نواز شریف کی تین ریفرنس یکجا کرنے کی درخواست مسترد

نواز

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سے تین ریفرنس کو یکجا کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

جمعرات کے روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاناما لیکس میں عدالتی فیصلے میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کے خلاف سابق وزیر اعظم کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراٰضات پر سماعت اپنے چیمبر میں کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ درخواست گزار کی طرف سے خواجہ حارث چیف جسٹس کے چیمبر میں پیش ہوئے اور انھوں نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ معاملہ مالی امور سے متعلق ہے اس لیے ان تینوں ریفرنس کو یکجا کرکے ایک ہی ریفرنس چلانے کا حکم دیا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ متعدد گواہان ان تینوں ریفرنس میں ایک جیسے ہیں اس کے علاوہ ان کا مذید کہنا تھا کہ ان تینوں ریفرنس میں لگائی جانے والی فرد جرم کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

چیف جسٹس نے نواز شریف کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے یہ اعتراضات اُٹھائے تھے کہ پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل پر بھی فیصلہ آچکا ہے جو کہ حتمی ہے اس لیے کسی بھی حتمی فیصلے کے خلاف کوئی آئینی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔'

واضح رہے کہ سپریم کورٹ پاناما لیکس سے متعلق اپنے 28 جولائی کے فیصلے میں نہ صرف سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دے چکی ہے بلکہ قومی احتساب بیورو کو نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف تین ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔

میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف دبئی میں گلف سٹیل ملز کے قیام ، لندن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے ریفرنس شامل ہیں جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر ایون فیلڈ پراپرٹیز میں ملزمان ہیں۔

سابق وزیر اعظم نے نام لیے بغیر سپریم کورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ججز بغض سے بھرے بیھٹے ہیں اور اُنھیں سزا دی نہیں جارہی بلکہ دلوائی جارہی ہے۔

اس سے پہلے احتساب عدالت نواز شریف اور ان کے بچوں کی طرف سے ان درخواستوں کو یکجا کرنے کی درخواستوں کو مسترد کرکے سابق وزیر اعظم ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے فرد جرم عائد کرچکی ہے۔

احتساب عدالت کے اس فیصلے کے خلاف نواز شریف کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت 20 نومبر کو ہوگی۔