سندھ میں ریبیز کی وبا: وائرس کا پھیلاؤ اور ’پاگل‘ کتوں کی تعداد پر کیسے قابو پایا جائے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
’میرے بیٹے کو جب کتے نے کاٹا تو میں اسے جیکب آباد (سندھ) کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لے گیا۔ یہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹروں نے مجھے کہا کہ انھیں فی الفور کراچی پہنچا دیں تو بہتر ہوگا کیونکہ ہسپتال میں نہ فوری لگانے والا ٹیکا ہے نہ ویکسین۔‘
یہ کہنا تھا جیکب آباد کے اللہ بچل بلوچ کا جو کراچی کے انڈس ہسپتال میں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے آئے تھے۔ کراچی آنے پر جب انھوں نے اپنے بیٹے کا علاج کروایا تو ڈاکٹروں نے انھیں بتایا ’اگر آپ چند گھنٹے مزید لیٹ ہوجاتے تو بہت ہی مشکل ہوجاتا۔‘
صوبائی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہ ایمرجنسی کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ان کے پاس اس وقت روزانہ اوسطاً 150 تک مریض ریبیز سے بچاؤ کے انجیکشن اور ویکسین کے لیے آرہے ہیں۔
انڈس ہسپتال کے ڈاکٹر آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ ہر روز یہاں اندرون سندھ سے کتے کے کاٹنے کے روزانہ 40 سے 50 مریض آرہے ہیں کیونکہ وہاں اس علاج کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق ان کے ہسپتال میں بھی روزانہ 30 سے 40 نئے مریض آ رہے ہیں۔
’ہمارے پاس چند دن تک کا سٹاک تو موجود ہے۔ مگر اسی رفتار سے مریض آتے رہے تو پھر مستقبل میں قلت کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ کراچی کے سارے ہسپتال مریضوں کو ہمارے پاس ریفر کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہDr Naseem Saludin
پاکستان بھر میں محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ ہسپتالوں میں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ہیمو گلوبن انجیکشنز کی قلت ہے۔
مگر محکمہ صحت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مسعود سولنگی کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے ہسپتالوں میں اس کی کوئی قلت نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل قلت ہوئی تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔
ڈاکٹر مسعود سولنگی کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس اس وقت کم از کم 15 ہزار درآمد شدہ ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین موجود ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں وزارت صحت کے ترجمان ساجد حسین کے مطابق صوبہ سندھ میں تھوڑی بہت قلت ہے جبکہ باقی ملک میں کوئی قلت نہیں ہے۔ ’ضرورت کو پورا کیا گیا ہے اور ڈھائی لاکھ انجیکشن ملک بھر میں بھجوائے گئے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ مذکورہ انجیکشن کہاں بھجوائے گئے ہیں۔
ملک بھر میں صحت سے متعلق کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے پاس اس طرح کی معلومات موجود نہیں ہیں کہ پاکستان میں ریبیز سے بچاؤ کے کتنے انجیکشنز کی ضرورت پڑتی ہے۔
تاہم قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے ذرائع کے مطابق اس وقت ڈیڑھ لاکھ انجیکشن سالانہ تیار کیے جا رہے ہیں اور اگر آٹھ لاکھ انجکیشن تیار کرنے کی صلاحیت ہو تو ملک بھر کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے۔
ریبیز کیا ہے اور اس کا علاج کیسے ممکن؟
عام الفاظ میں ریبیز ایک خطرناک وائرس ہے جو اس مرض میں مبتلا جانوروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر کتے یا اسی نوع کے کسی بھی پاگل جانور کے کاٹنے سے ریبیز کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔
ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید، جو ریبیز کے مرض پر تحقیق کر چکے ہیں، کے مطابق اگر کسی شخص کو ایک مرتبہ ریبیز ہو جائے تو اس طرح کی مثالیں بہت کم ہیں کہ اس کا علاج ممکن ہوسکے۔ اس لیے فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔
’جب پاگل کتا یا کوئی اور جانور کاٹے تو ریبیز سے بچاؤ ممکن ہے جس کے لیے فی الفور ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین استعمال کی جانی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ ویکسین سے انسانی جسم میں قوت مدافعت پیدا کی جاتی ہے تاکہ مریض ریبیز کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ ’اس ویکسین کے استعمال سے غالب امکان ہوتا ہے کہ مریض ریبیز کا شکار نہ ہو۔‘
ڈاکٹر جنید کے مطابق کچھ سال پہلے تک ایسے کسی حادثے پر پیٹ میں 14 انجیکشن لگانے پڑتے تھے جو بہت زیادہ تکلیف دہ تھا مگر اب اکثر اوقات ریبیز سے بچاؤ کا چھ ٹیکوں کا کورس ہی کافی ثابت ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ریبیز کمیٹی کی ممبر اور انڈس ہسپتال کراچی کے شعبہ انفیکیشن کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق ریبیز کی ابتدائی علامات میں بخار، زخم کے اردگرد سنسناہٹ، بے قابو اشتعال، جسم کے اعضا ہلانے میں مشکلات اور ہوش کھو دینا شامل ہیں۔ مریض پانی کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں کیونکہ ریبیز کے جراثیم سے دماغ کی رگیں متاثر ہوچکی ہوتی ہیں۔
’ہر کتے کے کاٹنے سے ریبیز نہیں ہوتا‘
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ کتے کے کاٹنے کے جو مریض ہمارے پاس پہنچتے ہیں وہ تین طرح کے ہوتے ہیں:
- ایسے مریض جنھیں کتے کے کاٹنے سے معمولی خراش ہوتی ہے۔ ان کو ابتدائی طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے جو فراہم کردی جائے تو خطرے کی بات نہیں ہوتی۔
- وہ مریض جن کا زخم گہرا نہیں ہوتا۔ ان کا خون نہیں نکلا ہوتا۔ اس میں بھی ضروری طبی امداد دی جاتی ہے۔ عموماً ان میں ریبیز کا خدشہ نہیں ہوتا۔
- وہ مریض جن کے زخم سے خون نکل رہا ہو اور انھیں کتے نے بے دردی سے کاٹا ہو، انھیں دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انھیں رییبز کے شکار کسی جانور نے کاٹا ہے۔ ان کے علاج میں پہلا کام ہیمو گلوبن کا انجیکشن ہوتا ہے جس سے وائرس کا راستہ روکا جاتا ہے۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے اینٹی ریبیز انجیکشن دیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس پہنچنا لازمی ہوتا ہے۔ ’ڈاکٹر زخم کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے۔ اگر کاٹے جانے کا زخم دماغ کے قریب ہے تو پھر اینٹی ریبیز کا انجیکشن، اس کی مقدار، زخم یا اس کے اردگرد لگانے کا فیصلہ ڈاکٹر ہی کرے گا۔ ریبیز کا مرض دماغ اور اس کی رگوں کو متاثر کرتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ کئی مرتبہ ریبیز سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کا نہ ہونا بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔ ’علاج معالجے میں 24 گھنٹے کی تاخیر انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہDr Naseem Saludin
ریبیز سے بچاؤ کے انجیکشن کی قلت کیوں؟
پاکستان میں ادویات کے نگراں ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سمیت دیگر اداروں کے افسران نے ریبیز سے بچاؤ کے انجیکشن کے حوالے سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
دوسری طرف نجی شعبوں میں ادویہ ساز کمپنیوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور اینٹی ریبیز ویکسین کی خرید و فروخت اور در آمد سے منسلک لوگوں نے بھی چپ اختیار کی ہوئی ہے۔
تاہم شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سرکاری اور نجی شعبے سے منسلک لوگوں نے بتایا کہ پاکستان میں زیادہ تر ربییز انجیکشن درآمد کیے جاتے ہیں کیونکہ ملک کی ادویہ ساز کمپنیوں میں فی الحال اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اتنی حساس ویکسین بڑے پیمانے پر تیار کرسکیں۔
ان کے مطابق قلت کی مختلف وجوہات ہیں جن میں ادارے کی جانب سے بر وقت مناسب پالیسی نہ بنانا، صورتحال کا ادراک نہ ہونا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سالوں سے ربییز سے بچاؤ کی ویکسین مختلف ناموں سے پاکستان کی مارکیٹ میں موجود تھی۔ پہلے اس کی قلت اس لیے نہیں ہوتی تھی کہ یہ درآمد کر کے مارکیٹ تک پہنچائی جاتی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر مریض اور سرکاری ہسپتال مارکیٹ سے خرید کر اس کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ اس کے مختلف برانڈز کی قیمت 700 سے لے کر 900 روپے تک ہوتی تھی۔
انھوں نے مزید بتایا ہے کہ چند ماہ قبل کمپنیوں نے ڈریپ سے اس کی قیمت میں اضافے کی اجازت طلب کی تھی جس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی نہ ہی کوئی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ اس کے بعد کمپنیوں نے نقصان کے ڈر سے اسے در آمد کرنا بند کردیا۔
ان اہلکاروں کے مطابق پاکستان میں مختلف کمپنیاں ہر سال انڈیا، چین اور کچھ دیگر ممالک سے تقریبا 10 لاکھ کی تعداد میں یہ ویکسینز منگواتی تھیں۔
وزارت صحت کے ترجمان ساجد حسین نے بی بی سی کو موقف دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ یہ ویکسین تیار کر رہا ہے۔ تاہم اس کی پیداوار ابھی کم ہے مگر جلد ہی اس کو زیادہ کر دیا جائے گا۔
ان کے مطابق پالیسی کا معاملہ صوبوں کا ہے جبکہ قیمت اور درآمد سے متعلق مسائل بھی ان کے ذمے آتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDr Naseem Saludin
پاکستان میں تیار کی جانے والی ویکسین
قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے ماہرین کے مطابق دیگر ادویات کی طرح ریبیز سے بچاؤ کے انجیکشن کا خام مٹیریل بھی پاکستان میں تیار نہیں کیا جاتا۔ بلکہ انڈیا یا چین سے منگوایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر جنید کہتے ہیں کہ ان ویکسینز کی تیاری میں انسانی ڈی این اے کے علاوہ کتے کا وائرس استعمال کیا جاتا ہے اور یہ ایک حساس طریقہ ہوتا ہے جو دیگر ادویات سے مختلف ہے۔
ڈاکٹر نسیم کے مطابق سنہ 1999 میں بین الاقوامی اداروں کی فنڈنگ سے پاکستان میں اس کی تیاری شروع کی گئی تھی مگر بعد میں وہ معاملہ جہاں پر تھا وہاں پر ہی روک دیا گیا اور اس پر مزید کام اس کا معیار اچھا نہ ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایسی ویکیسن اور انجیکشن ہی استعمال کیا جانا چاہیے جو ڈبلیو ایچ او سے منظور شدہ ہو۔ ’ہم قومی ادارہ صحت کی تیار کردہ ویکیسن استعمال نہیں کرتے بلکہ اپنے ذرائع سے وہ ویکیسن منگواتے ہیں جو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے تسلیم شدہ ہو۔‘
’قومی ادارہ صحت اس وقت جو ویکسین تیار کررہا ہے وہ ڈیبلو ایچ کو جانچ کے لیے پیش نہیں کی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کو پیش کی گئی ویکسینز کو جانچ کے بعد تسلیم کیا جاتا ہے یا سرٹیفکیٹ ملتا ہے۔ ’دنیا بھر میں ایسی ہی ویکسین کو معیاری سمجھا جاتا ہے جو ڈبیلو ایچ او سے منظور شدہ ہو۔‘
مگر وزارت صحت کے ترجمان ساجد حسین کا موقف ہے کہ قومی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق معیاری ویکسین بنا رہا ہے۔ ’اس کی مختلف مقامات پر کوالٹی چیک ہوتی ہے۔ ہر طرح کی تسلی کے بعد اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس پر اب تک کوئی شکایت نہیں ملی۔‘

،تصویر کا ذریعہDr Naseem Saludin
ریبیز کا خاتمہ کیسے ممکن؟
ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ پہلے تو کراچی کے دور دراز علاقوں سے مریض آتے تھے لیکن اب کراچی کی گنجان آبادی سے بھی مریض آرہے ہیں۔ ’یہ مریض بتاتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں گلی محلوں میں موجود کتوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ ہوچکا ہے۔‘
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کے مطابق اس میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ کتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوچکی ہے اور یقینی طور پر یہ ماحولیاتی مسئلہ بھی ہے۔
عام خیال کے برعکس ڈاکٹر نسیم کا کہنا ہے کہ کتوں کو زہر دے کر مارنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ’یہ تو بے رحمانہ اقدام ہے مگر انسانی جانوں کو بھی محٖفوظ بنانا ہے جس کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔‘
ان کے مطابق کتوں میں ریبیز کے مرض کو روکنے اور ان کی تعداد کو کم کرنے کے لیے ویکسین اور نس بندی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ سری لنکا کی مثال پیش کرتی ہیں جہاں اس سے اچھے نتائج ملے۔
’ہم نے کراچی کے نواحی علاقوں میں آزمائشی طورپر دونوں پراجیکٹ شروع کیے تھے جس میں 25 ہزار کتوں کی ویکسینیشن کی گئی جبکہ تین ہزار کتوں کی نس بندی ہوئی ہے۔ اس سے بڑے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔‘
ڈاکٹر جنید کے مطابق ریبیز سے متاثر ہوجانے والے کتے کی عمر عموماً چھ سے سات دن ہوتی ہے مگر اس دوران وہ نہ صرف اس مرض کو پھیلا چکا ہوتا ہے بلکہ انسانوں کو بھی نقصان پہنچا دیتے ہیں۔
’جب بھی دیکھیں کہ کتا پانی نہیں پی رہا، کچھ کھا نہیں رہا۔ وہ سست ہوچکا ہے۔ وہ سر مختلف طریقے سے ہلا رہا ہے اور عجیب حرکتیں کررہا ہے تو پھر فوراً محسوس کرلینا چاہیے کہ وہ خطرناک ہوچکا ہے۔‘
ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انسانی صحت کے لیے خطرناک ہوتی جارہی ہے اور اس پر شہری تنظیموں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
میئر کراچی وسیم اختر کے نمائندے طارق رحمانی کا کہنا ہے کہ تمام ڈسڑکٹ کونسلز اور یونین کونسلوں کو کتوں کے خلاف مہم شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’غیر سرکاری اداروں کے تعاون سے نس بندی اور کتوں میں ریبیز کی ویکسینیشن کی جارہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مہم شروع ہوچکی ہے اور اس میں آنے والے دنوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔










