’45 دن میں 45 مہینوں کا کام کروں گا‘

شاہد خاقان عباسی

،تصویر کا ذریعہAFP

پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں نتائج کے اعلان کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ وہ آئے تو 45 دن کے لیے ہیں لیکن وہ کام 45 مہینوں کا کریں گے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی تو حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار شاہد خاقان عباسی نے 221، پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے 47 جبکہ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید نے 33 ووٹ حاصل کیے۔

سپیکر کی جانب سے نتائج کے اعلان کے بعد جب شاہد خاقان عباسی سے خطاب کرنے کو کہا گیا تو اس وقت اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے تقریباً تمام ارکان سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصاویر لیے موجود تھے۔

اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں 'عوام کے وزیراعظم نواز شریف کا شکرگزار ہوں جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمیں روز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔‘

نومنتخب وزیر اعظم نے کہا کہ '30 سال سے نواز شریف کے ساتھ ہوں، گواہی دیتا ہوں نواز شریف نے کبھی کرپشن کا نہیں کہا جبکہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔'

اپنے خطاب کے دوران جب وہ سابق وزیر اعظم کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ایل این جی پر بات کرنے لگے تو ایوان میں کہیں سے ان کے خلاف ایل این جی کے معاہدے میں بے ضابطگیوں کے بارے میں قومی احتساب بیورو میں ایک انکوائری کا حوالہ دیا گیا جس پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا: ’بیٹا اس پر بات کرنے کے لیے میں ہر وقت حاضر ہوں۔‘

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ 'پارلیمانی ارکان کی ٹیکس ڈائریکٹری دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، ٹیکس دینا قانونی ذمہ داری ہے، ہم نے ٹیکس نہ دینے والوں کے پیچھے جانا ہے، جو ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس دینا پڑے گا اور ہر ایک کو اپنے طرز زندگی کی وضاحت کرنی ہوگی۔‘

شیخ رشید

،تصویر کا ذریعہAFP

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، دنیا میں کسی شخص کو خودکار اسلحے کا لائسنس نہیں دیا جاتا، ہم بھی خودکار اسلحے کا لائسنس ختم کریں گے۔'

نو منتخب وزیراعظم کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے سید نوید قمر کو خطاب کرنے کی دعوت دی تو ساتھ میں ان سے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے اور شاہد خاقان عباسی کے یونیورسٹی دور کے بارے میں بھی ضرور بتائیں۔

جس پر سید نوید قمر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’شاہد خاقان عباسی نے یونیورسٹی دور کا ذکر تو کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ سٹوڈنٹ یونین کا صدر میں تھا اور شاہد خاقان عباسی جنرل سیکریٹری تھے۔‘

پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم کی سیٹ کے لیے حمایت حاصل کرنے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید جو 33 ووٹ حاصل کر سکے نے بھی ایوان میں گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر نو منتخب وزیراعظم خارجہ پالیسی پر بھی بات کرتے تو اچھا ہوتا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے وزیراعظم ملک کو اسلحے سے پاک کرنا چاہتے ہیں تاہم یہ اتنا آسان نہیں۔