پاکستان اور انڈیا کا فائر بندی کے معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان اور انڈیا نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کم کرنے کے لیے 2003 کے فائر بندی کے معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے مابین ہاٹ لائن پر رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور انڈیا ایک دوسرے کے خلاف سرحدی خلاف ورزیوں اور اشتعال انگیزی کے الزام عائد کرتے رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ سنہ 2003 کے فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔
دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس میں بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے، امن کو یقینی بنانے اور سرحد کے قریب رہائش پذیر شہریوں کی مشکلات کم کرنے پر باہمی طور پر اتفاق کیا۔
اس بارے میں مزید جانیے
پاکستان کی قومی سلامتی کونسل نے بھی انڈیا اور پاکستان کے مابین سرحدوں پر ہونے والی کشیدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
2003 کا فائر بندی کا معاہدہ
پاکستان اور انڈیا کے مابین لائن آف کنڑول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کا معاہدہ نومبر 2003 میں اُس وقت طے پایا تھا جب پاکستان کے وزیراعظم ظفر اللہ جمالی نے قوم سے خطاب میں انڈیا کو اچانک جنگ بندی کی پیشکش کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔
انڈیا نے پاکستان کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا تھا اور اسے قبول کرتے ہوئے فائر بندی پر اتفاق کیا تھا۔
انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’دونوں ملکوں کے ڈی جی ملٹری آپریشنز آج رات سے بین الاقوامی سرحد، لائن آف کنٹرول اور سیاچین پر فائر بندی پر متفق ہیں۔‘
سرحدی کشیدگی کے واقعات اور ہلاکتیں
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں ستمبر 2016 میں فوج کے کیمپ پر حملے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔
رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں انڈیا کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کے 1050 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 28 عام شہری ہلاک ہوئے۔
گو کہ ان واقعات میں ہلاک ہونے والی فوجیوں تعداد بتائی نہیں گئی ہے لیکن جنوری میں انڈیا کی جانب سے سرحد پر اشتعال انگیزی کے واقعات میں چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ گذشتہ چند برسوں سے سرحدی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کے واقعات میں اب تک سو سے زائد عام شہری اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا کی وزرات خارجہ کے مطابق رواں سال کے دوران پاکستان کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کے 1250 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ سال 2017 میں سرحدی کشیدگی کے 971 واقعات رپورٹ ہوئے۔
فائر بندی پر اتفاق لیکن کب تک
منگل کو دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن پر ہونے والی بات چیت میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام معاملات ہاٹ لائن پر رابطے اور سرحد پر ہونے والی فلیگ میٹنگ میں حل کیے جائیں گے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا ہے۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے اعلی فوجی حکام نے ہاٹ لائن رابطہ کیا تھا۔
لیکن حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ ملاقات کافی اہمیت کی حامل ہے۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ اکرام ساہی کا کہنا ہے کہ سرحد پر جب بھی کوئی اہم واقعہ پیش آتا ہے تو یہ معمول ہے کہ ڈی جی ایم او ہاٹ لائن پر رابطہ کرتے ہیں اور واقعے کے بارے میں ایک دوسرے کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہیں۔
ماضی میں بھی ہاٹ لائن پر رابطے کے بعد لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات کم ہو جاتے ہیں لیکن کچھ عرصے کے بعد سرحدی خلاف ورزیوں کے واقعات دوبارہ شروع ہو جاتے ہیں۔
میجر جنرل ریٹائرڈ اکرام ساہی کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اس سطح پر ہونے والی بات چیت سے وقتی طور پر تو اعتماد کی فضا بحال ہوتی اور کشیدگی کم ہوتی ہے۔
انڈیا پاکستان اورعلاقائی صورتحال
پاکستان میں ان دنوں چین کا اثررورسوخ بہت بڑھ رہا ہے لیکن چین اور انڈیا کے مابین تعلقات بھی اب بہتر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ چین اور روس پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالات کو معمول پر لانے کے لیے دونوں ممالک کی حکومتوں سے رابطے میں ہیں۔
پاکستان میں اسلام آباد میں چند روز قبل ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں انڈیا کے چار رکنی وفد نے وزارت خارجہ کے ڈپٹی سیکریٹری کی سربراہی میں شرکت کی تھی۔
لیکن اچانک دونوں ممالک کے اعلی فوجی افسران کا رابطہ کیسے ممکن ہوا ہے، اس حوالے سے تجزیہ کار اکرام ساہی کا کہنا ہے کہ 'پاکستان کی خواہش ہے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے جائیں اس حوالے سے اگر پاکستان کے دوست ممالک کوئی کردار ادا کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔'
تجزیہ کار اکرام ساہی کے مطابق ’دونوں ممالک کے مابین حالات کو معمول پر لانے اور اعتماد سازی کے لیے ڈی جی ایم اوز کی ملاقات پہلا قدم ضرور ہے لیکن وسیع پیمانے پر بات چیت کے لیے دونوں ممالک کے سیاسی قائدین کو آگے آنا ہو گا۔‘










