ڈونر کی ’دھوکہ دہی‘، شفا انٹرنیشنل میں اعضا کی پیوندکاری کا عمل معطل

،تصویر کا ذریعہShifa International Hospitals Ltd.
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں جگر کی پیوند کاری کے ایک مریض کے خاندان کی جانب سے مبینہ دھوکہ دہی کے بعد اعضا کی پیوندکاری کا عمل غیرمعینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔
ہسپتال کی جانب سے فیس بک پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال نے اپنا ’اعضا کی پیوندکاری کا پروگرام رضاکارانہ طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ پروگرام 13 ستمبر سے معطل ہے۔‘
خیال رہے کہ یہ ہسپتال پاکستان میں سنہ 2012 سے جگر کی پیوندکاری کر رہا ہے، لیکن اب پہلی بار یہاں کام روک دیا گیا ہے۔ ملک میں ہونے والی اعضا کی پیوندکاری کے پچاسی فیصد آپریشنز یہیں کیے جاتے ہیں۔
بیان کے مطابق ایک خاندان نے اپنے بیٹے ثمر کو جگر عطیہ کرنے والا ظاہر کر کے کاغذی کاروائی مکمل کی، تاہم آپریشن اور پیوندکاری کے لیے سمیر نامی شخص کا جگر حاصل کیا گیا۔
ثمر نامی شخص کی دستاویزات نادرا اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی سے تصدیق کرنے کے بعد ان کاغذات کو ہسپتال میں سمیر کے داخلے کے وقت تبدیل کیا گیا۔ اس تمام کاروائی میں ہسپتال کا ایک اہلکار بھی مبینہ طور پر ملوث رہا ہے۔
ہسپتال میں جگر کی پیوندکاری کے مرکز کی اسسٹنٹ مینیجر فرح یاسر نے بی بی سی کی فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قانون کے مطابق جگر کی پیوندکاری کے مریض کے لیے صرف وہ شخص عطیہ کر سکتا ہے جس کے ساتھ خون کا رشتہ ہو۔
ان کے مطابق اس خاندان نے تمام دستاویزات میں یہی ظاہر کیا کہ مریض کے بیٹے ثمر ہی جگر عطیہ کر رہے ہیں، تاہم آپریشن کے وقت عطیہ کرنے والا شخص کوئی اور تھا۔
فرح یاسر کے مطابق اعضا کی پیوندکاری کے لیے مریض کے ساتھ عطیہ کرنے والے کا خونی رشتہ ہونا ضروری ہے، جو خاندان کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔ جس کے بعد ہسپتال مختلف ٹیسٹ کرتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کیا مریض عطیہ کر سکتا ہے یا نہیں۔ تمام ٹیسٹ میں کلیئر ہونے کے بعد قانونی کارروائی کے لیے نادرا اور پھر ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) سے رابطہ کیا جاتا ہے، اور کلیئرنس ہونے کے بعد آپریشن کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن زیرِ بحث کیس میں ثمر کا کیس نادرا اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کے پاس جانے سے پہلے ان کے متعدد ٹیسٹ کیے گئے، اس کے باوجود متعلقہ عملہ یہ نہیں پہچان پایا کہ مریض تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس سوال پر فرح یاسر کا کہنا تھا کہ عملے کے کون سے افراد ملوث ہیں، اس معاملے کے تحقیقات کی وجہ سے ہی فی الحال تمام آپریشنز معطل کر دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی مریض کی جانب سے ایسا دھوکہ دیا گیا ہو۔‘
ہسپتال کے ترجمان کے مطابق اعضا کی پیوندکاری کے مرکز میں تمام کام انکوائری مکمل ہونے تک معطل رہے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ مریض کے خاندان نے اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے، جبکہ ہسپتال کے عملے کے ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق شفا انٹرنیشنل اور ایس یو آئی ٹی نے مل کر اب تک اعضا کی پیوندکاری کے تقریباً 700 کامیاب آپریشن کیے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت پیوندکاری مرکز میں کل 39 کیسز زیر التوا ہیں جن میں سے بیس مریضوں کے لیے تمام کاروائی مکمل ہو چکی ہے، اور اب صرف ان کا آپریشن ہونا باقی تھا۔ ان مریضوں کو اس تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔
پاکستان میں اعضا خصوصاً گردوں اور جگر کی غیر قانونی فروخت کے لیے ایک ’سستا بازار‘ سمجھا جاتا ہے، ایک اندازے کے مطابق ہر سال ملک کے نجی ہسپتالوں میں پندرہ سو سے زائد غیر ملکی اعضا کی پیوندکاری کے لیے آتے ہیں، جب اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے علاوہ سمگلنگ بھی کی جاتی ہے۔
ایس آئی یو ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال 50 ہزار سے زائد افراد اعضا کے فیل ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں، جن میں 15 ہزار گردے جبکہ 10 ہزار جگر فیل ہونے سے ہلاک ہوتے ہیں جبکہ چھ ہزار سے زائد مریض دل ناکارہ ہونے کے سبب مرتے ہیں۔









