نئی کابینہ پر نواز شریف کی چھاپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد
نو منتخب وفاقی کابینہ پر ایک طائرانہ نظر دو باتیں ظاہر کرتی ہے کہ ایک یہ کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی نئی ٹیم پر نواز شریف کی شخصیت کی چھاپ نمایاں ہے اور دوسری یہ کہ یہ انتخابی کابینہ ہے۔
جمعے کے روز حلف اٹھانے والی 43 رکنی کابینہ میں 27 وفاقی وزرا اور 16 وزرائے مملکت شامل ہیں۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اس کابینہ میں بیشتر لوگ تو نواز شریف کی کابینہ سے ہی لیے گئے ہیں لیکن بعض نئے نام بھی اس کابینہ میں شامل ہیں۔
لیکن جس طرح سے بعض اہم شخصیات کے عہدوں میں رد و بدل کیا گیا ہے وہ خاصا دلچسپ اور مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کے مزاج اور پالیسیوں کا مظہر ہے۔
مثلاً خارجہ، دفاع اور داخلہ ان تین افراد کو دی گئی ہے جو نواز شریف کے بہت قریبی اور قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔
خواجہ آصف، خرم دستگیر خان اور احسن اقبال یہ تینوں وہ لوگ ہیں جن کے نام نواز شریف کی رخصتی کے بعد وزارت عظمیٰ کے لیے زیر غور آئے تھے اور نواز شریف ان میں سے کسی کو بھی وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب کر سکتے تھے۔
ان تینوں شخصیات کے بارے میں پارٹی کے اندر یہ تاثر بہت عام ہے کہ یہ حضرات نواز شریف کے ’یس مین‘ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان تینوں شخصیات کو ایسے عہدے دینا جن کا کسی نہ کسی سطح پر فوج کے ساتھ براہ راست تعلق بنتا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ نواز شریف فوج کے ساتھ معاملات میں کتنے حساس ہیں اور یہ معاملہ اب بھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔
لاھور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی فرخ سعید خواجہ کے مطابق ان تین افراد کو اہم اور حساس ترین عہدے دینا ثابت کرتا ہے کہ حکومت ’محاذ آرائی‘ کے راستے پر جا رہی ہے۔
’جو چیز ان تینوں میں مشترک ہے وہ جدوجہد ہے۔ خواجہ آصف، احسن اقبال اور خرم دستگیر خان تینوں مشکل وقت میں کھڑے رہنے والے اور جدوجہد کرنے والوں میں سر فہرست ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو لانا اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہتھیار نہیں ڈالنے۔‘
پاناما مقدمے میں روزانہ کی بنیادوں پر حکومت کا دفاع کرنے والے طلال چوہدری کو وزیرمملکت برائے داخلہ تعینات کرنا بھی اہم واقع ہے۔ طلال چوہدری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم سے زیادہ ان کی صاحبزادی مریم صفدر کے قریب ہیں۔ یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ طلال چوہدری اپنے پیش رو بلیغ الرحمٰن کی طرح بے اختیار وزیر مملکت نہیں ہوں گے۔
اس کابینہ میں ایک اور بات جو بہت نمایاں دکھائی دے رہی ہے وہ جنوبی پنجاب کی غیر معمولی نمائندگی ہے۔ اس 43 رکنی کابینہ میں جنوبی پنجاب سے کم از کم آٹھ وفاقی اور وزیر مملکت شامل ہیں۔
نواز شریف کی کابینہ میں جنوبی پنجاب سے صرف دو وزیر شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی پنجاب کے جن علاقوں اور سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کو اس کابینہ شامل کیا گیا ہے وہ بتاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ عام انتخابات میں جنوبی پنجاب کو کتنی زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔
مثال کے طور پر رحیم یار خان سے خسرو بختیار اور بیرسٹر ارشد خان لغاری جبکہ بہاولپور سے بلیغ الرحمٰن اور ریاض حسین پیرزادہ کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان حافظ عبدالکریم اور اویس لغاری کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
ملتان کے صحافی شریف جوئیہ کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب کی حد تک یہ کابینہ ’انتخابی کابینہ‘ کا تاثر دے رہی ہے۔
’مسلم لیگ نون وسطی پنجاب کی حد تک تو کافی حد تک انتخابات کے لیے تیار ہے لیکن جنوبی پنجاب میں ابھی انہیں بہت کام کرنا ہوگا اور اتنی بڑی تعداد میں وفاقی کابینہ میں نمائندگی اسی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اس علاقے میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کا کافی اثر و رسوخ ہے اور پیپلز پارٹی بھی کچھ نہ کچھ اثر رکھتی ہے۔ حکومت ان وزرا کے ذریعے اس علاقے میں خوب ترقیاتی فنڈز استعمال کرے گی اور انتخابات میں ان فنڈز کے ذریعے اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کرے گی۔"
فرخ سعید خواجہ اس رائے سے بھی اتفاق کرتے ہیں لیکن اس میں ایک نکتے کا اضافہ بھی کرتے ہیں۔
’جنوبی پنجاب سے شامل کیے جانے والوں کے ناموں پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ان میں بعض ایسے لوگ شامل ہیں جو یا تو اتحادی جماعتوں سے ہیں، کسی دوسری پارٹی سے آئے ہیں یا ان کے بارے میں اطلاعات آ رہی تھیں کہ وہ پارٹی بدلنے والے ہیں۔‘
فرخ سعید خواجہ کے مطابق ایسے لوگوں کو شامل کرنے کا مقصد نہ صرف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ با اثر سیاسی لوگ انتخابات میں کام آئیں بلکہ اس سے پہلے اگر پارٹی پر مشکل وقت آتا ہے تو ثابت قدم رہ کر پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں۔










