مصر: انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث گروہ گرفتار

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر میں حکام نے بین الاقوامی سطح پر انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پروفیسروں پر مشتل ایک گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
مصر کی ایڈمنٹسریٹو کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ منگل کے روز گرفتار کیے جانے والے 25 افراد میں انسانی اعضا کے خریدار اور دلال بھی شامل ہیں۔
حکام کو چھاپے کے دروان ’لاکھوں ڈالر اور سونے کی اینٹیں‘ بھی ملی ہیں۔
حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کے روز گرفتار ہونے والا گروہ مصری اور عرب افراد پر مشتمل تھا جو غریب افراد کے مشکل مالی حالات کا ناجائز اٹھاتے ہیں تاکہ وہ ان کے اعضا سستے داموں خرید کر بھاری رقوم کے عوض فروخت کر سکیں۔
سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے گروہ ’انسانی اعضا کی خرید و فروخت کا سب سے بڑا انٹرنیشنل ٹیٹ ورک چلا رہا تھا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران پرائیویٹ ہسپتالوں اور ہیلتھ سنٹروں پر توجہ مرکوز کی گئی جہاں اعضا کی پیوند کاری کا کام ہوتا تھا۔
حکام نے 10 سنٹروں سے کمپیوٹر اور دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لی ہیں۔
مصر میں کئی سالوں سے انسانی اعضا کی غیر قانونی کاروبار کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سال 2010 میں عالمی ادارہِ صحت نے مصر کو انسانی اعضا کے غیر قانونی کاروبار کے سلسلے میں پانچ بڑے ملکوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔
مصر میں حکومت نے اس غیر قانونی کاروبار کو روکنے کے لیے قانون سازی بھی کی لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اب بھی ہر سال سینکڑوں غریب مصری شہری پیٹ کی بھوک کا سامان کرنے اور قرضے اتارنے کے لیے اپنے گردے اور جگر فروخت کرتے ہیں۔
سال 2012 میں شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مصر میں صحرائے سینا کے علاقے میں کچھ تارکین وطن کو انسانی اعضا حاصل کرنے کے لیے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اسی سال انسای سمگلنگ کے ملوث ایک شخص نے اطالوی پراسیکیوٹروں کا بتایا تھا کہ جو افراد اپنے قرضہ ادا نہیں کر سکتے انہیں انسانی اعضا کی تجارت کرنے والے گروہوں کے پاس فروخت کر دیا جاتا ہے۔
تاہم ان الزام کو ابھی تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔







