہ انڈیا سے آنے والے افراد کے لیے کھلے رہنے کے لیے کہا تھا لیکن انڈیا کی جانب سے یہ سرحد بھی بند کر دی گئی ہے۔












