پاکستان: امن کے نوبل انعام کے لیے عمران خان کی نامزدگی؟

پٹیشن

،تصویر کا ذریعہCHANGE.ORG

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں، انڈین پائلٹ کی رہائی کے اعلان کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر عمران خان کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے کے لیے ایک ٹرینڈ چل رہا ہے۔

انڈیا کی طرف سے کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں بدھ کے روز پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جب ایک انڈین جنگی طیارے کو مار گرایا تو اس دوران ان کے ایک پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتار بھی کیا گیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ابھینندن کی گرفتاری کو انڈیا کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جارہا تھا اور سوشل میڈیا پر موجود انڈین صارفین بہت پریشانی کا شکار نظر آتے تھے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

لیکن جمعرات کی دوپہر، جیسے ہی پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمان میں اعلان کیا کہ گرفتار کیے گئے انڈین پائلٹ کو ’امن کے پیغام کے طور پر‘ رہا کیا جائے گا، سوشل میڈیا پر موجود ان کے مداحوں نے انہیں امن کا نوبل انعام دلوانے کے لیے #NobelPeacePrizeForImranKhan کا ٹرینڈ شروع کر دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنے والا ٹرینڈ گذشتہ شب تک پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

لیکن بات صرف ٹوئٹر ٹرینڈ تک ہی محدود نہیں رہی، عمران خان کے ایک مداح نے انہیں نوبل انعام دلوانے کے لیے پٹیشن کا آغاز بھی کردیا۔ جس پر اب تک دو لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔

ملالہ یوسف زئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملالہ یوسف زئی کو سنہ 2014 میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا

یاد رہے ملالہ یوسفزئی وہ پہلی پاکستانی ہیں جنہیں بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پر ’امن کا نوبل انعام‘ دیا گیا تھا۔ ملالہ کو دسمبر 2014 میں اس اعزاز سے نوازا گیا۔

اگرچہ پاکستان کے نام ہونے والا امن کا یہ پہلا نوبل انعام ضرور تھا مگر اس سے تین دہائیاں پہلے ایک اور پاکستانی، ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی 1979 میں فزکس میں تحقیق پر نوبل انعام ملا تھا۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین، سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو نوبل انعام دلوانے کے لیے بھی متعدد بار ایسی ہی پٹیشنز شروع کر چکے ہیں، جن میں انہیں اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

قرارداد

،تصویر کا ذریعہNational Assembly

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بھی گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کو امن کا نوبل انعام دینے کیلئے ایک قرارداد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی ہے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں کمی کیلئے دانشورانہ کردار ادا کیا ہے، جو انڈیا کی جنگی جنون رکھنے والی قیادت کے باعث پیدا ہو گئی تھی۔ لہذا انہیں امن کا نوبل انعام دیا جائے۔‘