#Rohri: پاکستان ایکسپریس ٹرین کی بس سے ٹکر، کم از کم 22 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر روہڑی میں کراچی سے لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس اور ایک بس کے درمیان تصادم میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایڈیشنل آئی جی سکھر ڈاکٹر جمیل نے بتایا ہے کہ یہ حادثہ جمعے کی شب کندھرا کے علاقے میں پیش آیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پنجاب جانے والی بس شاہین کوچ نے پھاٹک کراس کرنے کی کوشش کی لیکن بس پٹڑیوں کے درمیان میں پھنس گئی اسی اثنا میں کراچی سے لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس وہاں آ گئی اور اس نے بس کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں بس ٹکڑوں میں بٹ گئی۔
یہ بھی پڑھیے
ڈاکٹر جمیل نے بتایا کہ بس کی باڈی کاٹ کر زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا ہے اور اندھیرے میں موبائل فون کی ٹارچوں اور گاڑیوں کی ہیڈلائٹس میں امدادی آپریشن کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حادثے کے بعد سندھ سے اندرونِ ملک ٹرینوں کی روانگی والا روٹ بند کر دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر جمیل نے بتایا کہ یہ کھلا پھاٹک ہے جس پر کوئی چوکیدار نہیں ہوتا ہے اور بس ڈرائیور نے شارٹ کٹ کے لیے یہاں کا رخ کیا۔ مقامی صحافی ممتاز بخاری کا کہنا تھا کہ بظاہر قومی شاہراہ پر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ڈرائیور نے یہاں کا رخ کیا اور حادثے کا شکار ہو گیا۔
ٹرین میں سفر کرنے والے ایک نوجوان محمد جمیل نے بتایا کہ جب وہ ٹرین سے اترے تو دیکھا کہ انسانی اعضا کٹے ہوئے پڑے تھے۔
’کچھ زخمی تھے جو بتا رہے تھے کہ ان کا تعلق جھنگ، سرگودھا اور خوشاب سے ہے۔ اسی دوران علاقے کے لوگ اور پولیس آ گئی اور زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کیا گیا۔ ‘
اکرم نامی شخص نے بتایا کہ ٹرین ڈرائیور نے ہوشیاری اور احتیاط سے بریک لگائی اور ٹرین میں سوار مسافروں کو جھٹکا نہیں لگا تاہم جب وہ نیچے اترے تو بس دو حصوں میں تقسیم تھی۔
سوشل میڈیا پر غم و غصہ
ٹرین حادثے کے بعد سے پاکستان میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ روہڑی ٹرینڈ کر رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین اس حادثے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
علی صارف نامی ایک صارف نے لکھا ’بدانتظامی، نااہلی اور ذمہ داری کا فقدان کورونا وائرس سے زیادہ جانیں لے رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بشریٰ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ٹرین کے راستے میں کسی سواری کا آنا کوئی نئی بات نہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ایسا بار بار ہو رہا ہے اور ریلوے کا ادارہ سو رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ایک اور صارف نے لکھا کہ ریلوے کا لائن سسٹم بہت کمزور ہے جس میں نہ تو سگنلز ہیں اور نہ ہی مسافروں کے لیے کوئی حفاطت۔










