پاکستان میں’107 جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے بیرون ملک منتقل ہوئے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جعلی اکاونٹس سے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے اب تک ہونے والی پیشرفت سے متعلق سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 107 جعلی اکاؤنٹس سے 54 ارب روپے سے زائد کی رقم دوسرے ملکوں میں منتقل کی گئی ہے۔
اس سے پہلے عدالت کو یہ بتایا گیا تھا کہ 35 ارب روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیے گئے ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کئی کیسوں کیں اکاؤنٹس محدود مدت میں کھولے گئے اور اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کے بعد ان اکاونٹس کو بند کردیا گیا۔
واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقم کی منتقلی کے مقدمے میں پاکستان کے سابق صدر اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور ملزمان میں شامل ہیں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقلی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو جے آئی ٹی کے سربراہ اور ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل احسان صادق نے اس مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی۔
جے آئی ٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں سندھ حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔
اُنھوں نے کہا کہ صوبے کے چیف سیکریٹری سمیت دیگر حکام جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ایسے تمام سرکاری افسران کو طلب کر لیتے ہیں جو اس مقدمے میں جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارے میں مزید پڑھیے
احسان صادق کے بقول سیکریٹری آبپاشی اور سیکریٹری زراعت کی جانب سے بھی تعاون نہیں کیا جا رہا۔
سندھ حکومت کے وکیل نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے تو تعاون کیا جا رہا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 2008 سے 2018 تک 46 افراد کو دیے گئے معاہدوں کی تفصیلات طلب کی ہیں جو کہ فراہم کی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے سربراہ سے استفسار کیا کہ کیا کبھی بینیفیشریز تک پہنچا جائے گا جس پر احسان صادق نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر متعلقہ حکام بروقت ریکارڈ فراہم کریں تو ایسا ممکن ہے۔
جے آئی ٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فالودہ بیچنے والے رکشہ چلانے والوں اور دیگر افراد کے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی گئیں۔
اُنھوں نے کہا کہ 36 کمپنیاں صرف اومنی گروپ کی سامنے آئیں ہیں جو کہ جے آئی ٹی کے بقول عبدالمجید کی ملکیت ہیں۔
ملزم عبدالمجید سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوست ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس از خود نوٹس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت پر سندھ پولیس کے سربراہ کو بھی طلب کیا گیا ہے اور یہ سماعت کراچی میں ہو گی۔
اکاؤنٹ کیسے جعلی یا مشکوک ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جعلی یا مشکوک بینک اکاؤنٹ عام طور پر وہ اکاؤنٹ ہے جو جس شخص کے نام پر کھولا جاتا ہے اس میں پیسہ اس کا اپنا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر امکان ہوتا ہے کہ وہ شخص اس سے باخبر ہو۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ اسے یکسر اس کا علم نہ ہو۔
ایسی صورت میں اس کا نام اور شناختی کارڈ وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کے ایک تحقیقاتی آفسر جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی بھی تین صورتیں ہیں۔
’آپ کی شناختی معلومات یا تو چوری کی جاتی ہیں، فراڈ کے ذریعے خود آپ سے حاصل کی جاتی ہیں یا پھر ملی بھگت سے آپ سے خریدی جاتی ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کسی کی شناختی معلومات حاصل کرنا مشکل نہیں۔ ’آپ کئی جہگوں پر اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دیتے ہیں وہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ حتیٰ کہ آپ کے انگوٹھے کا نشان تک نقل کیا جا سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل پنجاب کے ایک علاقے سے سائبر کرائم میں ملوث ایسا گروہ گرفتار کیا گیا تھا جو سیلیکون کی مدد سے انگوٹھے کے نشانات کی ہو بہو نقل تیار کرتا تھا۔









