پاکستان ریلویز کے سی ای او کا اعتراف: 'تیزگام ایکسپریس سانحہ سکیورٹی سے متعلق غفلت کا نتیجہ'

تیز گام حادثہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنضلع رحیم یار خان میں جمعرات کی صبح کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی کے حادثے میں 74 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان ریلویز کے سی ای او اعجاز احمد بوریرو نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ تیزگام ایکپریس حادثہ اہلکاروں کی جانب سے سیکورٹی سے متعلق غفلت کا نتیجہ ہے۔

پاکستان کے ایک نجی اخبار 'دا ڈان نیوز' سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'یہ حقیقت ہے کہ مسافروں کی سیکورٹی اور حفاظت سے متعلق سنجیدہ قسم کی غفلتوں کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ پیش آیا ہے اور ان اہلکاروں کو بخشا نہیں جائے گا جو اس حادثے کے لیے ذمہ دار ہیں'۔

ریلوے کے ایک اور عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ سٹیشنوں اور ٹرینوں پر تعنیات اہلکار اگر ریلوے کے قوانین اور ایس ا و پیز ( سٹینڈرڈ آپریشن پروسیجرز) کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتے تو تیزگام ایکسپریس جیسے سانحہ کو ٹالا جاسکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ قسم کے انتظامی، آپریشنل اور سیکورٹی سے متعلق غفلتوں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے کیونکہ جن اہلکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوانین کے تحت اپنے فرائض انجام دیں وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یزگام ایکسپریس کے حادثے کے بعد ایک شخص اپنے رشتہ دار کے لیے روتا ہوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریلوے پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ گیس سلنڈر کا پھٹنا قرار دی گئی ہے۔

کراچی سے راولپنڈی آنے والی تیزگام ایکسپریس میں تین روز قبل صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے میں 70 سے زائد مسافر ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

1890 کے ریلوے ایکٹ کی شق 59 (1) کے تحت ' کسی بھی مسافر یا شخص کو ٹرینوں، سٹیشنوں یا ریلوے کے دفاتر میں کسی بھی خطرناک سامان لے جانے کی اجازت نہیں ہے'۔ اسی طرح سے کوچنگ ٹیرف کے آرٹیکل 5۔6 کے مطابق 'ٹرینوں پر لے جانے کے لیے دھماکہ خیز اور آتش گیر اشیاء کی بکنگ کرانے کے اجازت نہیں ہے'۔

ریلوے ایکٹ میں مسافروں کی حفاظت سے متعلق احتیاتی تدابیر کی شق نمبر دو میں ٹرین کے ڈبوں میں کسی بھی طرح کی آگ جلانے پر پابندی ہے۔

پاکستان ریلوے کی ایک اندرونی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی اس طرح کے حادثات پیش آئے ہیں جس میں اہلکاروں کی لاپرواہی کے نتیجے میں مسافروں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، مسافر زخمی ہوئے ہیں اور بوگیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے'۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیزگام حادثے کی وجہ سے آٹھ ٹرینیں چار سے سات گھنٹوں تک مختلف سٹیشنوں پر رکی رہیں۔

ریلوے کے ایک اہلکار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرین میں گیس کے چولہے اور سلنڈر لے جانے والے مسافر بھی غلطی پر تھے اور وہ اہلکار بھی جنھوں نے سٹیشن میں داخل ہوتے وقت ان افراد کے سامان کی تلاشی نہیں لی اور انھیں خطرناک سازو سامان کے ساتھ سفر کرنے دیا۔

انھوں نے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ سٹیشنوں اور ٹرینوں میں ڈیوٹی پر مامور ریلوے پولیس، کنڈیکٹر گارڈز، ٹکٹ چیکرز، سٹیشن ماسٹرز، اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹرز اور دیگر افراد کو قانونی اور اخلاقی طور پر گیس سلنڈر جیسی اشیاء کے ساتھ داخل ہونے والے مسافروں کو روکنا چاہیے'۔

ان کا مزید کہنا تھا 'اگر انھوں نے قوانین اور ایس او پیز کے مطابق فرائض سر انجام دیے ہوتے تو وہ یہ سانحہ ہونے سے روک سکتے تھے'۔

انھوں نے کہا کہ ٹرین میں سامان کے ساتھ سوار ہونے والے مسافروں کی تعداد چیک کرنے پر مامور افراد سے بھی سوال ہونا چاہیے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مسافروں کی تعداد کوچ کی گنجائش کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ اس ٹرین کے ڈبوں میں تعداد سے زیادہ مسافر سوار تھے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ ' میں حیران ہوں کہ اتنے زیادہ سامان کے ساتھ 85 سے زائد مسافر اس اکانومی کلاس بوگی میں سوار ہونے میں کیسے کامیاب ہوئے جس میں صرف 75 مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے'۔

وزارت ریلوے کے حکام نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی کوئی بھی وجہ ہو یہ پاکستان ریلویز کی غفلت ہے کیونکہ مسافروں کا تحفظ ادارے کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔

اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان ریلویز کے ایک ریٹائرڈ افسر اشفاق خٹک نے بتایا تھا کہ اس افسوسناک واقعے کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ ریلوے کا عملہ 'مجرمانہ غفلت' کا مرتکب ہوا ہے۔