کورونا وائرس مسلمانوں، ہندوؤں، مسیحیوں اور یہودیوں کے مذہبی رسم و رواج کی ادائیگی میں کیسے خلل ڈال رہا ہے

خانہ کعبہ میں آنے والے معترمین کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہABDEL GHANI BASHIR

،تصویر کا کیپشنخانہ کعبہ آنے والے معترمین کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی ہے
    • مصنف, لیبو دسیکو
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

کورونا وائرس سے پھیلنے والی ہلاکت خیز وبا پر عالمی سطح پر بھڑتی ہوئی تفتیش کے پیش نظر دنیا بھر میں لوگ اپنے معمولات اور طور طریقے تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

بہت سے لوگ ہجوم یا عوامی اجتماعات میں شرکت سے گریز کر رہے ہیں اور بہت سے لوگوں نے سفر کرنے کے ارادے منسوخ کر دیے ہیں۔ کئی جگہوں پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت ہاتھ ملانے یا بغل گیر ہونے کے بجائے کھونیوں سے کھونیاں یا پیروں سے پیر ٹکرانے پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔

وائرس کو ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہونے سے روکنے کے لیے گرجا گھروں، مندروں، مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے کے روائتی طریقوں اور مذہبی رسومات کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔

لیکن عبادت کرنے کے روایتی طریقے تبدیل کرنے سے کیا روح کو تسکین دی جا سکتی ہے؟

کورونا
کورونا

اسلام

خانہ کعبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصحن کعب کو عارضی طور پر بند کرنے کے بعد لوگ خانہ کعبہ کے سامنے نماز ادا کررہے ہیں

مکہ میں مسلمانوں کی مقدس ترین عبادت گاہ خانہ کعبہ میں جو ہزاروں عقدیت مندوں سے ہروقت کھچا کھچ بھرا رہتا تھا وہاں آنے والوں کی تعداد میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے دنیا بھر سے آنے والے عمرہ زائرین کے لیے صحن کعبہ کو عارضی طور پر طواف کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

مطاف کی صفائی اورجراثیم کش ادویات کے چھڑکاو کے بعد کھول دیا گیا ہے لیکن حرم کعبہ کے اردگر ایک عارضی باڑ لگا دی گئی ہے تاکہ لوگ اس کو چھونے کی کوشش نہ کریں۔

مکعہ اور مدینہ دونوں مقدس مقامات بیرونی دنیا سے آنے والے زائرین کے لیے تاحال بند ہیں۔

دنیا بھر سے سعودی عرب آنے والے مسلمان زائرین عمرہ سال کے کسی بھی حصے میں ادا کر سکتے ہیں جبکہ فریضہ حج صرف اسلامی کلینڈر کے مہینے ذی الحج میں ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔

ہر سال اسی لکھ افراد عمرہ کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔

خانہ کعبہ میں آنے والے معترمین کی تعداد میں نمایاں کمی ہو گئی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس مقامات عقیدت مندوں سے بھرے رہتے ہیں

نائجیریا میں حج اور عمرہ کی سہولیات فراہم کرنے والے ایک ٹریول ایجنسی کی مالک ایک خاتون خدیجہ تانیمو دانو کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زائرین پر پابندی پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ افسردہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عمرہ کی سعادت ہر کوئی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شاید اس صورت حال سے صرف عمرہ ہی متاثرہ نہ ہو۔

انھوں نے کہا بہت سے لوگوں کو اس بارے میں تشویش ہے کہ اگر یہ پابندی رمضان اور حج کے مہینے تک بڑھا دی گئی تو کیا ہو گا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے لیکن اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ یہ کب تک جاری رہے گی۔

لیکن بہت سی عبادات ایسی ہیں کہ یہ وبا کے پھیلنے کے خدشات کے باوجود جاری رہیں گی۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ایک ویڈیو جس میں شیعہ زائرین کو ایران میں ایک مزار کو بوسے دیتے ہوئے دیکھایا گیا تھا اس کے جاری ہونے کے بعد دنیا بھر میں شدید تشویش پیدا ہو گئی۔

ایک وڈیو میں ایک شعیہ مسلمان کو قم شہر میں معصوم کے مزار کے دروازے پر بوسے دیتے ہوئے دکھایا گیا جس کے بعد اس کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے خوف زدہ نہیں ہے۔ شیعہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان مزارات سے لوگوں کو شفا نصیب ہوتی ہے۔

دو افراد کو جو اس واقع میں ملوث تھے انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے اور کچھ ایران شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مزارات کو مکمل طور پر بند کر دیا جانا چاہیے۔

بہت سے مسلمانوں کے لیے معمول کے رویوں میں تبدیلی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں جب کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آیا تو مساجد میں جمعہ کے خطبات میں لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی۔

افریقہ میں بی بی سی کے نمائندے محمد علی نے بتایا کہ نمازیوں سے کہا گیا کہ نماز ادا کرنے کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے یا بغل گیر ہونے سے پرہیز کریں۔

لیکن ان سماجی عادات کو ترک کرنا اتنا آسان نہیں ہے اور اس میں وقت لگے گا۔ نماز کے بعد لوگ ابھی ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے ہیں اس لیے نہیں کہ انھوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے بلکہ وہ عاداتاً ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہے اور گلے مل رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایک دوسرے سے ملتے وقت گرمجوشی اور خیر سگالی کے جذبات کے اظہار کے لیے اب ہاتھ ملانے کے بجائے پیرو سے پیر ٹکرا رہے ہیں یا مٹھایاں بند کر کے ٹکرا رہے ہیں۔

لوگ آہستہ آہستہ اپنی عادات بدل رہے ہیں جس طرح سنگاپور میں نمازیوں کو کہا گیا کہ جمعہ کی نماز کے لیے وہ اپنے جائے نمازیں ساتھ لائیں۔

ہندو مت

ہولی

،تصویر کا ذریعہSANJAY KANOJIA

،تصویر کا کیپشنہولی میں لوگ نقاب لگا کر شریک ہوئے

ہندوؤں کے لیے سال کے یہ دن ہولی کا تہوار منانے کے ہوتے ہیں۔ اس تہوار کے موقع پر لوگ ایک جگہ اکھٹا ہو کر ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں۔ یہ تہوار بدی پر نیکی کی فتح، بہار کے موسم کی آمد، محبت اور نئی زندگی کا پیغام دیتا ہے۔

اس سال انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ ہولی کی تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے اور انھوں نے لوگوں کو بھی یہ ہی تلقین کی ہے کہ وہ بڑے بڑے اجتماعات میں جانے سے گریز کریں۔

اس کے باوجود اس اختتام ہفتے لوگوں نے بڑی تعداد میں ہولی کی تقریبات میں شرکت کی لیکن بہت سے لوگوں نے احتیاطً منہ پر نقاب لگائے۔ وہ اپنے عزیز و اقربا کی خاطر بھی احتیاط برت رہے ہیں۔

نکی سنگھ انڈیا کے مغربی شہر امرتسر میں رہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ وہ ہولی کے موقعے پر اپنے گھر ہی میں رہے اور دوستوں اور رشتہ داروں کو فون پر ہی مبارک بادیں دیتے رہے۔

انھوں نے کہا کہ لاپرواہ اور غیر محتاط لوگ ہی ہولی کھیل رہے ہیں لیکن اس مرتبہ روائتی جوش و خروش نظر نہیں آیا۔

انھوں نے کہا کہ اس صورت حال میں اگر کسی کو چھینک بھی آ جاتی تو سب لوگوں میں خوف پھیل جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ہولی منانے سے بہتر سمجھا کہ وہ گھر پر رہیں۔

یہودیت

Indian Jewish man with his child touching the mezuzah at synagogue

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنیہودی اکثر گھروں میں داخل ہوتے وقت میزوزہ کو چھوتے ہیں یا اس کو چومتے ہیں

لندن میں ایک یہودی عبادت گاہ کی پیشوا اس مخمصے میں ہیں کہ لوگ کو کسی طرح منع کیا جائے کہ کسی جنازے پرغم سے نڈہال کسی بیوہ سے وہ گلے لگ کر تعزیت نہ کریں۔

انھوں کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل کام ہے۔

ان کے خیال میں وہ کچھ اس طرح لوگوں کو یہ تلقین کریں گے کہ آپ اپنے پیار، محبت اور جذبات کا بھرپور اظہار کسی کو گلے لگا کر ہی کرتے ہیں اور خاص طور پر کسی غم کے موقعے پر لیکن اگر وقتی طور پر ایسا کرنے سے اجتناب برتیں اور سر جھک کر اور زبان سے اپنے جذبات کا اظہار کریں تو آپ کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی بہتر ہوگا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے وہ آن لائن سروس فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور کئی اصلاح پسند اور لبرل عبادت گاہوں میں یہ سلسلہ پہلے ہیں شروع کر دیا گیا ہے۔

اسرائیل کے مذہبی پیشوا ڈیویڈ لو نے یہودیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں کے دروازوں پر لگے میزوزہ کو گھروں میں داخل ہونے سے قبل بوسہ دینے کی روایت سے گریز کریں۔ میزوزہ کپڑے کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے جس کی ایک طرف خدا کا نام اور دوسری طرف عہدہ نامہ قدیم کی آیات درج ہوتی ہیں اور اسے برکت اور رحمت کے لیے یہودی اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر لگا دیتے ہیں۔

یورپ میں یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں کی ایک کانفرس کے بعد لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقدس کتاب توریت کو چومنے کی روایت کو فی الحال بند کر دیں۔

ربئی تابیک کا کہنا تھا میزوزہ کو چھونا یا چومنا یہودیوں کے لیے بہت لازم نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے روایات لوگوں کی عادات میں شامل ہیں۔

شاید یہ ہمارے حق میں بہتر ہو کہ ہم بعض رسم و رواج پر نظر ثانی کریں۔ ہمارے لیے بہتر ہو کہ ہم انھیں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے سب سے ضروری یہ بات ہے کہ ہمیں اس بات کو یقنی بنائیں کہ ہمیں ایک دوسرے کی حمایت اور تعاون حاصل رہے اور خدا سے تعلق قائم کرنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے۔

مسیحیت

چرچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندنیا بھر گرجا گھروں میں طور طریقے بدلے گئے ہیں

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی گرجا گھر کرائسٹ چرچ آف جارج ٹاؤن میں پادری کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد اس چرچ میں آنے والے سینکڑوں لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ رضاکارانہ طور قرنطینہ اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں۔

پادری ٹموتھی کول کے بارے میں گزشتہ ہفتے کو یہ تصدیق ہوئی تھی کہ انھیں کورونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے بعد سے وہ اپنی فیلمی کے ساتھ اپنے گھر میں قرنطینہ میں ہیں۔

پادری ٹموتی نے یکم مارچ کو گرجا گھر میں عبادات کروائی تھی جس میں ساڑھے پانچ سو افراد شریک ہوئے تھے۔

اٹلی میں پوپ فرانسیس نے ویٹیکن میں سینٹ پیٹر سکوائر میں اتوار کے روائتی دعائیہ اجتماع میں کھڑکی میں آ کر شرکت کرنے کے بجائے آئن لائن ہی دعا کروائی تاکہ اس سکوائر میں کم سے کم لوگ جمع ہوں۔

اٹلی جہاں چین کے بعد یہ وبا سب سے زیادہ شدت سے پھیلی ہے وہاں ہزاروں لوگ قرنطینہ میں ہیں۔

مسیجیوں کے کیتھولک فرقے کے گرجا گھروں نے افریقہ، یورپ اور امریکہ میں اس وبا کے پیش نظر اپنی دعائیہ اجماعات کو بدل دیا ہے۔

گرجا گھروں میں پادری اب شیرینی لوگوں کی زبانوں پر رکھنے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں رکھنا شروع کر دیا ہےاور انھوں نےایک ہی پیالے سے لوگوں کو شراب پلانے کی رسم کو بھی موقوف کر دیا ہے۔

دعائیہ اجتماع کے بعد لوگوں کو ہاتھ ملانے کے بجائے اپنے ساتھ بیٹھے شخص کے لیے دعا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لوگ کو یہ پوری طرح احساس ہے کہ ایسا کرنے کے لیے ان سے کیوں کہا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایسا کرنے پر خوش نہیں ہیں۔

برطانیہ میں مقیم ایک فرانسیسی صحافتی الگزنڈر سیئل کا کہنا ہے کہ اس سب میں وہ بات نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ گرجا گھروں میں دعائیہ اجتماع کے بعد امن و آشتی کی علامت کے طور پر لوگوں سے ہاتھ ملانے اور پادری کے ہاتھوں شیرینی نہ ملنے سے صدیوں سے جاری ان رسومات کی روح جیسے مر گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے۔

جنوبی کوریا میں ان احتیاطی اقدامات کو اختیار نہ کرنے کو کورونا وائرس کے پھیلنے کا بڑا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔

ملک میں آدھے سے زیادہ مریضوں کے کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے کا تعلق مسیحوں کے ایک فرقے سے جوڑا جا رہا ہے۔

ان گرجا گھروں کے منتظمیں کو کورونا وائرس کا شکار ہونے والے اپنے ارکان کے نام چھپانے کا الزام لگایا جا رہے جس کی وجہ سے اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیے جانے والے سرکاری اقدامات میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

ایسا صرف ایک ہی جگہ پر ہوا اور دنیا بھر میں گرجا گھروں کے منتظمیں اس وبا کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھرپور طریقے سے ساتھ دے رہے ہیں۔