رحیم یار خان ٹرین حادثہ: تیز گام میں آتشزدگی کے بعد کے مناظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔
یہ آگ لیاقت پور کے علاقے میں جمعرات کی صبح کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں لگی۔
حکام کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی لاشیں ’ناقابل شناخت‘ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہrescue 1122
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد لاہور کے علاقے رائیونڈ میں منعقد ہونے والے تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122
بوگیوں میں آتشزدگی کی وجہ کے بارے میں حکومت اور مسافروں کی جانب سے متضاد موقف سامنے آیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے کے متاثرین میں تبلیغی جماعت کے ارکان بھی شامل ہیں جو لاہور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN RAILWAYS
ان کا کہنا تھا کہ ان 'مسافروں کے پاس گیس سلنڈر اور چولہے تھے جن کے پھٹنے سے آگ لگی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد اور عینی شاہدین کا موقف ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سے اکانومی کلاس کی دو اور بزنس کلاس کی ایک بوگی متاثر ہوئی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد کے علاوہ ریسکیو کا عملہ اور فوجی اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
حادثے کے عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، کچھ لوگوں نے گاڑی کی زنجیر کھینچ کر اور باہر نکل کر بہت مشکل سے اپنی جان بچائی۔

،تصویر کا ذریعہAFP / Getty
سندھ کے شہر میرپور خاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے عرفان نامی مسافر کا کہنا تھا کہ وہ ٹرین کی 12 نمبر بوگی میں سفر کر رہے تھے جہاں آگ بھڑکی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ محمد عمران بھی حادثے میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بھائی حاجی محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مجھے صبح چھ بج کر 40 منٹ پر عمران کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ جب ٹرین میں آگ لگی تو میں کود گیا۔
وہ بتا رہا تھا کہ ’میں بہت زیادہ زخمی ہوں، بہت ہی زیادہ زخمی ہوں۔ '

،تصویر کا ذریعہRESCUE 1122
ان کا کہنا تھا 'کچھ علم نہیں کہ کیا ہوا بس شروع میں ٹرین کی بوگی میں ایک دم دھواں بھر گیا اور 10 منٹ تک دھواں ہی رہا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔'
وفاقی وزیر ریلوے نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ تیزگام ایکسپریس کی انکوائری ہوگی جس کے رپورٹ 15 دن میں ملے گی اور جو بھی ذمے دار ہو گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
۔








