نواز شریف: سزا دی نہیں جا رہی، دلوائی جا رہی ہے

،ویڈیو کیپشن نواز شریف نے کہا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ انھیں سزا دی نہیں جا رہی دلوائی جا رہی ہے

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انھیں 'سزا دی نہیں جا رہی، دلوائی جا رہی ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاناما کیس پر دائر ریویو پٹیشن کے دوران جو زبان استعمال کی گئی ہے ایسے لگتا ہے کہ یہ زبان سیاسی مخالفین کی ہے۔ ‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ سنہ 1999 میں طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں بھی انہیں سزا دلوائی گئی اور ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احتساب کہیں اور سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کی جانب سے ایک ہفتے کے لیے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کر لی۔

نواز شریف کی جانب سے 20 سے 27 نومبر تک حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ انھیں اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن جانا ہے۔

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے ایک ماہ کے لیے حاضری سے استثنی کی درخواست کو بھی منظور کر لیا گیا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر چار گواہان کو پیش ہونے سے متعلق نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بدھ کو احتساب عدالت میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب ریفرنسز میں عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا اور نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر عدالت میں پیش ہوئے۔

نواز شریف پر آٹھ نومبر کو تین نیب ریفرنسز میں براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ عدالت نے آٹھ نومبر کو ہی نواز شریف کی جانب سے دائر ریفرنسز کو یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی تھی۔

نواز شریف عزیز اسٹیل ملز،ایون فیلڈ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نامزد ملزم ہیں۔

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گواہوں کے بیانات

عدالت نے استغاثہ کے دو گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے۔ ایس ای سی پی کی سدرہ منصور نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان قلمبند کروایا جبکہ عدالت نے ایف بی آر کے جہانگیر احمد کو بھی بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا تھا۔

ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ وہ 18 اگست 2017 کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئیں اور نیب کی طرف سے مانگی گئی دستاویزات تفتیشی افسر کو پیش کر دیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’نیب کو دی گئی دستاویزات پر میرے دستخط اور انگوٹھے کا نشان موجود ہے اور نیب کو دی گئی دستاویزات میں کورنگ لیٹر کے ساتھ کمپنیوں کی سالانہ آڈٹ رپورٹس شامل ہیں۔‘

گواہ سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ „نیب کو حدیبیہ پیپر ملز کی 2000سے 2005 تک کی آڈٹ رپورٹ پیش کی تھی۔

اس موقع پر وکیل صفائی نے سدرہ منصور کی فراہم کردہ دستاویزات پر اعتراض اٹھایا کہ یہ فوٹو کاپیاں ہیں اصل نہیں۔ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے مطابق فوٹو کاپیوں ہی کی ضرورت ہوتی ہیں۔

نواز شریف کے وکیل نے ان دستاویزات کی نقول پر کمپنیز کی مہر یا سیل موجود نہ ہونے اور کمپنیز کا کورنگ لیٹر کی عدم موجودگی پر بھی اعتراض اٹھایا۔ تاہم گواہ سدرہ منصور نے کہا یہ سب ضروری نہیں۔

اس موقعے پر مریم نواز کی طرف سے دائر کی گئی ایک درخواست میں ان کی جانب سے پیشی کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی بھی استدعا کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ایمرجنسی کی صورت میں مریم نواز کی عدم پیشی پر نمائندے کو پیشی کی اجازت دی جائے۔