ہندوؤں کے بارے میں بیان: فیاض الحسن چوہان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

فیاض الحسن چوہان

،تصویر کا ذریعہ@GOPunjabPK

پاکستان تحریک انصاف نے ہندوؤں کے بارے میں تضحیک آمیز بیان دینے کی پاداش میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فیاض الحسن چوہان کے ہندو برادری کے بارے میں ہتک آمیز بیان کی وجہ سے ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف نے کہا ہے کسی عقیدے کو برا بھلا کہنا کسی بیانیے کا حصہ نہیں ہونا چاہیے اور پاکستان کی بنیاد ہی رواداری کے اصول پر ڈالی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیئے

فیاض الحسن چوہان نے گذشتہ روز ایک تقریب میں ہندوؤں کے بارے میں انتہائی نازیبا ریمارکس دیئے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔

پاکستان کے شہریوں میں چالیس لاکھ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے ایک بیان میں چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے فیاض الحسن چوہان کے 'افسوسناک' ریماکس پر معافی مانگی۔ انھوں نے کہا کہ فیاض الحسن چوہان نے وزیر اعلی سے ملاقات کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیاض الحسن چوہان ماضی میں بھی اپنے بیانات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے معذرت کی ہے لیکن ان کی اس وضاحت کو نہیں مانا گیا اور انہیں ان کےعہدے سے ہٹا دیا گیا۔ فیاض الحسن چوہان نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ انہوں نے پاکستان ہندوؤں کو نہیں بلکہ نریندر مودی، انڈین افواج اور انڈین میڈیا کو مخاطب کیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

خیال رہے کہ بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی کارروائی کے بعد پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ انڈیا کے اس عمل پر تنقید کرنے یا ردعمل دینے والے ہندو برادری کو کیوں اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

ہندو سماجی کارکن کپیل دیو نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہمیں پاکستان سے اپنی محبت اور حب الوطنی دکھانے کے جواب میں پی ٹی آئی کے وزیر فیاض چوہان سے یہ ملا کہ وہ یہ سوچے بغیر کہ یہاں 40 لاکھ ہندو رہتے ہیں، ہندوؤں کے لیے `گائے کا پیشاب` پینے والے جیسے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی پارٹی میں ہندو رکنِ پارلیمان ہیں۔

تحریکِ انصاف سے ہی تعلق رکھنے والی وفاقی وزیرِ انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اس جانب توجہ دلائے جانے پر ٹوئٹر پر اپنے مذمتی پیغام میں کہا کہ کسی فرد کو بھی کسی کے مذہب کو ہدف تنقید بنانے کا حق حاصل نہیں، ہمارے ہندو شہریوں نے اپنے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

شیریں مزاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی شکل میں مذہبی تعصب اور منافرت کو فروغ دینے یا پھیلانے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی اپنے ایک پیغام میں فیاض الحسن چوہان کے بیان کو رد کیا۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان فخریہ طور پر اپنے پرچم میں موجود سفید حصے کو اسی طرح اپناتا ہے جس طرح سبز حصے کو۔ ہم اپنی ہندو برادری کی خدمات کی قدر کرتے ہیں اور انھیں اپنا سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔‘

عام پاکستانیوں کی جانب سے بھی صوبائی وزیرِ اطلاعات کے اس اقدام پر جہاں تنقیدی ردعمل سامنے آیا وہیں وہ پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں سے معذرت بھی کرتے دکھائی دیے۔

خدیجہ عباس نامی صارف نے لکھا کہ ’میں فیاض چوہان کے نسل پرستانہ کلمات پر اپنی پوری ہندو برادری سے معذرت کرتی ہوں۔‘