کورونا وائرس: سینیٹائزر کے لیے انسان کے استعمال پر سعودی تیل کمپنی ارامکو کی معافی

،تصویر کا ذریعہTwitter
کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر میں دفاتر کے اندر ماسک کے علاوہ ہر ٹیبل پر ہینڈ سینیٹائزر ضرور دکھائی دے رہا ہے لیکن سعودی کمپنی ارامکو کو اپنے ایک ورکر کو سینیٹائزر ڈسپینسر کا کاسٹیوم پہنا کر گھمانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
لیکن اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ ارامکو کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقیدی ردعمل سامنے آنے کے بعد معافی مانگ لی گئی۔
سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک دفتر میں ایک شخص گھوم پھر رہا ہے جس نے ہینڈ سینیٹائزر ڈسپینر اپنے جسم پر لگا رکھا ہے اور گزرتے ہوئے لوگ اسے استعمال بھی کر رہے ہیں۔

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگ اسے غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں، لیکن چونکہ تصویر میں دکھائی دینے والا شخص غیر ملکی ہے اس لیے بہت سے لوگوں نے اسے نسل پرستانہ بھی قرار دیا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ کیا سیکیولرازم اور سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ دنیا سے غلامی ختم ہوگئی ہے؟ نہیں، ہزار بار نہیں!

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Ahmedlaw4
حسن الراوی نامی صارف نے لکھا کہ یہ تصور پیش کرنے والے لوگ چاہتے تھے کہ اس شخص کو ڈبے میں بند کر کے اسے پھرایا جائے اور اس کی عزتِ نفس مجروح کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@alrawie
میڈیا اطلاعات کے مطابق کمپنی نے بعد میں معافی مانگ لی تاہم ایک صارف نعیمہ ابراہیم نے لکھا ہے کہ کمپنی کو اس ملازم سے ذاتی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ بیمار، انھوں نے پہلے کیا ہی کیوں۔ قابل نفرت اقدام۔‘
ایک اور صارف ایمن محمد نے اسے نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@AymanMohamed85
لیکن بہت سے لوگ اس کے ذریعے مختلف سروسز کی تشہیر کے طریقہ کار کی مثال بھی پیش کر رہے ہیں۔
بحر الورد نامی صارف نے لکھا اوپر دی گئی تصویر کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ضروری نہیں دنیا بھر میں یہ تصویر غلامی کی تشہیر کر رہی۔ شاید وہ کام کرنے والوں کو سینیٹائزر استعمال کرنے کی ترغیب کے لیے کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
نزار العوفی نامی صارف نے لکھا کہ یہ عام ہے کہ لوگ مختلف امور کو نئے طریقے سے سرانجام دینے میں غلطی کرتے ہیں۔ لیکن جو نارمل نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات اور نئے خیالات پر عمل درآمد سے پہلے ان پر نظر ثانی نہیں کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
خیال رہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے لاکھوں زائرین کی آمد کے پیش نظر بھی سعودی عرب نے فلائٹس او ویزروں کو موخر کر رکھا ہے۔
جدہ میں ایک سعودی کمپنی میں ملازم احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں دفاتر میں ہینڈ سینیٹائزرز تو سب کے لیے میسر ہے تاہم انسان کو ہینڈ سینیٹائزر ڈسپینسر کے طور پر استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دفاتر اور عوامی مقامات پر معیاری طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اب وہ دفاتر میں حاضری کے لیے مشین پر انگوٹھے کے استعمال کے بجائے اپنے ذاتی قلم کے ساتھ دستخط کرتے ہیں۔
’ہاتھ ملانا ممنوع ہے۔ ماسک کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ نماز کے اوقات محدود کر دیے گئے ہیں اور تمام سکول کالج بند ہیں۔‘







