رحیم یار خان ٹرین حادثہ: تیز گام میں آتشزدگی کے بعد کے مناظر

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں ایک مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ آگ لیاقت پور کے علاقے میں جمعرات کی صبح کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں لگی۔

حکام کے مطابق آگ اتنی شدید تھی کہ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کی لاشیں ’ناقابل شناخت‘ ہیں۔

حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد لاہور کے علاقے رائیونڈ میں منعقد ہونے والے تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

بوگیوں میں آتشزدگی کی وجہ کے بارے میں حکومت اور مسافروں کی جانب سے متضاد موقف سامنے آیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حادثے کے متاثرین میں تبلیغی جماعت کے ارکان بھی شامل ہیں جو لاہور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان 'مسافروں کے پاس گیس سلنڈر اور چولہے تھے جن کے پھٹنے سے آگ لگی۔'

تاہم اس حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد اور عینی شاہدین کا موقف ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی۔

تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سے اکانومی کلاس کی دو اور بزنس کلاس کی ایک بوگی متاثر ہوئی۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد کے علاوہ ریسکیو کا عملہ اور فوجی اہلکار بھی امدادی کارروائیوں میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔

حادثے کے عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، کچھ لوگوں نے گاڑی کی زنجیر کھینچ کر اور باہر نکل کر بہت مشکل سے اپنی جان بچائی۔

سندھ کے شہر میرپور خاص کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے عرفان نامی مسافر کا کہنا تھا کہ وہ ٹرین کی 12 نمبر بوگی میں سفر کر رہے تھے جہاں آگ بھڑکی۔

میرپور خاص سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ محمد عمران بھی حادثے میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بھائی حاجی محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ 'مجھے صبح چھ بج کر 40 منٹ پر عمران کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ جب ٹرین میں آگ لگی تو میں کود گیا۔

وہ بتا رہا تھا کہ ’میں بہت زیادہ زخمی ہوں، بہت ہی زیادہ زخمی ہوں۔ '

ان کا کہنا تھا 'کچھ علم نہیں کہ کیا ہوا بس شروع میں ٹرین کی بوگی میں ایک دم دھواں بھر گیا اور 10 منٹ تک دھواں ہی رہا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔'

وفاقی وزیر ریلوے نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ تیزگام ایکسپریس کی انکوائری ہوگی جس کے رپورٹ 15 دن میں ملے گی اور جو بھی ذمے دار ہو گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

۔