دلی کے بگڑے ہوئے آوارہ کتے

Dogs
،تصویر کا کیپشندلی کے تمام آوارہ کتے اتنے برے نہیں جتنا انھیں میڈیا میں دکھایا جاتا ہے
    • مصنف, وکاس پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دلی

انڈیا کے دارالحکومت دلی کی گلیوں میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً چار لاکھ سے زیادہ آوارہ کتے موجود ہیں۔ میڈیا میں انھیں کاٹنے یا بھنبھوڑنے والے ولنز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

لیکن شہر میں آوارہ کتوں کی ایک بڑی تعداد پرامن انداز میں رہتی ہے اور وہ اکثر اوقات انسانوں کے ساتھ قریبی رشتہ استوار کر لیتے ہیں۔ کچھ کتے عجیب عجیب عادتیں بنا لیتے ہیں، مثلاً مخصوص غذا پسند کرنا یا پھر بازاروں میں مارے مارے پھرنا۔ یہ کتے کھا پی کر موٹے ہو رہے ہیں اور دن بھر آرام سے سوتے ہیں۔

مندرجہ ذیل کچھ ایسے ہی کتوں کی کہانیاں ہیں۔

line

بلیکی

Dogs
،تصویر کا کیپشنبلیکی کی معصومیت پر نہ جائیے گا!

بلیکی بظاہر بردبار، خوش مزاج کتیا لگتی ہے مگر اس کی معصوم صورت پر نہ جائیں۔ اس کتیا کی غذا کے معاملے میں انتہائی مخصوص ترجیحات ہیں۔

دلی کی مشہور جنپتھ مارکیٹ میں صفائی کرنے والی راج رانی کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر اسے گھر کا کھانا پسند ہے۔ صبح کے وقت یہ روٹی کھاتی ہے اور شام کو موموس پسند کرتی ہے۔ اگر اس معمول میں رد و بدل ہو تو اسے بالکل اچھا نہیں لگتا۔‘

راج رانی کہتی ہیں: ’مجھے اسے کھانا کھلانا پسند ہے۔ یہ میرے لیے گھر والوں کی طرح ہے اور اگر میں اسے ایک دن بھی نہ دیکھ سکوں تو پریشان ہو جاتی ہوں۔‘

اسی مارکیٹ میں موموس بیچنے والے دیپک نے تصدیق کی کہ بلیکی مخصوص کھانا کھاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’جب بھی بلیکی میرے ٹھیلے پر آتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ جب میں اسے کھانا کھلاتا ہوں تو اس کی وجہ سے مجھے بھی موقع مل جاتا ہے۔ اسے چکن موموس پسند ہے اور وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کھاتی۔ اور اگر اسے کھانا کھلانے میں تھوڑی سی بھی دیر کر دوں تو مجھے اس کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

مگر بلیکی کی سب کو پسند آنے والی ان عادتوں کے برعکس اس کا ماضی بہت افسوس ناک رہا ہے۔

راج رانی بتاتی ہیں: ’جب یہ ہمیں ملی تو اس کی حالت خراب تھی۔ اس نے کچھ پلوں کی جنم دیا تھا مگر کچھ پاگل لوگوں نے انھیں مار دیا۔ اس موقعے پر میں نے اس کا خیال کرنا شروع کیا اور اس غم سے نکلنے میں اس کی مدد کی۔ تب سے یہ میری بہترین دوست ہے۔‘

line

کنجاری اور کالو

Dog - Kanjari
،تصویر کا کیپشنبھورے رنگ والی کنجاری کالو کے مقابلے میں زیادہ محبت کرتی ہے

بھورے رنگ والی پانچ سالہ کنجاری اور کالے رنگ والا چھ سالہ کالو دلی کی معروف مارکیٹ کنوٹ پلیس کے رہائشی ہیں۔ ان کے نام سدھا کماری نے رکھے ہیں جو اس مارکیٹ میں صفائی کا کام کرتی ہیں اور ان کتوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔ یہ کتے انھیں تب ملے تھے جب وہ پلے تھے۔

سدھا کماری ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ کنجاری بہت نخرے والی ہے۔ ’اگر کھانا کھلانے میں تھوڑی سی بھی دیر ہو جائے تو وہ ناراض ہو کر کھانا نہیں کھاتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب بھی خود کو چھوٹا سا پلا سمجھتی ہے۔‘

Dogs
،تصویر کا کیپشنسدھا کماری ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ کنجاری بہت نخرے والی ہے

دوسری جانب کالو قدرے تحمل مزاج ہے۔ سدھا کماری کہتی ہیں کہ کالو باتیں تو بہتر انداز میں مان جاتا ہے مگر وہ کنجاری جتنا پیار نہیں کرتا۔

line

سونو

Dogs
،تصویر کا کیپشن'سونو فرماں بردار کتا ہے اور اسے صرف اس وقت غصہ آتا ہے جب آپ اسے باسی کھانا دیں‘

دلی کے مصروف علاقے کستربہ گاندھی مرگ میں اکثر پانچ سالہ کتا سونو نظر آتا ہے۔ اس علاقے میں دفتروں کو چائے فراہم کرنے والے کھوکھے کے وجے کمار مورا اسے روز کھانا کھلاتے ہیں۔

’سونو فرماں بردار کتا ہے اور اسے صرف اس وقت غصہ آتا ہے جب آپ اسے باسی کھانا دیں۔ اسے بسکٹ بہت پسند ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسے یہ نہیں معلوم کہ کب بسکٹ کھانے بند کرے۔ کئی دفعہ وہ زیادہ بسکٹ کھا کر بیمار ہو جاتا ہے۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ اسے کتنے بسکٹ دینے ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ سونو انھیں 2011 میں ملا جب وہ پلا تھا۔

’وہ تقریباً دو ماہ کا تھا۔ میں نے اسے دودھ اور بسکٹ کھلانا شروع کر دیے۔ اب یہ اس کی عادت بن گئی ہے۔ میں نے آوارہ کتوں کو کھانا کھلانے کا فیصلہ اس وقت کیا جو میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو کہ ان کے ایک پورے ہجوم کو روز صبح کھانا کھلاتی تھی۔ اگرچہ میرے پاس بہت سے کتوں کو کھلانے کے وسائل تو نہیں مگر میں ایک کو تو کھانا کھلا سکتا ہوں۔ ‘

Sonu
،تصویر کا کیپشن’اسے بسکٹ بہت پسند ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسے یہ نہیں معلوم کہ کب بسکٹ کھانے بند کرے‘