اس بار تو لگتا ہے کہ بال بال بچ گئے!

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو یہ پیغام دیا کہ ہم جب چاہیں تمھارے علاقے میں آکر کارروائی کرسکتے ہیں، اس لیے کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔ لیکن دونوں نے بے پناہ شرافت کا مظاہرہ بھی کیا۔ کچھ اس حد تک کہ مجھے لگتا ہے کہ شاید اس تکرار کو نفرت کے بجائے دونوں کی محبتوں کے لیے ہی یاد رکھا جائے گا۔
دونوں نے ’غیرفوجی‘ اہداف پر بمباری کی کہ کہیں فوجیں برا نہ مان جائیں، انھیں کوئی تکلیف نہ ہو۔ اور بار بار اس بات کی وضاحت بھی کی، جیسے فوجوں کی ذمہ داری صرف اپنی تنصیبات کا دفاع کرنا ہی ہو۔
سوچا ہوگا کہ دوسری طرف کی فوج کے افسران سرجوڑ کر بیٹھیں گے اور پھر کہیں گے ’بھائی، ہمارے اوپر براہ راست تو کوئی حملہ ہوا نہیں، تو کیا اس جھگڑے میں ہمارا شامل ہونا مناسب ہوگا؟‘
یہ بھی پڑھیے
لیکن سوشل میڈیا اور ٹی وی اینکر ان باریکیوں کو کہاں سمجھتے ہیں۔ وہ شروع سے ہی جنگ کا بگل بچا رہے تھے اور انھیں اب بھی لگتا ہے کہ مسئلہ جو بھی ہو، اور اس کا حل جو بھی ہو، ایک جنگ تو ہو ہی جانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں فکر شاید صرف اس بات کی ہے کہ اسلحے کی بھی ایک شیلف لائف ہوتی ہے، زیادہ دن رکھا رہے تو بےکار ہو جاتا ہے، اور دو غریب ملکوں میں وسائل کی بربادی کیسے برداشت کی جاسکتی ہے؟ وقت رہتے استعمال ہو جائے تو اچھا ہے، رونق بھی رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہEPA
لیکن اب لگتا ہے کہ ہندوستانی پائلٹ کی وطن واپسی کے ساتھ ہی فوکس کچھ بدل جائے گا، انتخابات سر پر ہیں اور سیاسی رہنما سوچیں گے کہ پہلے یہ کام ہی نمٹا لیں، جنگیں تو ستر سال سے لڑ ہی رہے ہیں، ایک مرتبہ شروع ہوگئی تو ختم ہونے میں نہ جانے کتنا وقت لگ جائے۔
اور نہ جانے انجام کیا ہو۔
لیکن حالات یہاں تک پہنچے کیسے؟ پلوامہ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے بعد انڈیا میں حکومت پر دباؤ تھا کہ وہ چالیس جوانوں کی ہلاکت کا انتقام لے۔
ان حالات میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ جوابی کارروائی کرنے کے لیے مسلح افواج کو مکمل چھوٹ دے دی گئی ہے۔ یہ بات تقریباً طے تھی کہ اس مرتبہ سٹرائکس کے لیے فضائیہ کا استعمال کیا جائے گا۔
فی الحال، سوال کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن نریندر مودی کو اس بنیادی الزام کا سامنا ہے اور شاید جب انتخابی مہم باقاعدہ طور پر دوبارہ شروع ہوگی تو اور زیادہ شدت سے ہوگا کہ انھوں نے ایک مشکل الیکشن جیتنے کے لیے اس کارروائی کی اجازت دی تھی۔ حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کو سمجھانے کے باقی تمام دوسرے راستے آزمائے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یہ قیاس آرائی ہی ہے لیکن حکومت اگر یہ کارروائی نہ کرتی تو نریندر مودی سے پھر ان کے سینے کا سائز ضرور پوچھا جاتا۔ لیکن فوجی ماہرین کی ایک بہت چھوٹی سی تعداد یہ معلوم کر رہی ہے کہ کیا حکومت نے یہ سوچا تھا کہ اگر بات بڑھ گئی تو کیا ہوگا؟ کیا واقعی کسی کا یہ خیال تھا کہ سرحد پار سے جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی اور بات کو اسی طرح دبا دیا جائے گا جیسے ستمبر 2016 میں ہوا تھا؟
ان سوالوں کا جواب آسانی سے نہیں ملے گا لیکن اگر بات اب ٹھنڈی ہونا شروع ہوگئی تو ایک دو ہفتے بعد تفصیلات سامنے آنا شروع ہوسکتی ہیں۔ تبھی معلوم ہوگا کہ آخر فضائی کارروائی کی اجازت دیتے وقت اس بارے میں کیا سوچا گیا تھا کہ جوہری اسلحے کے استعمال تک نوبت پہنچ سکتی ہے یا نہیں؟
سوال یہ بھی ہے کہ اب تک جو ہوا ہے اس میں کون ہارا اور کون جیتا؟ یا بازی برابر رہی؟ کہتے ہیں کہ جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، سب ہارتے ہیں۔ جس دن بالاکوٹ پر بمباری کا اعلان کیا گیا، اس دن بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ الیکشن میں اب نریندر مودی کو کوئی نھیں ہرا سکتا۔ (ان ہی کی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ بالاکوٹ پر حملے سے کرناٹک میں بی جے پی 22 سیٹیں جیت جائیں گے)۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اور کیا عمران خان کا قد بڑھا؟ انڈیا میں تو نھیں، موجودہ حالات میں یہاں ان کی بات پر اعتماد کرنے والوں کی تعداد اب بہت کم ہے اور انھیں صرف ایک ہی کسوٹی پر آزمایا جائے گا، یعنی وہ انڈیا کو نشانہ بنانے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یا نھیں۔
لیکن ایک سوال جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو وہ یہ ہے کہ اگر کشمیر میں پھر کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو کیا ہوگا؟
لیکن جیسا ایک ریٹائرڈ جنرل نے کہا کہ لڑائی میں اتار چڑھاؤ آتے ہی رہتے ہیں۔ نہ بہت جلدی جشن منانا چاہیے اور نہ غم۔ ہندوستانی پائلٹ کی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گرفتاری کی وجہ سے ہی شاید بات آگے بڑھنے سے بچ گئی۔
جب اس مختصر ٹکراؤ کا تفصیل سے تجزیہ ہوگا تو شاید یہ بات سامنے آئے کہ اس پائلٹ کی زندگی نے بہت سے لوگوں کو زندگی دی ہے۔ پائلٹ نھیں بچتا تو انتقام کا مطالبہ اور تیز ہوجاتا اور نریندر مودی کے لیے آپشنز محدود ہوتے چلے جاتے۔
پاکستان نے چاہے خیر سگالی کے جذبے کے طور پر پائلٹ کو واپس بھیجا ہو یا بین الاقوامی دباؤ میں، ان کی واپسی کے اعلان کے بعد سے ہی یہ لگنا شروع ہوگیا تھا کہ اب بات ٹھنڈی ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیاسی بیان بازی کا سلسلہ تو جاری رہے گا لیکن دونوں اپنی سرحدوں کے اندر اپنی عوام سے جو چاہیں کہیں، انھیں کون روکتا ہے۔
بس انھیں اس جوان بیوہ کی بات یاد رکھنی چاہیے جس کا شوہر تقریباً اسی وقت ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہوا جب پاکستانی طیارے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بم باری کر رہے تھے۔ (لیکن پاکستانی کارروائی سے اس حادثے کا کوئی تعلق نہیں تھا)۔ وجیتا ماندو گانے کے شوہر نیناد کا ہیلی کاپٹر وسطی کمشیر میں گر کر تباہ ہوا۔ ان کی دو سال کی بیٹی بھی ہے۔
وجیتا کا کہنا ہے کہ ’ہمیں جنگ نہیں چاہیے۔ آپ کو نھیں معلوم کے لوگوں پر اس کا کتنا تباہ کن اثر ہوتا ہے۔ کوئی دوسرا نیناد نہیں مارا جانا چاہیے، نہ سرحد کے اس پار اور نہ اس پار۔‘
وجیتا کہتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا پر جنگ کا بگل بجانے والوں سے میں صرف اتنا کہوں گی کہ آپ باز آجائیں، جنگ سے کچھ نہیں ہوگا، اگر آپ کے اندر اتنا ہی جوش ہے تو آپ فوج میں بھرتی ہوں، تب آپ کو حقیقت کا اندازہ ہوگا۔‘
لیکن ایسے پیغام سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوا کرتے۔









