کورونا وائرس: امریکہ میں خوف، یومِ پاکستان، ہولی سمیت کچھ تقریبات منسوخ

سٹور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ونیت کھرے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

گذشتہ ہفتے میں پانی کی بوتل خریدنے دکان گیا اور یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ بوتلوں کے شیلف خالی تھے۔ بڑے سٹوروں میں ٹوکریاں خالی پڑی تھیں۔ آلو، گاجروں کا سٹاک بھی ختم ہو چکا تھا۔

دکان میں کام کرنے والے افراد نے ماسک پہن رکھے تھے اور داخلی راستے پر ٹرالی کا ہینڈل صاف کرنے کے لیے جراثیم کش ٹشو بانٹ رہے تھے۔

دکان کے ملازم نے مجھے بتایا 'چیزیں سیکنڈوں میں غائب ہو رہی ہیں۔'

اس نے مجھ سے کہا کہ پانی کی بوتلیں حاصل کرنے کے لیے مجھے اگلی صبح دکان کھلنے کے وقت آنا پڑے گا۔ لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مجھے پانی ملے گا۔

اگلی صبح بھی دکان لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور سٹاک ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

عالمی سطح پر کورونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافے اور چین کے بعد اٹلی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ کے کئی حصوں میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Facebook پوسٹ نظرانداز کریں

مواد دستیاب نہیں ہے

Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.

Facebook پوسٹ کا اختتام

چھبیس اموات اور 650 سے زائد کورونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز نے امریکیوں کو فکرمند کر دیا ہے۔ میرے سمیت بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ اگر ہم باہر نکلیں گے تو وائرس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔

مزید پڑھیے
لائن

ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے پہچانے جانے والے کیلیفورنیا کے بے ایریا میں انڈین کمیونٹی سنٹر کے سی ای او راج دیسائی کہتے ہیں 'لوگوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ بھی اٹلی جیسے لاک ڈاؤن میں چلا جائے گا۔'

راج کے مطابق 'لوگ چیزیں اکٹھی کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ممبران کو گھر میں بنے جراثیم کش محلول (ہینڈ سینیٹائزر) فراہم کر رہے ہیں۔ سینیٹائزر کی کمی ہے لیکن سبزیاں مل رہی ہیں۔'

چھ سو سے زائد عمر رسیدہ افراد آئی سی سی کے ممبران ہیں اور عمر رسیدہ افراد کو کورونا وائرس انفیکشن لگنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

ایک بار حکام کو مداخلت کرنی پڑی کیونکہ خریداروں نے ٹشو پیپر اور پانی کے سٹاک کی قلت ہونے پر ہنگامہ برپا کر دیا۔

امریکہ میں ایمرجنسی

یہ امریکہ میں انتخابات کا سال ہے اور صدر ٹرمپ کے لیے یہ بری خبر ہے کیونکہ معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر خوف پھیلا ہوا ہے اور بازارِ حصص بیٹھ گیا ہے۔

انتظامیہ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ پہلے انھوں نے بحران کی طرف دھیاں نہیں دیا لیکن اب وہ اس تاثر کو ختم کرنے کی کوشش میں ہیں۔

انتظامیہ ویکسین بنانے یا حالات پر قابو پانے کے لیے آٹھ بلین ڈالر کا ایمرجنسی فنڈ استعمال کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ، نائب صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیدار مسلسل ٹی وی پر آ کر اپ ڈیٹ دے رہے ہیں۔ لیکن اموات اور تصدیق شدہ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

واشنگٹن، کیلیفورنیا، فلوریڈا اور نیویارک سمیت کئی امریکی ریاستوں نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ اس وائرس کو کمیونٹی کے ذریعے سے پھیلنے نہ دیا جائے۔

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی اور ملحقہ علاقوں میں بھی تصدیق شدہ کیس سامنے آئے ہیں۔ حتیٰ کہ کانگریس کے اراکین کو اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھنا پڑا کیونکہ وہ انفیکشن زدہ شخص کے ساتھ رابطے میں آئے۔

لیکن ناکافی ٹیسٹنگ پروسیجر اور ٹیسٹ کی زیادہ قیمت کو الزام دیا جا رہا ہے کہ ان وجوہات کی بنا پر امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیمانے کا اندازہ نہیں ہو رہا۔

معاشی نقصان کے بارے میں بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے لیکن اٹلی اور چین کی طرح کے لاک ڈاؤن کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔

دریں اثنا صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا 'گذشتہ سال عام زکام کی وجہ سے 37 ہزار امریکی ہلاک ہوئے۔ اس کی اوسط 27 ہزار سے 70 ہزار سالانہ ہے۔ کچھ بھی بند نہیں ہوا، زندگی اور معیشت چل رہی ہے۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

یومِ پاکستان اور ہولی منسوخ

راج کہتے ہیں کہ عمر رسیدہ افراد کے لیے مختص سرگرمیاں مثلاً بات چیت کے مواقع، یوگا سیشن، رقص اور لنچ دو ہفتوں کے لیے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

راج نے بتایا 'ہم نے ہولی کی تقریب منسوخ کر دی ہے۔ سٹینفرڈ سان فرانسسکو میں انڈین برادری نے زیادہ تر ہولی کی تقریبات منسوخ کر دی ہیں ما سوائے خاندانی تقریبات کے۔'

راج

،تصویر کا ذریعہRaj

بے ایریا میں واقع پاکستانی امریکی کمیونٹی سنٹر نے عوامی اجتماعوں کی وجہ سے صحت سے جڑے خدشات اور سینٹا کلارا کاؤنٹی میں بڑھتے کورونا وائرس کے کیسز کے پیشِ نظر اس سال کے یومِ پاکستان کی تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ سینٹر اگست میں یومِ پاکستان اور یومِ آزادی اکٹھا منائے گا۔

سینٹر کے عمر رسیدہ ممبر ایوب (فرضی نام) نے بتایا کہ 'ہم نے بڑی تقریبات منسوخ کر دی ہیں۔ جِم اور سڑکوں پر کم لوگ نظر آتے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں 'عام طور پر یومِ پاکستان کی تقریب میں 150 سے 200 لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ہمارے ہفتہ وار پروگرام میں شاعری کے سیشن شامل ہیں جس میں 25 سے 30 لوگ شرکت کرتے ہیں۔ شامل ہونے والے زیادہ تر لوگوں کی عمریں 50 سے اوپر ہیں اس لیے سب محتاط ہیں۔'

اس علاقے میں رہنے والے زیادہ تر پاکستانی اور انڈین ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک ہیں اور اب گھر سے کام کر رہے ہیں۔

ایوب کا کہنا تھا 'میں گھر پر رہتا ہوں اور جِم میں جس بھی مشین کو ہاتھ لگاتا ہوں، اسے صاف کرتا ہوں۔ وہاں آنے والے چینی افراد کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ لوگوں نے کاروں میں سینیٹائزر رکھنا شروع کر دیا ہے۔'

ایوب ٹیکنالوجی کے شعبے سے منسلک تھے اور اسی شعبے میں کام کرنے والے ان کے بچے اب گھر بیٹھ کر کام کر رہے ہیں۔

ایوب نے بتایا 'ہم اپنا کھانا فریزر میں رکھتے ہیں۔ ہم دو لوگ ہیں اس لیے زیادہ کھانا نہیں کھاتے۔ ہمارے پاس بہت زیادہ دالیں، مرغی اور گائے کا گوشت ہے۔ عام طور پر ہم تھوک میں سامان خریدتے ہیں۔ ہمیں صرف سبزیاں کو باقاعدگی سے خریدنے کی ضرورت ہوتی ہے۔'

کورونا وائرس کے پیشِ نظر کمپنیوں کو بھی تبدیلیاں لانی پڑیں۔

ایک کمپنی میں کام کرنے والی شوچیتا سونالیکا کہتی ہیں 'ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سی کمپنیاں اب اپنے سسٹم اور طریقہ کار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جن کی وجہ سے دفتر جا کر کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔'

سونالیکا

،تصویر کا ذریعہShuchita Sonalika

'ملازمین گھر بیٹھ کر کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایک ہی عمارت میں ہوتے ہوئے بھی ملازمین ویب پر مبنی سروسز کا استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ کام ہوتا رہے۔ لوگوں رابطے میں رہیں۔'

سونالیکا دفتر جا رہی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی حالات کا جائزہ لیتی رہے گی۔ 'پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ہم ان حالات میں رہ رہے ہیں۔'

ایل جی بی ٹی کیو برادری خطرے کی زد میں

وائرس کی وجہ سے دیسی ڈائسپورا 2020 نامی کانفرنس کے منتظمین کو پریشانی کا سامنا ہے۔ سات سالوں میں پہلی مرتبہ ہونے والی یہ کانفرنس 15 مئی کو منعقد ہونی ہے۔

اس کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں جنوبی ایشیا اور انڈو کیریبیئن کی ایل جی بی ٹی کیو برادری کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا اور برادری کو درپیش مسائل پر بات کرنا ہے۔

تقریباً 300 لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔

تنویر

،تصویر کا ذریعہTanveer

دیسی کوئیر ڈائسپورا 2020 کے ایگزیکیٹو ممبر خدائے تنویر کہتے ہیں 'ہمیں سوال موصول ہو رہے ہیں کہ آپ ہمیں محفوظ کیسے رکھیں گے۔'

نیشنل ایل جی بی ٹی کیو کینسر نیٹ ورک کے مطابق تمباکو کے بھاری استعمال اور ایچ آئی وی اور کینسر کی زیادہ شرح کی وجہ سے برادری خاص طور پر خطرے کی زد میں ہے۔