اسلام آباد دھرنا: ’جس اہلکار کا جدھر منہ تھا وہ ادھر ہی بھاگ گیا‘

،تصویر کا ذریعہSTR
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر داخلہ احسن اقبال نے گذشتہ سنیچر اسلام آباد میں دھرنے کے خاتمے کے لیے کی گئی پولیس کی کارروائی کی ناکامی کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
تاہم کارروائی میں موجود کئی اہلکاروں سے گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ فورسز میں رابطے کی کمی اس دھرنے کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔
بی بی سی کو ملنے والی تفصیلات کے مطابق سنیچر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساڑھے پانچ ہزار اہلکاروں نے پیش قدمی شروع کی تو ان کے سامنے سپیشل برانچ کے اندازے کے مطابق سترہ سے اٹھارہ سو مظاہرین موجود تھے۔
دھرنے سے متعلق یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس آپریشن میں حصہ لینے والے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدا میں پولیس نے تیزی سے پیش رفت کی، آپریشن شروع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹے کے دوران پولیس کا ایک جتھہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سٹیج پر موجود رہنما خادم حسین رضوی سے محض پچاس فٹ کے فاصلے پر رہ گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے’ہم نے اس وقت مزید کمک کی لیے پیغام بھیجا لیکن بار بار کے اصرار کے باوجود ایسا نہیں ہوا‘۔
پولیس افسر کے بقول بعض اوقات تو یہ پیغام دیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی اپنے اپنے سیکٹرز میں موجودگی اہم ہے اس لیے کمک نہیں بھیجی جاسکتی۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
ایک پولیس افسر کے مطابق رینجرز کے کسی اہلکار نے بھی عملی طور پر مظاہرین کے خلاف آپریشن میں حصہ نہیں لیا اور وہ ایک سائیڈ پر ہی کھڑے رہے۔
پولیس افسر کے مطابق مظاہرین کے خلاف کارروائی چھ اطراف سے کی گئی جن میں زیرو پوائنٹ ، اسلام آباد کلب روڈ، فیض آباد بس سٹینڈ اور ائیرپورٹ سے اسلام آباد جانے والی سڑک شامل ہے۔
دھرنے سے متعلق یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ کارروائی اتنی مؤثر تھی کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ہی پولیس نے فیض آباد پل کے بڑے حصے کو مظاہرین سے خالی کروالیا تھا اور اس دوران درجنوں مظاہرین کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔
اس آپریشن میں حصہ لینے والے ایک اور پولیس افسر کے مطابق پولیس جب مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کرتی تھی تو مظاہرین فوری طور پر اپنے خیموں کو آگ لگا دیتے تھے اور ان خیموں کے دھوئیں کی وجہ سے آنسو گیس کی شیلنگ کا اثر ختم ہو جاتا تھا۔
پولیس افسر کے مطابق شیلنگ کی وجہ سے جو مظاہرین مری روڈ راولپنڈی کی جانب بھاگے تھے ان کے بارے میں پنجاب پولیس کی طرف سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ آیا اُنھیں گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں۔
پولیس افسر کے مطابق کچھ دیر کے بعد اسلام آباد ہائی وے پر ڈھوک کالا خان سٹاپ سے فیض آباد اڈے کی طرف اوپر جانے والی سڑک سے اچانک سینکٹروں پولیس اہلکار فیض آباد پل کی طرف بھاگنا شروع ہوگئے اور ایک لمحے کے لیے تو ایسا لگا کہ جیسے یہ پولیس اہلکار خادم حسین رضوی اور دیگر قیادت کو گرفتار کرنے کے لیے آرہے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے نظر آگیا کہ حالات نے پلٹا کھایا ہے اور اب دھرنے والے پولیس والوں کے پیچھے ہیں۔
پولیس افسر کے مطابق پولیس اہلکاروں کا پیچھا کرنے والے ’مظاہرین‘ اتنے تربیت یافتہ تھے کہ اُنھوں نے چند لمحوں میں ہی گیم بدل ڈالی اور کچھ دیر کے بعد مظاہرین کا دوبارہ فیض آباد پل پر قبضہ ہوگیا۔

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM
پولیس افسر جو خود بھی مظاہرین کی طرف سے کیے جانے والے پتھراؤ سے زخمی ہوئے ہیں، کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے پاس بھی آنسو گیس کی شیلنگ کرنے والی گنز تھیں اور ان کے پاس آنسو گیس کے ایسے شیل تھے جس کا دھواں دونوں اطراف سے نکلتا تھا اور یہ آنسو گیس کے شیل سرکاری شیل سے زیادہ خطرناک تھے۔ ان مظاہرین کے پاس آنسو گیس سے بچنے کے لیے ماسک بھی موجود تھے۔
ان کے مطابق ہر سیکٹر کا انچارج اپنے زیر کمان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو واپس آنے کا حکم دے رہا تھا لیکن ریجنرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار فوری طور پر آپریشن والی جگہ پر جانے کو تیار نہیں تھے۔ اس دوران جس اہلکار کا جدھر منہ تھا وہ ادھر ہی بھاگ گیا۔
پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ لاؤڈ سپیکر سے جہاں کچھ دیر پہلے پولیس اہلکاروں سے شیلنگ نہ کرنے کی التجا کی جارہی تھی وہیں سے اب مظاہرین کو پولیس والوں پر حملہ کرنے کے پیغامات جاری کیے جارہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
اسی دوران ان مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کیا۔
مظاہرین کے پولیس اہلکاروں پر حملوں اور پتھراؤ کی وجہ سے اسلام آباد پولیس کے 93 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ راولپنڈی کی جانب مری روڑ پر پنجاب پولیس کے اہلکار موجود تھے لیکن ان میں سے صرف پانچ اہلکاروں کی اطلاع پولیس کنٹرول پر دی گئی تھی۔
مظاہرین کے خلاف آپریشن کے دوران تین سو کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا۔
حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت بھی بظاہر اس آپریشن کی ناکامی پر وزیر داخلہ سے نالاں ہے اور ان سے اس بارے میں وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔
وزیر داخلہ دھرنا دینے والوں کے خلاف کارروائی سے پہلے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ آپریشن کے ذریعے فیض آباد کا علاقہ تین گھنٹوں میں خالی کروالیا جائے گا لیکن حقائق بالکل اس کے برعکس نکلے۔










