فیض آباد آپریشن: ’ہماری نہ سہی وردی کی عزت تو رکھو ‘

اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو سب سے زیادہ چوٹیں پتھر لگنے کی وجہ سے آئی ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

'کاش وہ دن میری زندگی سے نکال دیا جائے جس دن میں پولیس میں بھرتی ہوا۔‘

یہ الفاظ اسلام آباد پولیس کے اس کمانڈو کے ہیں جن کو فیض آباد پر دھرنا دینے والے مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی دونوں ٹانگیں مختلف جگہوں سے توڑ دیں۔

اسلام آباد پولیس کے کمانڈو نے یہ الفاظ اس لیے نہیں کہے کہ دھرنا دینے والوں نے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ وہ آپریشن کے دوران اپنے سینئر افسران کی حکمت عملی اور بعد کے رویے سے مایوس تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس کمانڈو نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ ان کے بقول اگر نام بتا دیا تو پھر ان کے خلاف انکوائریاں کھل جائیں گی اور ہو سکتا ہے کہ نوکری سے بھی نکال دیا جائے۔

تبریز (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور نوکری کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان کمانڈوز میں شامل تھے جن کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ مظاہرین پر نہ صرف دھاوا بولنا ہے بلکہ اندیشۂ نقص امن کے تحت انھیں گرفتار بھی کرنا ہے۔

اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کے بقول پولیس کے جوانوں نے چاروں اطراف سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کر کے فیض آباد پل کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا اور مظاہرین کو پسپائی پر مجبور کر دیا تھا، لیکن پھر ناقص منصوبہ بندی اور بروقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے پسپائی ان فورسز کا مقدر بن گئی۔

زخمی ہونے کے بارے میں اپنی روداد سناتے ہوئے تبریز کا کہنا تھا کہ جب مظاہرین کی ایک تازہ دم کمک نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا تو آنسو گیس کا ایک شیل فیض آباد پل کی اس جانب آ گرا جہاں پر وہ اور دیگر کمانڈوز تعینات تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس آنسو گیس شیل کا دھواں بڑا خطرناک تھا اور ابھی وہ اس دھوئیں کے اثرات سے سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ مظاہرین کے ایک جتھے نے ان پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں ان سمیت پانچ دوسرے اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔

تبریز کے بقول ان کے ساتھی، جو اُنھیں وہاں سے اٹھا کر لائے تھے، کہتے ہیں کہ اگر حملہ آوروں کو ان کے ساتھی آواز نہ دیتے کہ دوسری طرف چلو تو شاید مظاہرین ان پولیس اہلکاروں کو ہلاک ہی کر دیتے۔

اسلام آباد دھرنا
،تصویر کا کیپشنیہ سامان پولیس اہلکاروں کو ان کی حفاظت کے لیے دیا گیا تھا

پولیس کمانڈو کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی ٹانگ ٹوٹنے کا افسوس نہیں ہے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ پولیس کے ذمہ دار افسران کی مصلحتوں کی وجہ سے وردی کا تقدس بحال کرنے کا اہم موقع ضائع کر دیا گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے گروپوں کو تقویت بخشی گئی جو شدت پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔

تبریز نے دکھ بھرے لہجے میں پولیس حکام کے رویے کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ زخمی ہونے کے بعد بھی ان کے علاج معالجے کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور ایک دو دن ہسپتال میں رکھنے کے بعد اُنھیں ایک ہفتے کی چھٹی پر گھر بھیج دیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کا کمانڈو اسرار تنولی
،تصویر کا کیپشناسلام آباد پولیس کے کمانڈو اسرار تنولی کی آنکھ پر چوٹ آئی ہے

اسلام آباد پولیس کے کمانڈو اسرار تنولی صوبہ خیبر پختونخوا کے قصبے اوگی کے رہائشی ہیں۔ آنکھ ضائع ہونے کے بعد ان کا اسلام آباد میں علاج کروانے کی بجائے انھیں آبائی علاقے بھیج دیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو سب سے زیادہ چوٹیں پتھر لگنے کی وجہ سے آئیں حالانکہ اُنھوں اس سے بچاؤ کے لیے ہیلمٹ اور ٹانگ کے نیچے والے حصے میں گارڈ بھی پہن رکھے تھے۔ لیکن مظاہرین کے پاس گول پتھر تھے جس کی رفتار زمین پر لگنے کے بعد بڑھ جاتی تھی۔

بات صرف اس کمانڈو سمیت مظاہرین کے ہاتھوں زخمی ہونے والے اسلام آباد پولیس اہلکاروں کی نہیں بلکہ راولپنڈی کے ان پولیس افسران کے جذبات بھی اس سے مختلف نہیں ہیں جنھیں دھرنا دینے والے مظاہرین نے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر سے اغوا کر لیا تھا اور بعد ازاں اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر امانت علی اور محمد اسلم کو ہسپتال سے اٹھایا گیا تھا۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ راولپنڈی میں قتل کے مقدمات کی تفتیش میں ماہر مانے جاتے ہیں۔

پنجاب پولیس کی وردی میں ملبوس ان پولیس اہلکاروں کو دھرنے کے مظاہرین ڈسٹرکٹ ہسپتال سے اغوا کرکے اپنے ساتھ فیض آباد کے مقام پر لے گئے جہاں پر دھرنا دینے والوں کی قیادت موجود تھی۔

اسلام آباد دھرنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان پولیس افسران کو ایک خیمے میں بند کر دیا گیا اور ان کے بقول مظاہرین نے نہ صرف اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اُنھیں جلانے کا بھی کہا گیا۔

بعدازاں جب مظاہرین اور حکومت کے درمیان معاہدہ ہوا تو اس کے بعد مظاہرین نے ان پولیس افسران کو قریبی جھاڑیوں میں پھینک دیا۔

سب انسپکٹر امانت علی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ پولیس افسران کی مداخلت سے رہا ہوئے ہیں تو انھوں نے غصے سے بھرے ہوئے لہجے میں کہا کہ ’اگر افسران نے مداخلت کی ہوتی تو ہماری یہ حالت ہوتی‘۔

ایک اور اہلکار تنویر احمد کا کہنا تھا کہ ان کو اس وقت اپنی بےبسی پر رونا آیا جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ مظاہرین میں ان افراد کو بھی پیسے دیے گئے تھے جو پولیس اہلکاروں پر تشدد کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ڈی جی رینجرز پنجاب نے حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد مظاہرین کو ایک ایک ہزار روپے بھی دیے تھے۔

راولپنڈی پولیس کے اہلکار کا کہنا تھا کہ قانون توڑنے والے ان مظاہرین کو شاید پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔

تنویر احمد نے اعلیٰ افسران سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری نہیں تو وردی کی عزت رکھو۔‘

دھرنا

،تصویر کا ذریعہEPA

جن مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے ان کے خلاف تھانہ گنج منڈی میں مقدمہ بھی درج ہے لیکن ابھی تک اعلیٰ حکام کی طرف سے ملزمان کو نہ صرف گرفتار کرنے کے احکامات نہیں دیے گیے بلکہ جتنے لوگ بھی گرفتار ہوئے ہیں انھیں رہا کرنے کے بارے میں بھی کہہ دیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس کے ایک سابق پولیس افسر چوہدری سلمان کا کہنا ہے کہ ’پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے اگر اسی طرح اس کی بےتوقیری کی جاتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پولیس ایسے حالات میں نہ صرف حکومت وقت بلکہ اپنے افسران کا حکم بھی ماننے سے انکار کر دے گی‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک طرف جہاں ریاست کی عمل داری کو یقینی بنانا ضروری ہے تو وہیں ان اداروں کا وقار بحال کرنے اور اُنھیں مکمل طور پر پشت پناہی فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد میں مظاہروں کو روکنے کے لیے ایک نئی فورس تشکیل دینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس جیسی دیگر فورسز کا انجام بھی اس وقت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا جب تک حکومت وقت اور پولیس کے اعلیٰ حکام لڑنے والے جوانوں کے پیچھے کھڑے نہیں ہوتے۔